حکومت دو ارب میں خرید لے ورنہ پلازہ بنا دیں گے: مالکان کپور حویلی

پشاور میں واقع مشہور کپور حویلی کو  سرکاری تحویل میں لینے کے لیے خیبر پختونخوا کا محکمہ مال، محکمہ آثار قدیمہ اور ضلعی انتظامیہ کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے مراحل میں ہیں۔

یہ عمارت بازار اور مکانات کے بیچوں بیچ کھڑی ہے لہذا آس پاس کے مکینوں نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ اس عمارت کی یا تو مرمت کی جائے یا پھر اس کو مکمل طور پر گرا دیا جائے (انڈپینڈنٹ اردو)

پشاور میں واقع مشہور کپور حویلی کو سرکاری تحویل میں لینے کے لیے خیبر پختونخوا کا محکمہ مال، محکمہ آثار قدیمہ اور ضلعی انتظامیہ کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے مراحل میں ہیں۔

حویلی کو اپنی ملکیت بنانے کے لیے حکومتی ادارے چند ماہ قبل اس وقت حرکت میں آئے تھے جب مالکان نے اس عمارت کی جگہ ایک کمرشل پلازہ تعمیر کروانے کے لیے حویلی کی دو منزلیں گرا دی تھیں۔

نتیجتاً رواں سال 23 ستمبر کو محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد خان نے ڈپٹی کمشنر کے نام ایک اعلامیے میں واضح کیا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ نہ صرف کپور حویلی بلکہ دلیپ کمار کا گھر بھی محفوظ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس مقصد کی خاطر محکمے نے ’نوادرات ایکٹ‘ جو  دراصل قیمتی اثاثوں کو تحفظ دینے کا قانون ہے، کو فی الفور لاگو کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نےحویلی میں جاری توڑ پھوڑ کا کام رکواتے ہوئے سیکشن فور نافذ کر  دیا۔

مشہور فلمی ستاروں کے آبائی مکانات کو تحفظ دینے کے نوٹیفیکیشن پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے سیکرٹری آرکیالوجی و سیاحت عابد مجید نے بھی اس وقت اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’اراضی حصول ایکٹ‘ لاگو کرنے کے بعد حکومت ان عمارتوں کو عجائب گھر کا درجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کپور حویلی کے بارے میں پشاور کی ایک فیملی کا دعویٰ ہے کہ یہ حویلی ان کے والد حاجی خوشحال رسول نے پرانے وقتوں میں ایک سرکاری نیلام میں خریدی تھی، جو بعد ازاں ان کے پانچ بیٹوں کی ملکیت میں آگئی۔

حکومتی کارگزاری پر حویلی کی دعویداری کرنے والوں کا موقف جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے حاجی رسول کے ایک بیٹے علی قادر سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ حویلی کے عوض حکومت سے دو ارب روپے وصول کریں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک قیمتی حویلی ہے۔ اس کی مثال ایک اینٹیک کی ہے۔ اور اینٹیک ہمیشہ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ اس حویلی میں 35 کمرے ہیں اور ہر کمرے میں دیار کی لکڑی استعمال ہوئی ہے۔ ہم نے سالوں اس حویلی کی حفاظت اور مرمت کی ہے۔ اگر حکومت مطلوبہ رقم نہیں دے سکتی تو پھر ہم اس کو گرا کر ایک کمرشل پلازہ تعمیر کروائیں گے۔‘

کیا حکومت مالکان کی مرضی کی قیمت دینے پر آمادہ ہے؟

خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کے موجودہ ڈائریکٹر عبدالصمد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کپور حویلی کو سرکاری ملکیت بنانے کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔

’مالکان تو 20 ارب کا بھی مطالبہ کر سکتے ہیں لیکن ہم یہ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں فی مرلہ زمین کتنے کی ہے۔ یہ حویلی چھ مرلہ اراضی پر بنی ہے۔ جو قیمت یہ لوگ بتا رہے ہیں اس حساب سے تو ایک مرلہ 30 کروڑ کا بنتا ہے۔‘

ڈاکٹر عبدالصمد نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ اس اراضی کی اصل قیمت کے حوالے سے جو رپورٹ دے گا اس کے بعد حکومت وہ رقم ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ڈپٹی کمشنر یہ رقم مالکان کے حوالے کریں گے۔ یعنی باقاعدہ ایک طریقہ کار کے تحت یہ سب ہوگا۔ اس وقت یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اصل مالکان کون ہیں۔ کیونکہ مجھے ایک ای میل آسٹریا سے بھی موصول ہوئی تھی جس میں ایک شخص نے اس حویلی کا اصل مالک ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔‘

ڈائرکٹر آثار قدیمہ نے کہا کہ حکومت ارادہ رکھتی ہے کہ جب دلیپ کمار اور کپور حویلی کو خرید کر اس کی ضروری مرمت کر لی جائے گی تو اس کے بعد دونوں عمارتوں کو میوزیم کا درجہ دے کر سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان عجائب گھروں میں دلیپ کمار اور کپور فیملی کی فلمی زندگی اور شہر پشاور سے تعلق پر مبنی سازو سامان رکھا جائے گا۔

اسی موضوع پر حکومت کے ایک اور اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حویلی کی ملکیت کے دعویداروں کو کمروں میں استعمال شدہ قیمتی لکڑی کے پیسے بھی دیے جائیں گے، تاہم جو ہوشربا قیمت مالکان بتا رہے ہیں، وہ رقم کبھی نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مالکان یہ مانتے ہیں کہ یہ حویلی ایک ’اینٹیک‘ ہے تو پھر وہ یہ بھی جان لیں کہ ملک کے اندر کوئی بھی چیز جب اس قدر قیمتی اور نادر ہو جائے تو وہ خود بخود ریاست کی ملکیت بن جاتی ہے۔

موجودہ وقت میں دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی پر سیکشن فور نافذ کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت متعلقہ جائیداد خریدنے کی خواہشمند ہے اور حکومت کے علاوہ کوئی اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی، مرمت، فروخت یا گرانے کا اختیار نہیں رکھتا۔

چھ مرلہ اراضی پر بنی چھ منزلہ کپور حویلی کے دو منزلیں مالکان کی جانب سے گرائے جانے کی وجہ سے عمارت میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

چونکہ یہ عمارت بازار اور مکانات کے بیچوں بیچ کھڑی ہے لہذا آس پاس کے مکینوں نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ اس عمارت کی یا تو مرمت کی جائے یا پھر اس کو مکمل طور پر گرا دیا جائے تاکہ ان کے سر سے خطر ٹل سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان