پراپرٹی ٹیکس:’حکومت کشمیریوں کو بھیک مانگنے پرمجبور کرنا چاہتی ہے‘

بھارتی وزارت داخلہ نے جے اینڈ کے میونسپل ایکٹ 2000 اور جے اینڈ کے میونسپل کارپوریشن ایکٹ 2000 میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کی یونین ٹیریٹری انتظامیہ کو یہاں پراپرٹی ٹیکس نافذ کرنے کے اختیارات دے دیے ہیں۔

بھارتی حکومت نے گذشتہ برس کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک اس متنازع خطے میں درجنوں ایسے قوانین نافذ کیے ہیں جن پر کشمیریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس یا جائیداد ٹیکس نافذ کرنے کے فیصلے نے کشمیری عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

جہاں بی جے پی کو چھوڑ کر دیگر تمام بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے نریندر مودی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے وہیں تجارتی انجمنوں اور عام کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت نئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبانے کی بجائے پھر سے کھڑا ہونے کے لیے سہارے کی ضرورت ہے۔

بھارت کی وزارت داخلہ نے گذشتہ روز جے اینڈ کے میونسپل ایکٹ 2000 اور جے اینڈ کے میونسپل کارپوریشن ایکٹ 2000 میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کی یونین ٹیریٹری انتظامیہ کو یہاں پراپرٹی ٹیکس نافذ کرنے کے اختیارات دے دیے ہیں۔

یہ ٹیکس تمام اراضی، عمارتوں اور خالی پڑی اراضی پر لگے گا، تاہم ٹیکس کتنا دینا ہو گا یہ طے کرنے کا اختیار مقامی بلدیاتی اداروں کو دیا گیا ہے۔

بھارتی حکومت نے گذشتہ برس پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک اس متنازع خطے میں درجنوں ایسے قوانین نافذ کیے ہیں جن پر کشمیریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان قوانین میں بھارتی شہریوں کو کشمیر کی شہریت دینا، زمین خریدنے اور نوکریاں کرنے کی اجازت دینا، جنگلات کی اراضی پر سرکاری تعمیرات کھڑی کرنے کی اجازت دینا، انسانی حقوق اور خواتین کمیشنز جیسے اہم اداروں کو ختم کرنا اور معدنی وسائل کو غیر مقامی افراد کے حوالے کرنا شامل ہیں۔

پراپرٹی ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر کی معاشی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ دوہرے لاک ڈاؤن کی وجہ سے سیاحت اور دستکاری جیسے اہم شعبے ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں اور بے روزگاری کی شرح عروج پر ہے۔

کشمیری تاجروں کی سب سے پرانی انجمن کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عاشق حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہمیں اس وقت حکومتی سپورٹ اور رعایات کی ضرورت ہے۔ ہم کسی بھی طرح کا کوئی اضافی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔

وہ مزید کہتے ہیں: ’ہماری حالت دوسرے خطوں سے مختلف ہے۔ یہ ہمارا بھارت کے کسی ترقی یافتہ ریاست یا میٹروپولیٹن سٹی کے ساتھ موازنہ نہیں کرسکتے۔ ہم ان کے مقابلے میں کہیں بھی کھڑے نہیں ہیں۔‘

’لیفٹیننٹ گورنر (منوج سنہا) نے حال ہی میں کہا کہ یہاں تین دہائیوں سے حالات خراب رہے ہیں۔ یہاں اس وقت بے روزگاری عرج پر ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے۔‘

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی رپورٹ کے مطابق اس متنازع خطے کو پانچ اگست 2019 سے رواں برس اگست تک دوہرے لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں یہاں معیشت کو چالیس ہزار کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے نیز پانچ لاکھ افراد روزی روٹی سے محروم ہوئے ہیں۔

کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے بتایا کہ کشمیری عوام اس وقت کوئی بھی ٹیکس ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمیں پہلے سے ہی کئی طرح کے ٹیکسز کے بوجھ تلے دبایا جا چکا ہے۔ ہماری معیشت برباد ہو چکی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس سراسر زیادتی ہے۔ حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘

سیاسی جماعتوں کا سخت ردعمل

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کانگریس پارٹی کے صدر غلام احمد میر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ہماری جماعت ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتی ہے۔

’یہاں کے لوگ پہلے سے ہی کافی پریشان ہیں۔ معمول کی زندگی ٹھپ ہے۔ کاروبار جمود کا شکار ہے۔ میوہ باغ مالکان اور بیوپاری پریشان حال ہیں۔ لوگوں کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔ ایسے وقت میں لوگوں پر بھاری ٹیکس کا بوجھ ڈالنا نا انصافی ہے۔ یہ لوگوں کو لوٹ کر اپنے خزانے بھرنے کی کارروائی ہے۔‘

غلام احمد میر نے مزید کہا کہ بی جے پی اور جن سنگھ کی پالیسی ہے کہ کشمیریوں کو فقیر بنا کر چھوڑنا ہے۔ ’ان کی پالیسی ہے کہ کشمیریوں کو اقتصادی طور پر اتنا پسماندہ کرو کہ یہ لوگ بھکاریوں کی طرح کشکول لے کر بھیک مانگنے نکلیں۔ یہ کوئی نئی پالیسی نہیں ہے بلکہ وہ اس پر گذشتہ 70 برسوں سے کام کر رہے ہیں۔‘

’کوئی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ آر ایس ایس والے جموں میں لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگ خاموش بیٹھو، یہ ٹیکس ان کشمیریوں پر لگے گا جنہوں نے جموں میں بڑے بڑے بنگلے بنائے ہیں۔‘

کانگریس کے صدر نے بتایا کہ نامساعد حالات کے باوجود کشمیری طلبہ کا ہر ایک شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانا بی جے پی اور جن سنگھ کو پسند نہیں ہے۔

’کشمیری محنت کش لوگ ہیں، جو محدود وسائل کے باوجود زندگی کا پہیہ چلانے میں کوشاں رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو ہمارے تعلیمی ادارے اور بچوں کا سکول جانا پسند نہیں ہے۔ یہ لوگ سوچتے ہیں کہ ہم نے کشمیریوں کو اتنا مار دیا پھر بھی یہ آگے ہیں۔ اس لیے اب یہ لوگ یہاں کے تمام شعبوں کو ختم کرنے کے بعد لوگوں کو بے جا ٹیکسز کے بوجھ تلے دبانا چاہتے ہیں۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مودی حکومت کو ایسے فیصلے لیتے وقت مقامی کشمیری لیڈروں کو اعتماد میں لینا نہیں چاہیے تو غلام احمد میر کا کہنا تھا: ’پانچ اگست 2019 سے یہ جو چاہ رہے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ کچھ دینے کی بجائے یہاں سے لینے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کہتے تھے کہ ہم کسانوں کی آمدنی دوگنی کریں گے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کریں گے لیکن وعدے پورے کرنے کی بجائے بلڈوزر چلا رہے ہیں۔‘

کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی والے کشمیریوں کو اقتصادی طور پر اتنا کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے کا سوچیں تک نہیں۔

’ان لوگوں نے آج تک یہاں جتنے بھی قوانین نافذ کیے ہیں وہ ہمارے خلاف ہیں۔ وہ قوانین چاہے ہماری زمین سے متعلق ہوں یا معدنی وسائل۔ ہماری بجلی بھارت کی دوسری ریاستوں کو سپلائی کی جاتی ہے لیکن ہم خود مناسب بجلی سپلائی سے محروم ہیں۔ دریاؤں سے ریت اور بجری نکالنے کے آن لائن ٹینڈر گذشتہ برس اس وقت طلب اور کھولے گئے جب یہاں انٹرنیٹ خدمات بند تھیں۔ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ یہ سب ہمیں ڈس امپاور کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘

التجا مفتی نے بتایا کہ جہاں مودی حکومت نے یہاں اراضی اور نوکریوں سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی، وہیں دوسری ریاستوں میں بالکل اس کے برعکس کر رہے ہیں۔

’مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ یہاں کی نوکریاں صرف یہیں کے لوگوں کو ہی ملیں گی۔‘

محبوبہ مفتی کی صاحبزادی کے مطابق بی جے پی حکومت کشمیر میں ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کو نہ نظر آنے والی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے۔

’ہم آج تک پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے اب کیوں کریں؟ ان لوگوں نے اقوام متحدہ اور ترقی یافتہ ممالک بالخصوص امریکہ کو بتایا کہ ہم نے کشمیر میں جو بھی کیا وہ یہاں کی ترقی کے لیے کیا ہے۔ یہاں کی خواتین کو حقوق دلانے کے لیے کیا ہے۔ لیکن جو یہاں کی پہلی اور آخری خاتون وزیر اعلیٰ رہی ہیں آپ نے تو انہیں ایک سال سے زائد عرصے تک جیل میں بند رکھا۔‘

’ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے ہماری معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ ہمارے اہم ترین شعبوں جیسے سیاحت اور دستکاری کو پوری طرح سے ختم کیا گیا ہے۔‘

التجا مفتی نے بتایا کہ مسلم اکثریتی کشمیر میں اہم انتظامی ذمہ داریاں غیر مسلم افسروں کو سونپی جا رہی ہیں۔ ’لیفٹیننٹ گورنر صاحب کے دفتر کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ وہاں کتنے مسلمان افسر تعینات ہیں۔ ان کی تعداد دو سے زیادہ نہیں ہے۔ ان میں سے ایک بدنام زمانہ فاروق خان ہیں جن کا نام فرضی جھڑپوں میں آیا تھا۔‘

کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے بتایا کہ لوگوں پر بے جا ٹیکسز کے نفاذ کا واحد مقصد کشمیری عوام کو مزید پشت بہ دیوار کرنا ہے۔

’کشمیری عوام گذشتہ 14 ماہ کے مسلسل لاک ڈاؤن سے پہلے ہی بدترین اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں اور اب عوام پر ایک اور بوجھ بڑھایا جارہا ہے۔ یہ اقدام صرف اور صرف کشمیر دشمنی پر مبنی ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو مزید پشت بہ دیوار کرنا اور اندھیروں میں دھکیلنا ہے۔‘

ساگر نے بتایا کہ مودی حکومت یہاں جو بھی قانون لا رہی ہے وہ سارے کے سارے غیر آئینی ہیں کیونکہ جس تنظیم نو 2019 ایکٹ کے تحت یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے اس کی جوازیت عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے۔

’ملک کی سب سے بڑی عدالت کے احترام میں ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مودی حکومت کو کشمیر میں من مرضی تبدیلیاں لانے کی بہت زیادہ عجلت ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیئر لیڈر نعیم اختر نے بتایا کہ جہاں وادی کشمیر گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے اقتصادی طور پر اتنا پسماندہ ہوچکی ہے کہ یہاں لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں بھارتی حکومت نے اس خطے کے خلاف ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے سینیئر نائب صدر غلام حسن میر نے بتایا کہ ٹیکس لگانا، ٹیکس کم کرنا یا اس میں اضافہ کرنا عوامی منتخب نمائندوں کی صوابدید ہے۔ یہاں چونکہ اس وقت کوئی عوامی منتخب حکومت نہیں ہے لہٰذا ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب بی جے پی کے کشمیر میں تعینات جنرل سیکرٹری اشوک کول سے پوچھا کہ کیا وہ بھی موجودہ حالات کے پیش نظر پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کر رہے ہیں تو موصوف نے اس کا نفی میں جواب دیا۔

’یہ ٹیکس ہر ایک پر نہیں لگے گا۔ دیش کے مختلف حصوں میں یہ ٹیکس نافذ ہے۔ جس کے پاس دس کروڑ روپے کی پراپرٹی ہے اگر اس کو 50 روپے بطور ٹیکس دینے بھی پڑے تو اس کو موت نہیں آنی چاہیے۔‘

جموں میں لوگوں کا احتجاج

کشمیر کے ہندو اکثریتی ضلع جموں میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا ہے۔

نوجوانوں کے ایک گروپ نے گذشتہ روز پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

احتجاج میں شامل ایک نوجوان کا کہنا تھا: ’وزارت داخلہ نے لوگوں کی پراپرٹی پر 15 فیصد ٹیکس لگانے کا فیصلہ لیا ہے۔ شاید حکومت بھول چکی ہے کہ کرونا (کورونا) ابھی زندہ ہے۔ ان کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ یہ مشکل وقت میں ہمارے اوپر پراپرٹی ٹیکس لگانے پر مجبور ہوئے ہیں؟‘

جموں کے ایک تاجر نے بتایا کہ یہاں کے لوگ ابھی معاشی طور پر اتنے مستحکم نہیں ہیں کہ وہ اس طرح کے ٹیکسز ادا کریں گے۔ ’ہماری ایک پسماندہ ریاست ہے۔ یہاں لوگوں کو پہلے ہی جگہ جگہ پر ٹول ٹیکسز ادا کرنے پڑتے ہیں اور بجلی کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایسے میں ہمارے لیے مزید ٹیکسز ادا کرنا ناممکن ہے۔‘

ایک اور تاجر کا کہنا تھا: ’اس وقت کام کاج بالکل نہیں ہے۔ ہم بے کار بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے لیے بینک کے قرضے ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

’حکومت کو ہمیں رعایت دینی چاہیے نہ کہ ٹیکس پر ٹیکس لگانے چاہییں۔ ایسے ٹیکسز کو زبردستی لوگوں پر نہیں تھوپنا چاہیے۔ کیا یہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا