گناہ کوئی کرے سزا کوئی بھرے! کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

اس قسم کے واقعات پر ہم دکھی تو بہت ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ جن کے ساتھ اس قسم کا سانحہ ہو ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا کرنا چاہیے؟

بہت سے لوگ ہیں جو اتنے بڑے سانحے کے بعد کسی پر اعتبار نہیں کر پا رہے ہوتے (آئی سٹاک)

اگر عورت کی طلاق ہوئی ہو تو ہم کہیں گے یہ مرد کو ساتھ رکھنا نہیں جانتی۔ اگر جنسی زیادتی ہو تو ہم لباس کے بارے میں پوچھنے لگتے ہیں۔ اگر اولاد نہ ہو تو کہتے ہیں عورت بانجھ ہے۔ اگر اولاد نرینہ نہ ہو تو کہیں گے عورت کا قصور ہے۔

اگر امیر ہو اور خود مختار ہو تو اس کے کردار پر شک کریں گے اور پوچھیں گے کہ اتنا پیسا یہ کماتی کیسے ہے۔ اولاد نافرمان نکل آئے تو جو جملہ سننے کو ملےگا وہ یہ کہ ماں کی تربیت خراب تھی یا ماں ہی نے اولاد کو خراب کیا ہے۔ اگر تیس پینتیس سال تک غیرشادی شدہ ہو تو یہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے کہ اب تو اس کے لیے کوئی رشتہ ہی  نہیں آئےگا۔ شادی شدہ ہو تو اپنے شوہر کی جائیداد مانی جاتی ہے، اگر بیوہ ہو تو شوہر کو بیوی کھا گئی یا راس نہ آئی۔ اگر دوسری شادی کر لے تو بڑی بےحیا ہو گئی۔ اگر گھر کے اندر شوہر مارے تو سوال یہ کہ بیوی نے ایسا کیا کیا تھا کہ شوہر نے مارا؟

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

یہ وہ باتیں تھیں کہ جو ہر عورت نے کبھی نا کبھی سنی ہوتی ہیں۔ یہ باتیں ہم صرف مردوں سے ہی نہیں سنتے بلکہ عورتوں سے بھی سنتے ہیں۔ گلہ صرف مردوں سے نہیں بلکہ عورتوں سے بھی ہے، جو دوسری عورت کے مسائل اور مشکلات نہیں سمجھتیں۔

ہم ایک ہفتے سے تقریبا موٹر وے سانحے پر بات کر رہے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سانحے پر مختلف لوگوں کے مزید عجیب و غریب بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

کبھی کوئی پارلیمان میں کہتا ہے کہ مردوں کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان خواتین کی بات کون کرےگا جو مردوں کو اغوا کر کے ان کو کئی کئی دن کسی خفیہ جگہ رکھ کے زیادتی کا نشانہ بناتی ہیں۔ میں تو سکتے میں چلی گئی تھی یہ بیان سن کے۔ پہلے مجھے لگا کہ موصوف کو شاید یہ گمان ہے کہ وہ کسی ایسے ملک کے پارلیمان سے مخاطب ہیں جہاں خواتین مادر پدر آزاد ہیں۔ جو مرضی کر سکتی ہیں۔

یہاں تو خواتین ایک خاص خاندانی نظام کے اندر ہی رہتی ہیں۔ چاہے شہر کی ماڈرن کہلائی جانے والی ہوں یا گاؤں کی کم پڑھی لکھی۔ ہمارے ملک میں خواتین مردوں کو اغوا کر کے کہاں رکھ سکتی ہیں؟ وہ تو خود اپنے باپ بھائی کے ساتھ رہتی ہیں؟ آج تک تو کسی خفیہ آڈے کے بارے میں نہیں سنا؟

سارا دن سوچتی رہی لیکن یہ بات سمجھ میں نہ آئی۔

پھر ایک اور حضرت کہتے ہیں یہ جو موٹر وے پر سانحہ ہوا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے لیکن یہ موٹر وے ہم نے بنائی تھی۔ یہ بیان بھی سننے کے بعد بڑی دیر تک مجھے لگا کہ میں شاید دنیا کی انتہائی کوڑ مغز انسان ہوں کہ ان پارلیمانی لیڈران کے بیانات سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں۔ لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ یہی لوگ ہمارے حلقوں کے نمائندے ہیں اور یہ نمائندے اس بوسیدہ سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں رچی بسی ہوئی ہے۔

پھر ایک اور واقع کی خبر سنی کے بہاولپور میں کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بننے والی لڑکی نے مبینہ خودکشی کر لی۔ غریب گھرانے کی ایک لڑکی سے علاقے کے بااثر افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ والد سے معلوم ہوا کہ پولیس کی بےحسی اور کوئی کارروائی نہ کرنے پر بیٹی نے مایوس ہو کر زہر پی لیا۔ مرنے سے پہلے اس بیٹی نے ایک پیغام چھوڑا جس میں اپنے والد کو مخاتب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’ابا! آپ کل سر اٹھا کر جیو گے۔‘ گناہ کوئی کرے سزا کوئی بھرے! کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

واقعی اس باپ کو معاشرے میں یہ کہنے کا حوصلہ ضرور ملے گا کہ میری بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی اور اس کی کسی نے مدد نہیں کی تو اسنے اپنی جان لے لی۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟ نہ تو یہ مایوسی کی پہلی خودکشی ہے اور نہ ہی آخری۔

اس قسم کے واقعات پر ہم دکھی تو بہت ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ جن کے ساتھ اس قسم کا سانحہ ہو ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا کرنا چاہیے؟ کیسے ان کی مدد کرنی چاہیے؟ ۔ سب سے پہلے تو مظلوم کی بات سنیں اور اسے اس بات کا احساس دلائیں کہ مکمل توجہ سے اسے سن رہے ہیں۔ جب وہ پہلی مرتبہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بتا رہی ہو تو آپ کے ذہن میں چاہے جتنے سوال آئیں اسے ٹوکیں نہیں۔

۔  کچھ لوگ مایوس ہو کر قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور چونکہ ان پر کسی نے زبردستی اپنی مرضی تھوپی ہوتی ہے جس سے کہ ان کو جسمانی اور ذہنی تکلیفیں پہنچی ہوتی ہیں تو وہ اپنی زندگی پر اپنا کنٹرول واپس چاہتے ہیں جس کو ظاہر کرنے کے لیے وہ جذبات میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ آپ ان پر اپنی مرضی مسلط کریں کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ جو آپ کر رہے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے۔ اس کی جگہ ان کو وہ کرنے دیں جو وہ چاہ رہے ہیں۔

۔ جو بھی فیصلہ وہ اپنے حوالے سے کریں چاہے وہ پولیس کے پاس جانا چاہیں یا نہ جانا چاہیں، چاہے وہ ڈی این اے ٹیسٹ کرانا چاہیں یا نہ کرانا چاہیں ان کے فیصلے کی عزت کریں اور ان پر زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں۔ کبھی کبھی آپ ان کی مدد کر رہے ہوں گے لیکن ان کو لگے گا کہ جیسے آپ ان کی حالت نہیں سمجھ رہے۔ بہتر ہے ان کو اپنے فیصلے کرنے دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

۔ بہت سے لوگ ہیں جو اتنے بڑے سانحے کے بعد کسی پر اعتبار نہیں کر پا رہے ہوتے اور وہ خود کو اکیلے کمرے میں بند کر لیتے ہیں۔ کسی سے بات نہیں کرنا چاہ رہے ہوتے تو ان کو وہ وقت دے دیں جس میں وہ پہلے اپنے حواس کو بحال کریں۔ اس دوران آپ ان سے بات چیت بالکل ایسے کریں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ انہیں احساس نہ دلائیں کہ جیسے آپ ان پر ترس کھا کر ان سے بات کر رہے ہیں۔

اگر کسی شادی شدہ خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ شوہر کو بھی اپنے قریب نہیں چاہے گی۔ شوہر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ پہلے اس سے بات چیت کے ذریعے یہ احساس دلائے کہ جس سے بیوی کو احساس ہو جائے کہ میرا شوہر آج بھی مجھے ویسا ہی پیار کرتا ہے اور میری ویسی ہی عزت کرتا ہے جیسے پہلے کرتا تھا۔

۔ جو بھی اس قسم کے واقعے سے گزرا ہو گھر والوں کو چاہیے کہ اس کے ساتھ صبر سے کام لیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جو بھی تکلیف یا دکھ پہنچا اس شخص کو سب سے زیادہ پہنچا اور وہ اس وقت ایک اعتبار کے سہارے کی تلاش میں ہے۔

ان کو یہ بھی باور کرایا جانا چاہیے کہ جو بھی ہوا ان کی اس میں کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں تھی۔

ان کی بہادری کو سراہا جانا چاہیے۔ انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ بہت بہادر ہیں اور وہ بہادری کے ساتھ اس مشکل وقت کا مقابلہ کر رہی ہے۔

اگر وہ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ایسی کوئی بات بتا رہی ہے تو ان سے یہ نہ پوچھا جائے کہ اب کیوں بتا رہی ہو۔ بلکہ آرام سے سنا جائے۔

یہ بات ان تمام گھر والوں اور رشتے داروں کے ذہنوں میں ہونی چاہیے کہ زیادتی کرنے والا جرم کا مرتکب ہوا ہے وہ عورت نہیں جس کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔

جب کسی کا ریپ ہوا ہو تو وہ جیسا بھی ردعمل دکھائے اور جب بھی دکھائے اس سے اس پر سوال نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے ذہن میں مختلف سوچوں کا ایک اضطراب ہے جو کہ انہیں مختلف ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

پولیس اور حکومت تو جب کچھ کریں گے تو کریں گے لیکن تب تک آپ کو اور مجھے اپنے آس پاس اپنے پیاروں کا خیال رکھنا ہوگا۔ اپنی ماؤں کو، بہنوں کو، بیٹیوں کو بتانا ہوگا کہ چاہے کوئی اور ان کا دکھ سمجھے نہ سمجھے ہم سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ