جھوٹ اور سچ!

یہاں تک تو بات بالکل ٹھیک ہے کہ ہمارے مسائل سے بھارت کا کوئی تعلق نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہماری آپس کی غلط فہمیوں یا لڑائیوں کا فائدہ نہیں اٹھائے گا۔

بھارت کی طرف سے جھوٹی خبروں کی سازشیں نئی نہیں ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں دھرنے جلسے ہمیشہ سے ہوتے رہے لیکن لوگوں کو اس احتجاج کو گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

جلسے، دھرنے، احتجاج سب کا آئینی حق ہے اور پاکستان کے میڈیا نے بڑی حد تک عمران خان کے دھرنوں کو نہ صرف خبروں میں کور کیا بلکہ کافی حد تک سپورٹ بھی کیا۔ لیکن کسی بھی ملک کے میڈیا اور دانشور طبقے کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے جہاں جلسے جلوس کرنا سب کا حق ہے وہیں اگر آپ کی کہی ہوئی بات سیدھی آپ کے دشمن کے بیانیے سے مل جائے تو اس پر سوال اٹھانا لازم ہے۔

یہ انسانی فطرت ہے کہ جب بھی دو لوگوں کے درمیان کوئی غلط فہمی یا لڑائی ہوگی تو تیسرا جو بھی ہو چاہے اس بات سے اس کا لینا دینا ہو یا نہ ہو اس لڑائی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت سے علیحدگی کے بعد ہمارا اس سے رشتہ ختم ہوگیا اور اس کا ہمارے اندرونی حالات یا مسائل سے اب کوئی تعلق نہیں تو وہ غلط سمجھتے ہیں۔

یہاں تک تو وہ لوگ بالکل ٹھیک ہیں کہ ہمارے مسائل سے بھارت کا کوئی تعلق نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہماری آپس کی غلط فہمیوں یا لڑائیوں کا فائدہ نہیں اٹھائے گا۔ اس کی تازہ ترین مثال چند دن پہلے پاکستان کے بارے میں سوشل میڈیا پر بھارت کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاونٹس سے پھیلائی جانے والی جھوٹی اور من گھڑت خبریں ہیں۔

پاکستان میں پی ڈی ایم کے کراچی جلسے سے پہلے صفدر اعوان نے مزار قائد پر جو ہلڑ بازی کی اور اس کے بعد آئی جی کے مبینہ اغوا کا جو عجیب قصہ سننے کو ملا تو اس پر ابھی پاکستان میں سوچ بچار ہی کیا جا رہا تھا کہ بھارت نے فورا اس موقع کو پاکستان پر ڈیجیٹل حملے کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

کیسے ہو سکتا تھا کہ بھارت اس کا فائدہ نہ اٹھاتا؟ سو! اس نے فائدہ اٹھایا اور دنیا میں اپنے بڑے خبر رساں اداروں کی جانب سے یہ جھوٹ پھیلانے کی کوشش کی کہ جیسے کراچی میں خانہ جنگی کی آگ پھیل گئی ہے۔ سب تہس نہس ہو گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے بھارت کی جانب سے متعدد سرخیاں گردش کرنے لگیں جیسے کہ ’پاکستان کی فوج نے سندھ حکومت کا تختہ الٹ دیا‘، سنجے کلکرنی جو کے ایک بھارتی جنرل ہیں انہوں نے دنیا کی توجہ اس خانہ جنگی کی جھوٹی خبر کی طرف یہ کہہ کر مبذول کرانی چاہی کہ ’نواز شریف اپنی فوج اور اس کے سربراہ کے بارے میں کیا باتیں کر رہا ہے۔‘ ایک اور ریٹائرڈ جنرل نے کہا کہ ’لگتا ہے کہ اب پاکستان کی عوام کو سمجھ آگئی ہے کہ پاک فوج نے پاکستان چین کو بیچ دیا ہے۔‘

ایک طرف پی ڈی ایم جلسے شروع کرتی ہے، نواز شریف پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو نام لے کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، دوسری طرف ایک غیرقانونی عمل پر صفدر اعوان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے سندھ پولیس انکاری ہوتی ہے، آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کی خبر پھیلنے لگتی ہے اور بھارت سے ایسی خبریں اور جنرلوں کے بیانات گردش کرنے لگتے ہیں۔

دوسری طرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس شروع ہونے والا ہوتا ہے جس میں پاکستان کو مزید گرے لسٹ پر رکھنا ہے یا نہیں اور جو اقدامات پاکستان نے کئے کیا وہ کافی ہیں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے ان کا جائزہ لیا جانا ہے۔ تو ان سب باتوں کو الگ الگ تو قطعا نہیں دیکھا جا سکتا۔

یہ جتنے سیاست دان فوج کے خلاف جلسوں میں بول رہے ہیں اور وفاقی حکومت پر آئی جی سندھ کے اغوا کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں یہ سب باشعور ہیں، دہائیاں اقتدار میں گزار چکے ہیں۔ جو معلومات پاکستان کی قومی سلامتی کے حوالے سے سابق صدر آصف زرداری اور تین مرتبہ کے وزیر اعظم نواز شریف کے پاس ہیں اور سابق وزیر دفاع اور خارجہ خواجہ آصف اور دیگر اہم عہدوں پر رہے سیاست دانوں کے پاس ہیں عوام کے پاس نہیں۔

اس لیے ان سے بہتر یہ بات کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ یہ جو کچھ پاکستان میں قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں بولا جا رہا ہے اس کا فائدہ ہمیں کوئی نہیں ہونا البتہ بھارت کو اس سب کے ہونے کی انتہائی خوشی ہے۔ عمران خان کا دھرنا جس سے ہندوستان کو بےحد تکلیف تھی کیونکہ وہ مودی کو تقریروں میں برا بھلا کہتا تھا آج اس کے برعکس نواز شریف کی تقریریں سن کر یقین بھارت کو تسکین پہنچتی ہوگی۔

خیر یہ تو سیاسی تبصرہ ہوگیا لیکن یہ باتیں اس جھوٹ کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری تھیں جس کو ہم ’فیک نیوز‘ یعنی جھوٹی خبر کہتے ہیں۔

بھارت کی طرف سے جھوٹی خبروں کی سازشیں نئی نہیں ہیں۔ اسی حوالے سے جب میں نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسین ندیم سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ’میری ٹیم 2018 انتخابات سے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کا جائزہ لے رہی ہے۔ پاکستان پر ڈیجیٹل حملوں میں پچھلے دو سال سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پہلے وزیر اعظم عمران خان پر حملے کیے گئے۔ پھر کشمیر کے اوپر بھارت پروپیگینڈا کرنے لگا اور اس پر غیرقانونی طور پر قبضہ کر لیا، پھر چین اور سی پیک کے حوالے سے بھی من گھڑت خبریں سوشل میڈیا پر پھیلانے لگا۔ یہاں تک کے کچھ سنی شیعہ کے درمیان جو اختلاف ایک دو مولویوں کی وجہ سے سامنے آیا اسے بھی ہندوستان نے سوشل میڈیا ہی کے ذریعے گہرا کرنے کی کوشش کی اور پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلائیں اور اب کراچی کی خانہ جنگی کی جھوٹی خبریں پھیلائی۔‘

جھوٹی خبر بھلے ہوتی جھوٹی ہے لیکن وہ اسی دنیا میں کام کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جھوٹی خبریں بنتی اور پھیلتی کیسے ہیں؟ حسین ندیم کی ریسرچ کے مطابق جھوٹی خبروں کے لیے پانچ چیزوں کا ہونا ضروری ہے جو کہ ہیں موزوں ماحول، موزوں پیادے یعنی ایکٹرز، صحیح نیٹ ورکس، صحیح پیغامات اور صحیح وقت۔ یہ پانچ چیزیں جب ایک ساتھ آ جائیں تو جو بھی خبر پھیلانی ہو وہ خبر پھیلنی شروع ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی میں خانہ جنگی کی جھوٹی خبر کیوں اتنی پھیلی؟ حالانکہ پاکستانیوں نے اس کا اور بھارتی میڈیا کا بھرپور مذاق اڑایا لیکن اس کے پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی نے ایک ماحول بنایا کہ حزب اختلاف احتجاج میں حکومت پر اور اداروں پر تنقید کرے، پھر پی ڈی ایم موزوں ایکٹرز کے طور پر سامنے آئی (یہاں میری بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی حب الوطنی پر شک کیا جانا چاہیے لیکن جب ہمارے اندر کی آوازیں دشمنوں کی آوازوں سے ملنے لگیں گی تو اس پر سوال ضرور اٹھیں گے)۔

چونکہ ان کا بیانیہ بھارت کے بیانیے سے میل کھا گیا اور اس صحیح وقت پر جلسے اور تنقید شروع ہوئی اور اس طرح بھارت نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ہی اندرونی مسائل کو دنیا کے سامنے ایسے بڑھا چڑھا کے پیش کیا جیسے کراچی میں کچھ نہیں بچا اور سب جل گیا ہے۔ فوج اور سویلین قیادت آمنے سامنے ہے اور پاکستان میں جمہوریت لپیٹی جا چکی۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

پاکستان کے اقتصادی اشاریے اگر دیکھے جائیں تو پاکستان میں سترہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا، برآمدات بڑھی ہیں، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، ڈالر کی قدر میں گذشتہ روز تقریبا چھ روپے تک کمی واقع ہوئی، کرونا (کورونا) وائرس پر پاکستان نے ناصرف بھارت اور خطے کے دیگر ممالک بلکہ دنیا کے کئی ممالک سے بہتر قابو پایا، پاکستان سے تیرہ سال بعد ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی پہلی کھیپ 226 افراد پر مشتمل کویت پہنچی، ایف ای ٹی ایف نے پاکستان کے گئے اقدامات کی تعریف کی اور ماہرین کا کہنا ہے کے ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس میں گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

حکومت کی جہاں کئی کوتاہیاں ہیں وہیں کئی احسن اقدامات بھی ہیں۔ یہاں پوچھنے والا سوال یہ ہے کہ کیوں ہمیشہ ہمارے اندرونی معاملات یا مسائل پر ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہمیشہ کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہونے کی اور اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے؟ اور ہمارے ذی شعور سیاست دان بھی یا تو اپنے مفادات میں اتنے مگن ہیں کہ ان کو یہ چیز سمجھ نہیں آتیں یا پھر وہ واقعی اتنے دانا ہی نہیں جتنی ان سے ہمیں توقعات ہیں۔

جو بھی ہے بھارت کو پاکستان کی ترقی گوارا نہیں اور اسی لیے چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی اسے شروع سے کھٹکتے ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کی سلامتی اور مفادات کا پہلے سوچنا چاہیے اور بجائے اس کے کہ آرمی چیف آئی جی کے مبینہ اغوا کا نوٹس لیتے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو اب تک میڈیا پر آکے وضاحت دینی چاہیے تھی۔ تاہم یہ ایک صوبائی معاملہ ہے لیکن پھر بھی وفاق ہی صوبوں کو آپس میں جوڑنے کی زنجیر ہے۔

اس لحاظ سے ان کو آکر اس پر بات کرنی چاہیے تھی۔ جیسے دشمن کی کوشش رہی کہ فرقہ واریت کی آگ پھیلائی جائے اس وقت بھی وزیر داخلہ اور وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کو چاہیے تھا کہ میڈیا پر دونوں علما کرام کے ساتھ بیٹھتے اور یہ پیغام دیتے کہ دونوں کے درمیان کوئی رنجش نہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو آگاہ کریں اور ایسے معاملات میں گمراہی سے بچائیں کیونکہ دشمن کو جب بھی موقع ملے گا وہ اس موقع کو جانے نہیں دے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ