اسرائیل سے معاہدے کے بعد دبئی میں یہودیوں کے خاص کھانوں کی بہار

دبئی میں ریستورانوں اور کیٹرنگ بزنس چلانے والوں نے کوشر کھانوں کی تیاری شروع کردی ہے کیونکہ انہیں امید ہے کہ سال 2021 میں یہودی سیاحوں کا سیلاب آنے والا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے معاہدے کو بھی کچھ روز ہی ہوئے ہیں لیکن ریستورانوں اور کیٹرنگ بزنس چلانے والوں نے کوشر کھانوں کی تیاری شروع کردی ہے کیونکہ انہیں امید ہے کہ سال 2021 میں یہودی سیاحوں کا سیلاب آنے والا ہے۔

یہودی سیاحوں کی نئی مارکیٹ میں اپنے کھانے کا بزنس چلانے کے لیے ریستوران مالکان کوشر کچن کی تعمیر، سٹاف کی تربیت اور کھانوں کے اجزا کی فراہمی سمیت کئی مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔

ایلی کریل، جو ’ایلیز کوشر کچن‘ کے نام سے ریستوران چلاتی ہیں، نے بتایا کہ کوشر کھانے بنانا اتنا آسان نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہاں کوشر کھانے بنانے کے لیے اجزا درآمد کرنے پڑتے ہیں۔ خاص طور سے گوشت اور پنیر کی اقسام۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اس کے علاوہ کوشر کھانا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ربی کچن میں نگرانی کرے تاکہ کھانے کے معیار میں کوئی غفلت نہ ہو۔ یہاں ربی آسانی سے نہیں ملتے۔ ہم نے بھی خاص طور سے کسی ربی کو بلایا ہے۔‘

دوسری جانب ارمانی ہوٹل کے شیف فابیان فایول کا کہنا ہے کہ ان کے کچن میں عملے کو مہینوں سے کوشر کھانا بنانے اور پیش کرنے کی خاص تربیت دی جارہی ہے۔

’ہم چاہتے تھے کہ لوگوں کو فائیو سٹار کھانے کا تجربہ دیں خواہ وہ یہودی ہوں یا وہ لوگ جو کوشر کھانے کے شوقین ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا