جوتوں پر ٹرمپ اور میکروں کے نام

ایک فلسطینی دست کارنے ہاتھ سے بنائے جوتوں پر ٹرمپ اور میکروں کے ناموں کی خطاطی کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

جوتوں پر ٹرمپ اور میکروں کا نام اس لیے لکھا کہ انہوں نے ہمارے لوگوں پر حملہ کیا: عماد محمد(اے ایف پی)

فلسطینی دست کار عماد محمد نے ہاتھ سے بنائے جوتوں پر عربی زبان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کے ناموں کی خطاطی کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عماد نے کہا: ’جوتے، زمین، دھول اور گرد پر پڑتے ہیں۔ اس لیے اگر ان پر کسی کا نام لکھتے ہیں تو وہ بھی گندا ہو جاتا ہے اور تب ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اس شخص کی کتنی قدر کرتے ہیں۔‘

عماد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بنائے جوتوں پر ٹرمپ اور میکروں کا نام اس لیے لکھا کہ انہوں نے ہمارے لوگوں پر حملہ کیا۔ ابتدا میں فلسطینی دست کار نے، جنہوں نے اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں رملہ میں جوتوں کی دکان بنا رکھی ہے، جوتوں کو ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا تھا۔

انہوں نے ایسا اس وقت کیا جب ٹرمپ نے 2018 میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا، جس کی عالمی برادری نے مخالفت کی تھی۔

ایک سال بعد ٹرمپ نے بیت المقدس کے مقبوضہ علاقے کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کر لیا، جس پر فلسطینی شہریوں نے غم وغصے کا اظہار کیا۔ فلسطینی عوام کو اپنے ملک کی امید تھی لیکن اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس کو اپنے دارالحکومت میں شامل کرلیا۔ محمد نے کہا: 'ٹرمپ کے نام والے جوتوں کی قیمت 50 ڈالرز ہے۔ یہ جوتے اندر اور باہر سے چمڑے کے بنے ہوئے ہیں اور ٹرمپ سے زیادہ اصلی ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ہفتے فلسطینی دست کار نے ایک اور منصوبے پر کام شروع کیا اورتوہین آمیز خاکوں کا دفاع کرنے والے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے عمل پر مسلمانوں کے غم وغصے سے متاثر ہو کر جوتوں پر میکروں کا نام بھی لکھ دیا۔ عماد کا کہنا تھا کہ توہین آمیز خاکوں کا دفاع کر کے میکروں نے مسلمانوں کی توہین کی اور وہ بطور ایک مسلمان اس رویے کو مسترد کرتے ہیں، میکروں اپنے اقدام پر معافی مانگیں۔

دوسری جانب جو امریکی یا فرانسیسی شہری رملہ میں داخل ہوتے ہیں ان کا مخصوص علامتوں سے استقبال کیا جاتا ہے اور ان کے ملکوں کے صدور نے جو کچھ کیا اس کی معافی کا مطالبہ ان سے کیا جاتا ہے۔

فرانسیسی شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اسی صورت شہر میں داخل ہو سکتے جب وہ میکروں کے بیانات پر معافی مانگیں گے جبکہ امریکی شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے پر معافی مانگیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا