افغانستان سے عجلت میں بین الاقوامی انخلا غیردانشمندانہ ہو گا: عمران خان

امریکی اخبار'دا واشنگٹن پوسٹ'میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ حوصلہ مند افغان عوام کے بعد افغان لڑائی میں پاکستان کے لوگوں سے بڑھ کر کسی نے قیمت ادا نہیں کی۔

امریکہ اور افغان طالبان  کے درمیان امن معاہدے کے بعد بین الاقوامی افواج کو وہاں سے واپس بلایا جانا ہے (فائل فوٹو- اے ایف پی)

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان اور اپنے ملک کے لیے امن کی امید کے ایک نادر لمحے تک پہنچ  چکے ہیں۔

12 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بالآخر افغان حکومت کے وفد اور طالبان مل بیٹھے ہیں تاکہ ایک سیاسی تصفیے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں جن سے افغانستان میں جنگ ختم ہو جائے گی۔

امریکی اخبار'دا واشنگٹن پوسٹ' میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ حوصلہ مند افغان عوام کے بعد افغان لڑائی میں پاکستان کے لوگوں سے بڑھ کر کسی نے قیمت ادا نہیں کی۔

’دہائیوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران پاکستان نے 40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو سنبھالنے کی ذمہ داری پوری کی۔ ہمارے ملک میں منشیات اور ہتھیار بھی آئے۔ جنگوں نے ہماری معیشت کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالی اور ہمارے معاشرے میں انتہاپسندی پھیلی۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’میں جس پاکستان کو جانتا ہوں وہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ترقی کر رہا تھا۔ ملکی گہرائی میں ہونے والی بعض تبدیلیوں نے ملک کو بدل دیا۔ اس تجربے نے ہمیں اہم سبق سکھائے ہیں۔‘

’پہلا یہ کہ جغرافیائی، ثقافتی اور تعلقات کے اعتبار سے ہم افغانستان کے ساتھ اتنے قریبی طور پر جڑے ہوئے ہیں کہ وہاں ہونے والے واقعات سے پاکستان بھی متاثر ہو گا۔ ہمیں احساس ہوا کہ جب تک ہمارے افغان بہن بھائیوں کو امن نہیں ملتا پاکستان میں بھی امن نہیں ہو گا۔‘

عمران خان نے لکھا: ’ہم نے یہ بھی سیکھا کہ باہر سے طاقت استعمال کر کے افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ افغانستان میں پائیدار امن صرف اسی صورت میں ہو گا جب قیام امن کا عمل افغان رہنماؤں کی قیادت میں ہو اور وہ اس کی ذمہ داری لیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان نے مزید لکھا کہ اسی لیے جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے مجھے 2018 میں خط لکھ کر افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل میں امریکہ کی مدد کے لیے کہا تو ہمیں امریکی صدر کو یہ یقین دلانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی کہ پاکستان اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے سہولت فراہم کرنے کی خاطر تمام تر کوششیں کرے گا اور ہم نے ایسا ہی کیا۔ اس طرح فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہوا جس سے افغان قیادت اور طالبان کے درمیان مذکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

وہ تمام فریق جنہوں نے افغانستان میں امن  کے لیے کام کیا انہیں چاہیے کہ وہ وہاں سے اتحادی فوج کی واپسی کی غیرحقیقی ٹائم لائن کی خواہش کی مزاحمت کریں۔ افغانستان سے جلدبازی میں ہونے والی بین الاقوامی واپسی غیردانش مندانہ ہو گی۔

ہمیں ایسے علاقائی عناصر پر بھی نظر رکھنی ہو گی جنہوں نے قیام امن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور جغرافیائی اور سیاسی مفادات کی خاطر افغانستان میں عدم استحکام کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا