' لالہ کے ہاتھ میں لاٹھی ان کی جمہوری جدو جہد کی نشانی  ہے'

شکیل آفریدی کیس، لاپتہ افراد کے مقدمے اور پی ٹی ایم رہنماوں پہ درج مختلف مقدمات کی پیروی کرنے والے لطیف لالہ کی کہانی جو نو منتخب صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی ہیں۔

(سوشل میڈیا)

اس نوجوان نے ابھی  یونیورسٹی میں داخلہ لیا   تھا اور ماسٹر ڈگری کے پہلے سال میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

1965 میں ملٹری ڈکٹیٹر ایوب خان برسراقتدار تھے اور صدر پاکستان کے عہدے پر براجماں تھے۔

قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف  صدراتی انتخابات لڑ رہی تھیں  اور اکنامکس کے شعبے میں تازہ داخلہ لینے والے یہ نوجوان فاطمہ جناح کی حمایت میں نکل آئے۔

پشاور یونیورسٹی میں انہوں نے اپنے ساتھیوں سمیت  ان کی حمایت میں ریلیاں بھی نکالیں اور یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی ماحول کو خراب کرنے کی پاداش میں اس وقت کے وائس چانسلر نے یونیورسٹی سے دو سال کے لیے انہیں نکال دیا۔

یونیوسٹی سے نکالے جانا ان کے لیے سخت  وقت ضرور تھا لیکن اکنامکس شعبہ کے اس وقت کے چیئرمین ان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے۔

'آپ میرے پسندیدہ شاگردوں میں سے ایک ہیں اور میں یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ کبھی کرنے نہیں دوں گا کہ وہ آپ کو دو سال کے لیے یونیورسٹی سے نکال دیں، '

یہ نوجوان اب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں ۔

جی ہاں یہ عبدالطیف آفریدی ہیں جو حلقہ احباب میں لطیف لالہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی سابق صدر اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کے حمایت یافتہ گروپ 'انڈپینڈنٹ لائرز فورم '  سے سپریم کورٹ بار کے  انتخابات میں حصہ لیا اور 1236 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف امیدوار عبدالستار جو حامد خان گروپ سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے  انہوں نے 959 ووٹ حاصل کیے۔

لطیف لالہ اس سے پہلے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے  سات مرتبہ صدر بھی رہ چکے ہیں اور پاکستا ن بار کونسل کے ایک دفعہ وائس چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔

لطیف لالہ نے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں 1943 میں آنکھ کھولی اور یہ  وہ وقت تھا جب ابھی تقسیم ہند نہیں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم پشاور کے ایک سکول سے حاصل کرنے کے انھوں نے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تاہم وکالت کی شوق لے کر ماسٹرز کے بعد انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے الحاق شدہ خیبر لا کالج میں داخلہ لیا۔

لطیف لالہ نے زمانہ طالب علمی میں یونیورسٹی سے نکالنے کے واقعے کے بارے میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب ان کے شعبے کے چئیرمین ان کے حمایت میں آگئے تو انھوں نے وائس چانسلر کو بتایا کہ ان کو دوبارہ بحال کیا جائے تاہم وائس چانسلر نے دو سال کے بجائے ایک سال مجھے یونیورسٹی سے نکالنے کا چیئرمین کو کہہ دیا۔

لطیف لالہ نے بتایا 'چیئرمین ایک سال نکالنے پر بھی راضی نہیں تھے تو وائس چانسلر نے نو مہینے کا حکم دیا، لیکن پھر بھی بات نہیں بنی تو آخرکار اس پر اکتفا کردیا گیا کہ ان کو دو مہینے کے لیے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے تاہم چیئر مین نے مجھے بتایا کہ ان دو مہینوں میں آپ شعبہ بھی آئیں گے اور کلاسز بھی لیں گے۔ '

طارق افغان لطیف لالہ کے ساتھ بطور ایسوسی ایٹ وابستہ ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’لطیف لالہ نے 1966 میں اکنامکس کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں خیبر لا کالج سے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد1969سے باقاعدہ وکالت کی پریکٹس شروع کی جو ابھی تک جاری ہے۔ انہوں نے اب تک مختلف ہائی پروفائل کیسز  لڑے جن میں ایک کیس جو موجودہ دور میں چل رہا ہے وہ شکیل آفریدی کا ہے جسے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے  میں مدد دینے کے  الزام میں پاکستانی حکومت نے گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ  پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماوں پر  درج مختلف مقدمات میں بھی لطیف لالہ کیسز کی پیروی کرتے ہیں جبکہ درجنوں لاپتہ افراد کے مقدمات بھی لطیف لالہ لڑتے ہیں۔‘

لطیف لالہ زمانہ طالب علمی سے جمہوری حکومتوں اور نظام کے حمایتی رہے ہیں اور یہ وجہ تھی کہ مختلف  مارشل لا  کے ادوار میں ان  کو گرفتار بھی کیا گیا۔

لطیف لالہ کو ضیاالحق کے مارشل لا دور میں 1979 میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ لالہ نے بتایا کہ ضیا کی حکومت میں ان کو پہلے 1979 میں جیل بھیج دیا گیا  اور پورا سال جیل میں گزارا ۔ اس کے بعد 1981  میں ان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

لطیف لالہ ضیا کے خلاف موومنٹ آف رسٹوریشن فار  ڈیموکریسی (ایم آر ڈی) تحریک میں  پاکستان نیشل پارٹی (پی این پی ) کے پلیٹ فارم سے  پیش پیش تھے  اور ضیا کی مارشل لا حکومت کے خلاف  مخلتف مظاہروں اور ریلیوں  میں شرکت کرتے تھے۔ لطیف لالہ پی این پی کے صوبائی صدر کا عہدہ بھی سنبھال رہے تھے۔

لطیف لالہ نے بتایا کہ اس تحریک کے سرگرم کارکن ہونے کی وجہ سے ان کو 1983 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور ان کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کیا گیا۔

لالہ نے بتایا، ' جب مجھے دس بارہ دیگر ساتھیوں سمیت جیل بھیج دیا گیا تو جیل میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے شدید اختلافات تھے تو جب جیل گیا تو وہاں پر میں ان رہنماؤں سے ملا اور وہ اختلافات ختم کیے تو جب جیل سپرنٹنڈنٹ کو پتہ چلا تو راتوں رات ان کو ہری پور جیل منتقل کردیا گیا۔ہری  پور جیل میں جس وقت میں تھا تو جمعیت علما اسلام کے موجودہ سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی اسی جیل منتقل کردیا گیا اور چار مہینے ہم نے ایک ساتھ جیل میں گزارے۔'

لطیف لالہ نے بتایا کہ وکالت نے مجھے ایک فائدہ یہ دیا ہے کہ جیل میں مجھے کسی قسم ٹارچر کا نشانہ نہیں بنایاگیا اور ہری پور جیل سے بھی چار مہینے بعد اس وجہ سے رہا کیا گیا کہ پشاور بار کونسل کے انتخابات تھے تو بار کونسل نے حکومت کو درخواست کی کہ ان کے ساتھیوں کو انتخابات کی وجہ سے رہا کیا جائے۔

لطیف لالہ  کی وکالت اور سیاست

ضیا کے دور میں لطیف لالہ  پاکستان  نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر منتخب ہوگئے اور جب 1986 میں پی این پی کا عوامی نیشنل پارٹی میں انضمام ہوگیا تو آپ اس کے صوبائی صدر کے عہدے پر فائز ہوگئے  اور 1997 میں اس وقت کے این اے 46 قبائلی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

این اے پی میں تقریبا ایک دہائی گزارنے کے بعد آپ نے اے این پی چھوڑ کر نیشنل عوامی پارٹی جوائن کی۔ نیشنل عوامی پارٹی پشتو شاعر اور  قوم پرست رہنما اجمل خٹک نے عوامی نیشنل پارٹی سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد بنائی تھی اور  2002 انتخابات میں اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے حصہ بھی لیا تھا تاہم بعد میں اجمل خٹک نے دوبارہ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اسی طرح لطیف لالہ بھی 2003 میں دوبارہ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر گئے۔ لطیف لالہ اے این پی کے پہلے صوبائی صدر تھے اور بعد میں پارٹی کا مرکزی رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا تاہم  2019 کے اواخر میں پارٹی نے ان کی ممبرشپ کچھ اختلافات کی بنیاد پر معطل کی تھی لیکن بعد میں ان کی رکنیت بحال کردی گئی۔

شیر محمد خان کا تعق ضلع سوات سے ہیں اور سپریم کورٹ کے سینئر وکلا میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ محمد خان لطیف لالہ کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چاہے وکالت  کا میدان ہو یا سیاست کا، لطیف لالہ نے ہمیشہ حق اور سچ کی بات کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے 2007 کے وکلا تحریک کے حوالے سے بتایا ، ' لطیف لالہ کے ہاتھ میں آپ جو لاٹھی دیکھ رہے ہیں یہ اصل میں جمہوریت کی خاطر دی ہوئی ان کی قربانیوں کی  ایک نشانی ہے ۔ جب  وکلا تحریک چل رہی تھی تو  پشاور میں ایک مظاہرے کے دوران ان پر بکتر بند گاڑی چڑھائی گئی جس کی وجہ سے ان کے پاؤں میں فریکچر  آیا تھا اور ان کو  اب لاٹھی کا سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ '

شیر محمد سے جب پوچھا گیا کہ لطیف لالہ کس قسم کی وکالت کرتے ہیں، تو جواب میں انھوں نے بتایا کہ ابتدا ہی سے غریب اور نادار لوگوں کا درد ان کے دل میں موجود تھا اور یہی وجہ تھی کہ یہ مزدور کسان پارٹی سمیت مزدروں کے جتنے بھی گروپ ہیں ان کے بہت قریب تھے اور ان کے کیسز  لڑتے تھے۔

بعد میں شیر کے مطابق لطیف لالہ کی وکالت کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا اور اب دیوانی، انسانی حقوق  کے مقدمات سے لے  کر کرمنل  مقدمات بھی لڑتے رہے ہیں۔

'بائیس سالوں میں ان کے چہرے پر نفرت نہیں دیکھی'

محمد فہیم ولی سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور لطیف لالہ کے بہت قریب رہے ہیں۔ان سے جب پوچھا گیا کہ لطیف لالہ کیسے مزاج کے مالک ہیں، تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے 23 سال لطیف لالہ کے قریب گزارے تاہم ان سالوں میں لطیف لالہ میں نفرت کبھی نہیں دیکھی اور ہمیشہ پیار اور نرم مزاج دیکھا ہے۔

لطیف لالہ نے جمہوری قوتوں کی حمایت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جمہوری رہنماؤں کی طرف سے انہیں سپریم بار کے اس الیکشن میں بھی حمایت  حاصل تھی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف نے صدر بننے پر ٹویٹ کے ذریعے ان کو مبارک باد بھی دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان