اسرائیل میں انتخابات: کیا نتن یاہو تاریخ رقم کر سکیں گے؟

ووٹنگ ختم ہونے کے بعد گنتی شروع، موجودہ وزیر اعظم نتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ بينی گنتس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع۔

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو یروشلم میں اپنی بیوی سارہ کے ہمراہ ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے۔  تصویر: اے ایف پی 

اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کے رہنما بِن یامن نتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ بينی گنتس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

اگرچہ نتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات ہیں مگر سیاسی پنڈتوں کے نزدیک وہ اپنی سخت گیر اور یہود نواز پالیسیوں کے باعث دوسری بار وزیراعظم کے عہدے پر منتخب ہو سکتے ہیں۔

نتن یاہو اپنی انتخابی مہم کے دوران مقبوضہ غربِ اردن میں قائم یہودی بستیوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ختم ہو جائے گا جبکہ ابتدائی نتائج بدھ کی صبح تک متوقع ہیں۔

فوج کے سابق سربراہ بینی گینتس نے وزیر اعظم کی سکیورٹی پالیسیوں کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے ہمیشہ تقسیم کی سیاست کی اور ملک کی ساکھ کو عالمی سطح پر جو نقصان پہنچایا وہ اسے ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

بینی نے اپنے آبائی شہر روش هاعين میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد کہا کہ وہ نئے راستے پر شہریوں کی بھلائی کے لیے کھڑا ہونے پر خوش ہیں۔

’ہم جمہوریت کا احترام کریں گے اور دوسری جانب سے بھی اسی احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، نتن یاہو نے یروشلم میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد اسرائیلیوں پر زور دیا کہ وہ ’اچھا انتخاب کریں۔‘

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ووٹینگ ایک مقدس عمل ہے اور جمہوریت کی بنیاد بھی۔ ہمیں اس کے لئے شکر گزار ہونا چاہئے۔ خدا کی مرضی سے اسرائیل جیت جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ انتخابات کئی حوالوں سے 69 سالہ نتن یاہو کے لیے ریفرنڈم کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نےعوامی رائے میں خود کو ملک کی سکیورٹی اور اقتصادی ترقی کے ضامن کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن عوامیت پسندی اور مبینہ بدعنوانی کے الزامات سے بہت سی تبدیلیوں کا بھی امکان ہے۔

ناقدین کے نزدیک ان کی شدت پسندانہ بیان بازی اور عرب اسرائیلیوں کے ساتھ برتاؤ  بڑے مسائل ہیں۔

نتن یاہو نے انتخابات سے صرف تین دن قبل انتہائی متنازعہ اعلان کیا جس کے مطابق وہ مقبوضہ غرب اردن میں یہودی بستیوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

غرب اردن میں اسرائیلی حاکمیت کے پھیلاؤ سے فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل جو پہلے ہی دھندلا چکا ہے، کی امیدیں ختم ہو جائیں گی۔

فلسطینی صدر امن بات چیت کے لیے پرعزم

فلسطینی صدر محمود عباس نے امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل میں انتخابات کے نتائج خطے میں امن کا سبب بنیں گے۔

عباس نے نتن یاہو اور بینی گنتس میں سے کسی ایک کی حمایت نہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ وہ الیکشن پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عباس نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت اس بات کو سمجھے گی کہ ’امن ہمارے، ان کے اور دنیا کے مفاد میں ہے۔ ہم یہی امید کر سکتے ہیں کہ امن تک پہنچنے کے لیے درست راستہ تلاش کیا جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمیں ایسی حکومت نہیں چاہیے جسے امن پر یقین نہ ہو۔‘

 2014 میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے باعث امریکہ کی زیر نگرانی امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

عباس نے عزم دہرایا ہے کہ فلسطینی قیادت امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا