اے پی ایس حملہ: 15 افسران کے خلاف کارروائی ہوئی

سانحہ آرمی پبلک سکول کی سیکیورٹی کے معاملے پر فوج کا روایتی معیار برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے ایک بریگیڈیئر سمیت 15 افسران اوراہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی جب کہ میجر ڈاکٹر سمیت پانچ اہلکاروں کو فوج سے برطرف کر دیا گیا۔

(اے ایف پی)

اے پی ایس کمیشن رپورٹ میں افواج پاکستان کی محکمانہ انکوائری کی تفصیلات بھی منظر عام پہ آئی ہیں۔

سانحہ آرمی پبلک سکول کی سکیورٹی کے معاملے پر پاکستان فوج کے ایک بریگیڈیئر سمیت 15 افسران اوراہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی جب کہ میجر ڈاکٹر سمیت پانچ اہلکاروں کو فوج سے برطرف کر دیا گیا۔

رپورٹ میں 28 لواحقین، چھ آرمی افسران، نو پولیس افسران، اس وقت خیبر پختونخوا کے ہوم سیکرٹری سید اطہر علی شاہ اور 2014 میں تعینات ڈی سی پشاور ظہیر الاسلام کے بیانات قلم بند کیے گئے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل شدہ باب انیس کی دستاویز اور معلومات کے مطابق رپورٹ کے حصہ چار باب نمبر انیس میں فوج کی جانب سے محکمانہ کارروائی کی تفصیل دی گئی ہے۔

سانحے کے لواحقین کے بیانات قلم بند ہونے کے بعد انکوائری کمیشن نے وزارت دفاع سے رابطہ کیا اور ان سے استفسار کیا کہ لیفٹینیٹ کرنل کاشف نے جو بیان ریکارڈ کرایا تھا اس کے مطابق چند افسران اور اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی گئی ہیں تو وہ کورٹ آف انکوائری اور انضباطی کارروائی کی تفصیل کمیشن کو فراہم کی جائے۔

کمیشن کو وزارت دفاع کی جانب سے بتایا گیا کہ فوج کی کورٹ آف انکوائری نے تحقیقات کے بعد یہ کارروائی کی۔

انکوائری کمیشن کو کارروائی پر مبنی تفصیلات کرنل کاشف نے پیش کیں۔ فوج کی محکمانہ کارروائی میں بریگیڈیئر مدثر اعظم کو ترقی نہ دینے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت نہ دینے کے احکامات جاری کیے گئے۔ جبکہ کرنل مظفرالدین اور کرنل حضرت بلال کو حساس مقامات پر تعینات نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کرنل مظفر اور کرنل بلال کی ترقی اور بعد ازریٹائرمنٹ تعیناتیوں پر بھی منفی ریمارکس تحریر کیے گئے ہیں۔

حوالدار منظر حسین، سپاہی محمد عثمان، سپاہی محمد عدنان اور احسان اللہ کو 28 دن قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپاہی احسن نواز اور سعود اعظم کو بھی 28 دن قید بامشقت دی گئی۔ ان تمام اہلکاروں کو آئندہ حساس مقامات پرتعینات نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطرف کیے جانے والے اہلکاروں میں میجر عاصم شہزاد، حوالدار محمد سلیم، لانس نائیک پرہیز خان، سپاہی محمد محفوظ الرحمن اور سپاہی سید رضوان شاہ شامل ہیں۔

عسکری حکام نے کمیشن کو دی گئی رپورٹ میں یہ واضح کیا کہ افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی سانحہ میں ملوث ہونے یا غفلت پر نہیں کی گئی۔ بلکہ ایسے حساس آپریشنز میں فوج کا ایک روایتی معیار ہوتا ہے جسے برقرار نہ رکھا گیا۔

مزید کہا گیا کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد فوج کی جانب سے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری اور کارروائی ناگزیر تھی۔

وزارت دفاع نے کمیشن کی دی گئی رپورٹ میں مزید کہا کہ حساس آپریشنز میں تمام وسائل موجود ہونے کے باوجود اگرسپاہی غیر مستعد ہو تو اس کو اپنے فرائض سے لاپرواہی سمجھا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان