اسلام آباد کے میئر 'دیوار سے لگائے جانے پر' مستعفی

شیخ انصرعزیز نے ٹوئٹر پر لکھا: 'اگر ہم لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دینا بہتر ہے۔'

شیخ انصر 15 فروری 2016 کو میئر اسلام آباد منتخب ہوئے اور مارچ میں انہوں نے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا (تصویر: ٹوئٹر)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی اداروں کے معاملات و اختیارات میں مبینہ مداخلت اور 'دیوار سے لگائے جانے' پر میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

یکم اکتوبر کو شیخ انصر کی جانب سے لکھا گیا استعفیٰ چھ اکتوبر کو چیف الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پی ٹی آئی حکومت نے میئر اسلام آباد کے خلاف دوبار ریفرنس دائر کرکے انہیں رواں برس مئی میں عہدے سے ہٹایا تھا لیکن شیخ انصر نے حکومتی فیصلہ عدالت میں چیلنج کیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کا حکم معطل کرتے ہوئے انہیں عہدے پر بحال کر دیا تھا۔

وفاق نے شیخ انصر کی بحالی کا فیصلہ میں چیلنج کیا لیکن بعد میں حکومت نے معطلی کا حکم واپس لے لیا اور عدالت کو بھی اس سے آگاہ کر دیا تھا۔ شیخ انصر عزیز پر انٹرسٹی ٹرانسپورٹ اڈے میں مبینہ کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے، ان کے خلاف ایم سی آئی کی چیف میٹروپولیٹن آفیسر سیدہ شفق ہاشمی نے ریفرنس پیش کیا تھا، جس پر شفاف تحقیقات کے لیے لوکل گورنمنٹ کمیشن اسلام آباد نے میئر کو معطل کرنے کی سفارش کی تھی۔

بعدازاں رواں برس اگست میں بھی نیب نے غیر قانونی موبائل ٹاورز ٹیکس اور بل بورڈز میں کرپشن کے الزامات پر شیخ انصرکے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیخ انصر کا تعلق اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن سے ہے اور انہوں نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست دی تھی۔ وہ 15 فروری، 2016 کو میئر اسلام آباد منتخب ہوئے اور مارچ میں انہوں نے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔ ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے میں ابھی چار ماہ باقی ہیں۔

شیخ انصر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں الزام لگایا کہ وفاقی حکومت نے تمام اختیارات واپس لے کر انہیں دیوار سے لگا دیا تھا۔ 'اگر ہم لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دینا بہتر ہے۔ ایم سی آئی کے پاس فنڈ تھے لیکن وفاقی حکومت نے ان فنڈز کے اجرا کی اجازت کے لیے کسی فائنانس ڈپارٹمنٹ کو ذمہ داری نہیں دی۔ اس کے باوجود ہم نے معاملات کو چلانے کی پوری کوشش کی، لیکن اب ایم سی آئی کے ماتحت تمام شعبے واپس لے کر سی ڈی اے کو دے دیے گئے ہیں۔'

شیخ انصر نے حمایت کرنے پر اسلام آباد کے شہریوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے اختیارات چھ ماہ کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سپرد کر دیے ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ روز وزارت داخلہ نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا تھا۔

میئر کے استعفے پر ردعمل جاننے کے لیے وزیر اعظم کے مشیر برائے سی ڈی اے امور علی اعوان سے رابطہ کیا گیا لیکن ان سے بات نہ ہو سکی۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان