ستائی ہوئی عورت کا پیٹرول چیک کرنے والے دماغ کا سٹی سکین کیا کہتا ہے

اب سمجھنے کی جو اصل بات ہے وہ یہ ہے کہ شہر کے محافظ نے موٹروے پر ہونے والے واقعے پر جو فرمایا، اگر یہ اُس کا اپنا کوئی خیال ہوتا تو چلو کوئی بات تھی۔ ہم بھول رہے ہیں کہ جناب نے جو فرمایا ہے وہ ہمارے اجتماعی شعور کا خلاصہ کلام ہے۔

(اے ایف پی)

آپ کے گھر ڈکیتی کی واردات ہو گئی ہے۔ جائے واردات کا جائزہ لینے کے لیے پہنچنے والی پولیس جرم کی بات کر رہی ہے اور نہ مجرم کے قدم کے نشان ڈھونڈ رہی ہے۔

اس کی بجائے پولیس آپ کو بتا رہی ہے کہ اِس واردات کے خود آپ کتنے ذمہ دار ہیں۔ آپ کو بتایا جا رہا ہے کہ دروازہ واردات سے پہلے ٹھیک سے بند نہیں تھا۔ لاک جاپانی ہونا چاہیے تھا آپ نے میڈ ان چائنا لگایا ہوا تھا۔ گلی میں تین گارڈ ہونے چاہیے تھے آپ لوگوں نے ایک رکھا ہوا تھا۔ یہ سب دیکھ کر آپ کو کیسا لگے گا؟

آپ شام دفتر سے نکلے اور گھر پہنچے۔ گاڑی گھر کے دروازے پر لگائی، گھر گئے، کپڑے بدلے، کچھ کاغذات اٹھائے، اگلی سرگرمی کے لیے آدھے گھنٹے بعد نکلے تو گاڑی غائب تھی۔ اب پولیس پہنچی ہے تو وہ مجرم پر اور جرم پر کوئی سوال نہیں ہورہا۔ الٹا آپ سے پوچھا جا رہا ہے کہ جناب، آپ نے فلاں والا چور لاک کیوں نہیں لگایا؟ گھر میں پارکنگ موجود تھی تو گاڑی باہر کیوں کھڑی کی؟ اگر باہر کھڑی کربھی لی تو ساتھ ایک بندہ کھڑا کیوں نہیں کیا۔ یہ سب سن کر آپ کا احساس کیا ہو گا؟

 آپ کا بچہ شام دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے سامنے والے پارک میں گیا اور اغوا ہو گیا۔ محافظ پہنچے تو ہر سوال سے بڑھ کر اہم سوال یہ بن گیا ہے کہ جب آپ کو پتہ ہے کہ یہ فرانس نہیں ہے بلکہ مملکتِ اللہ داد پاکستان ہے تو پھر آپ نے بچے کو کھیلنے کے لیے باہر جانے کیوں دیا۔ چلو اگر جانے دے بھی دیا تو اکیلے کیوں جانے دیا؟ گھر سے کسی بڑے کو اس کے ساتھ کیوں نہیں بھیجا۔ یہ سارے قضیے قلابے سن کر آپ کیا سوچیں گے؟

اب سوال کو ذرا سا بدل کر بھی معاملے کو دیکھ لیجیے۔ کیا ڈکیتی کی واردات پر، گاڑی کی چوری پر یا بچے کے اغوا پر کوئی محافظ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ گلی میں گارڈ کیوں نہیں تھا، دیوار پر کیمرے کیوں نہیں تھے، گاڑی باہر کیوں تھی اور بچہ اکیلا کیوں تھا۔ یا کسی مرد کی کمائی رات گئے شادی سے واپس آتے ہوئے لٹ جائے تو کیا کوئی کہتا ہے کہ شادی پر جانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

کہنے والے اب کہہ رہے ہیں کہ موٹر وے پر اجتماعی زیادتی کا جو واقعہ ہوا اس میں کہیں نہ کہیں جھوٹ ہے۔ یہ کہنے والے دراصل یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خدا کرے کہ یہ واقعہ جھوٹ نکلے تاکہ ریاست کے والی نے پولیس میں جو ٹیپو سلطان متعارف کرایا ہے اس کا کچھ بھرم رہ جائے۔ ساتھ کے سازندے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جناب نے متاثرہ عورت کو الزام نہیں دیا بلکہ اس نے تو بس ایک واقعے کی روداد سنائی ہے۔

یہاں پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ جب آپ روداد سناتے ہوئے متاثرہ شخص کی عقل کا ماتم کرتے ہیں، اس کے کسی کیے پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں اور اس کو متبادل اوقات اور راستے تجویز کرتے ہیں تو آپ دراصل روداد نہیں سنا رہے ہوتے۔ آپ رائے زنی کر رہے ہوتے ہیں اور سیدھے سبھاؤ الزام دھر رہے ہوتے ہیں۔

سمجھنے کی دوسری بات یہ ہے کہ جناب کو حکومت نے شہر کا ناصح نہیں لگایا کہ وہ لوگوں کو جینے مرنے کے آداب سکھائیں۔ خبری بھی نہیں لگایا کہ میڈیا پربیٹھ کر دن بھر کی تازہ خبریں سنائیں۔ کسی تھنک ٹینک کا سربراہ بھی نہیں لگایا کہ قانون کی کمی بیشیوں پر گراں قدر تجزیے ارزاں کریں۔ رہبر بھی نہیں لگائے گئے کہ لوگوں کو سجے کھبے کی رہنمائی فراہم کریں۔ جناب کو شہر کا محافظ لگایا گیا ہے، جو لُوٹے گئے اُس شہری کے سوال کا بھی مقروض ہے جو گھر سے پیٹرول کا کانٹا دیکھ کر نہیں نکلا تھا۔ اُس شہری کے لیے بھی جوابدہ ہے جو شارٹ کٹ سے جانے کی بجائے ناگمان سے موڑ کاٹ کے گھر جارہا ہے۔

اب سمجھنے کی جو اصل بات ہے وہ یہ ہے کہ شہر کے محافظ نے موٹروے پر ہونے والے واقعے پر جو فرمایا، اگر یہ اُس کا اپنا کوئی خیال ہوتا تو چلو کوئی بات تھی۔ ہم بھول رہے ہیں کہ جناب نے جو فرمایا ہے وہ ہمارے اجتماعی شعور کا خلاصہ کلام ہے۔ یہ ہمارا ہی وطیرہ ہے کہ ہم عورت ذات کو ایک خاص وقت، ایک خاص راستے، ایک خاص بود وباش، ایک خاص چال چلن، ایک خاص رہن سہن، ایک خاص طریقہ گفتار اور ایک خاص بندو بست کا پابند رکھتے ہیں۔

یہ ہماری ہی روایت ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی میں پہلے اُس کے اپنے قصور کی نشاندہی کرتے ہیں پھر اصل مدعے کی طرف آتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ اگر ہے، تو پھر ظاہر ہے کہ ہماری بنیادی تعلیم میں کہیں کوئی کوتاہی رہ گئی ہے۔ اگر نہیں، تو پھر ہم اپنے ہی سامنے پیدا ہونے والے کچھ حالات و واقعات کا جائزہ لے لیتے ہیں۔

پنجاب حکومت نے ایک موقعے پر یہ فرمان جاری کیا کہ ہماری جامعات میں جو بچیاں حجاب کریں گی انہیں امتحان میں پانچ اضافی نمبر دیے جائیں گے۔ اگر چہ یہ اعلان پھر واپس لے لیا گیا مگر بتانے کے لیے یہ بات کافی تھی کہ ہم اُن خواتین سے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں جو حجاب نہیں لیتیں۔ ان کے درجات میں سے پانچ اضافی نمبر کاٹ کر ہم نے ایک تو یہ ثابت کیا کہ مرتبے میں وہ حجاب والی طالبہ سے کم ہے اور دوسرا یہ کہ اس کے ساتھ اب جو بھی برا ہوگا وہ اُس کی مستحق ہوگی۔ کل کلاں کو کسی مردِ ناہنجار نے اس سے کوئی چھیڑ خانی کر دی تو کوتوال مجرم کا تعاقب کرنے کی بجائے الٹا لڑکی سے کہنے میں حق بجانب ہو گا کہ اور کرو بے پردگی۔

ابھی پچھلے سال ہی پختونخوا میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کچھ واقعات سامنے آئے تو صوبائی حکومت حساس ہو گئی۔ اتنی حساس ہو گئی کہ ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے سکول کی کمسن بچیوں پر عبایا لازم کر دیا گیا۔ اس کا کیا مطلب تھا؟ اس کا سیدھا سادہ وہی پیٹرول والا مطلب تھا۔ یعنی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ریاست تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ سماج میں جنسی گھٹن کسی نامعلوم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ مرد اب اپنے جامے اور پاجامے سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ مسئلہ تو کُل ملا کر یہ ہے کہ کمسن بچیوں نے اپنا جسم ڈھانپ کر نہیں رکھا ہوا۔ اگر وہ جسم ڈھانپ لے تو نہ صرف یہ کہ سیکیورٹی ٹھیک ہوجائے گی بلکہ بیچارے مرد سے بھی آپ کو کوئی شکایت نہیں رہے گی۔

یہ دو مثالیں تو وہ ہیں جس میں ہمارا اجتماعی شعور عورت کو گھما پھرا کر اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہوتا ہے۔ ہم براہ راست کس طرح عورت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں، اس کے لیے آپ پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کو سامنے رکھ لیجیے۔ آپ پاکستان میں خواتین کی کرکٹ ٹیم کو کسی بھی سرچ انجن پر سرچ کریں آپ کے سامنے سب سے پہلے ان کی کارکردگی نہیں آئے گی، کوئی جنسی سکینڈل آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی ذات میں جنس کے علاوہ کوئی حوالہ ڈھونڈنے میں ہمیں خاصی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ تمام سرچ انجنز کے خود کار نظام نے جنسی حوالوں کو نمایاں کر دیا ہے تاکہ پاک سرزمین کے ماہرینِ جنسیات کو تحقیق اور مطالعے میں کسی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جس شخص کے گھر پر تہذیبِ مشرق کا جھنڈا جتنا بلند ہوتا ہے، نظر اس کی اتنی ہی گہری ہوتی ہے۔ کچھ برس پہلے ایک ٹیلی کام کمپنی کے اشتہار میں خاتون بالر کو دوڑتے اور گیند کراتے ہوئے دکھایا گیا تو خطاکاروں کی نظر گیند کرانے پر اور اشتہار پر ہی رہی۔ اس بات تک پہنچنے کا اعزاز صرف اور صرف صحافتِ اسلامیہ کے دو پاک باز اخبار نویسوں کو ہی حاصل ہوا کہ گیند کراتے ہوئے خاتون کے جسم کے کون کون سے زاویوں نے انسانی جذبات کا امتحان لیا۔ یہ معاملہ ان کے لیے اس قدر سنجیدہ ہوگیا تھا کہ انہیں درجنوں پروگرام کرنے پڑے اور بیسیوں کالم لکھنے پڑے۔

سرچ انجن پر جب ویمن کرکٹ ٹیم کا سکینڈل سامنے آئے تو آپ دیکھیں گے کہ کچھ کرکٹروں ٹی وی پروگراموں میں شکایات کا دفتر کھول کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ ہماری مینیجمنٹ ہمیں ہراساں کرتی ہے۔ ہمارا سیلیکٹروں انتخاب کے لیے کچھ تقاضے سامنے رکھتے ہیں۔ جو تقاضوں پر پورا اترنے کی یقین دہانی کرائے وہ منتخب ہوجاتی ہے۔ جو تقاضوں کو خاطر میں نہ لائے وہ بد تمیز اور نا اہل قرار دے دی جاتی ہے۔ یا تو وہ ٹیم میں رکھی ہی نہیں جاتی، رکھ لی جائے تو نمائندگی کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب ان کرکٹروں کی شکایات پر مینیجمنٹ کی کیا رائے ہے، وہ تو رکھ دیجیے ایک طرف۔ آپ یوٹیوب پر یہ وڈیو سامنے رکھیں، ساتھ ہی قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں میں چھپنے والی یہی خبریں سکرین پر پھیلائیں اور پوری تسلی کے ساتھ نیچے قارئین کے تبصرے پڑھنا شروع کر دیں۔ قارئین کی اکثریت جو فرمائے اُس کا ایک سطر میں خلاصہ نکالیے۔ سیدھی اور آسان بھاشا میں اُس کا خلاصہ یہی نکلے گا ’اسی لیے تو کہتے ہیں کہ گھروں میں رہو، نکلنے کا بہت شوق تھا تو بھگتو اب۔‘ اب یہ کیا بات ہوئی؟ یہ وہی گاڑی میں جھانک کر پیٹرول کا کانٹا چیک کرنے والی بات ہوئی۔

جب بھی جنسی تشدد کی کوئی انتہائی واردات سامنے آتی ہے تو ہم اپنے اجتماعی شعور کو اس طرح بچاتے ہیں جیسے تیز ہوا چلنے پر اڑتے ہوئے اوراق بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پہلی سانس میں مجرم کو سرِ عام لٹکانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگلی ہی سانس میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ سب تہذیبِ مشرق سے دوری کا نتیجہ ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ سب تہذیبِ مشرق سے دوری کا نتیجہ ہے، تو ہم در اصل جرم کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں۔ مجرم سے باواز بلند لاتعلق ہو جاتے ہیں تاکہ یہ بات ریکارڈ پر آجائے کہ ہم نے اس واقعے کی حمایت نہیں کی۔ مجرم ہی کی عبرت ناک سزا پر زور اس لیے بھی دیتے ہیں کہ زمانے کی نظر مجرم پر لگ جائے اور جرم خاموشی سے بچ بچا کے نکل جائے۔

 ایسے میں اگر فہم کا مارا ہوا کوئی انسان کہہ دے کہ سرِ عام پھانسیاں دینا مسئلے کا حل نہیں ہے تو تہذیبِ مشرق کے یہ سارے ثنا خوان ایک زبان ہوکر کہہ دیں گے کہ یہ دیکھو، یہ ہے وہ ذہنیت جس کی وجہ سے جنسی درندگی کے ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ بہت غور سے دیکھنے پر آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ تو وہی لوگ ہیں جن میں طالبان کے مخالف تو بہت ملتے ہیں مگر طالبانیت کے مخالف بہت ڈھونڈنے پر بھی ایک آدھ ہی نکلتا ہے۔

مسئلے کی قانونی اہمیت اپنی جگہ، مگر ہمارا بحران فکر کا بحران ہے۔ وہ فکر جس نے ہمارے ریوں کو برسوں کی محنت سے پدر سرانہ خطوط پر استوار کیا ہے۔ سزاؤں سے اس جرم پر تو قابو پایا جا سکتا ہے جس جرم کو خود مجرم بھی اصولی طور پر جرم ہی سمجھتا ہو۔ ان جرائم کا کیا کریں گے جنہیں ہمارا اجتماعی شعور سرے سے جرم ہی نہیں سمجھتا۔ پھر اُن جرائم کا کیا کریں گے جو ہم کارِ ثواب سمجھ کر انجام دیتے ہیں؟

ہم اگر اپنے سیکھے اور پڑھے ہوئے پر دل سے نظر ثانی کرلیں تو وہ وہ عورت بھی محفوظ ہوجائے گی جو گھر سے نکلتے ہوئے پیٹرول چیک نہیں کرتی۔ اگر ہم اپنے روایتی آموختے سے ہی چمٹے رہیں گے تو پیٹرول چیک کرکے نکلنے والی خاتون کی عزت بھی خطرے کی سولی پر لٹکی رہے گی۔

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ