زمبابوے کا خواب پورا ہوگیا

راولپنڈی کے تیسرے میچ میں جب زمبابوے کے کھلاڑی میدان میں اترے ہوں گے تو شاید یہی کہا ہوگا کہ جیت بھی انہی راہوں سے ہی آتی ہے جس سے شکست آتی ہے، اس لیے آج جیت لے کر جانا ہے۔

اس جیت نے زمبابوے کی لگاتار دس شکستوں کا تسلسل توڑ دیا جبکہ 62 ون ڈے میچوں میں اسے پاکستان کے خلاف یہ پانچویں فتح ملی ہے (تصویر: اے ایف پی)

راولپنڈی کا آخری ایک روزہ میچ، سیریز کا فیصلہ ہوجانے کے باعث  ایک رسمی میچ کی مانند تھا۔ میچ میں  نتیجے کے لحاظ سے اگرچہ کسی کو دلچسپی نہیں تھی لیکن کرکٹ کے دیوانے پھر بھی سارا دن ٹی وی پر آنکھیں جمائے بیٹھے تھے۔

سیریز کا فیصلہ تو دوسرے میچ میں ہی ہوچکا تھا اور زمبابوے کو مسلسل ہرانے کا سلسلہ بھی جاری تھا اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں تھی اور سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو رہا تھا۔

جب سب کچھ طے ہو اور پھر بابر اعظم اینڈ کمپنی کے پاس کھونے کو بھی کچھ نہ ہو تو یہی  امید کی جاسکتی تھی کہ فاتحین کے انداز میں کچھ سخاوت اور دریا دلی کا مظاہرہ ہوگا۔

آج لطف وکرم کی بارش ان لڑکوں پر ہوگی جن کی آنکھیں انتظار کی کیفیت میں خشک ہو گئی تھیں، لیکن قسمت کی دیوی صرف خوشدل شاہ پر ہی مہربان ہوئی۔ عبداللہ شفیق بس ہاتھ ملتے رہ گئے اور ایک بار پھر مسلسل ناکام فخر زمان کھیل گئے۔

عثمان قادر، ظفر گوہر بھی پویلین سے گراؤنڈ کا راستہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ناپتے رہے مگر گرین کیپ سر پر نہ سجا سکے، حالانکہ عثمان قادر کو بہت امیدیں دلائی گئی تھیں۔

زمبابوے کی ٹیم اس سیریز میں کسی بڑے نتیجے کی تلاش میں تو نہیں تھی لیکن آنکھوں میں کچھ خواب ضرور سجے ہوئے تھے۔

ون ڈے رینکنگ میں 14ویں نمبر کی ٹیم کے پاس کھونے کو تو کچھ نہیں تھا لیکن پاکستان ٹیم کی بیٹنگ کے نشیب و فراز پر ضرور بھروسہ تھا کہ کہیں تو موقع دے گی۔

مسلسل دس ایک روزہ میچ میں شکست کا اندراج زمبابوے کے حوصلوں کو کم کرنے کے لیے کافی تھا اور پھر پانچ سال میں کوئی جیت بھی نہیں تھی کہ جس کا تذکرہ ہوتا رہے۔

پاکستان کے مقابلے میں زمبابوے کا کرکٹ سٹرکچر شاید پاکستان کے ایک صوبے سے بھی کمزور ہے۔ مکمل سہولیات بس ہرارے کلب میں ہی میسر ہیں، بقیہ گراؤنڈز تو کسی کلب گراؤنڈ سے بھی کم تر ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود زمبابوے کی ٹیم کچھ سال قبل تک ایک مضبوط ٹیم ہوتی تھی اور ہر ٹیم کو سخت مقابلہ دیتی تھی لیکن کچھ سیاسی حالات اور کچھ مواقع کی کمی نے بتدریج اسے آخری نمبروں تک پہنچادیا ہے۔

راولپنڈی کے تیسرے میچ میں جب زمبابوے کے کھلاڑی میدان میں اترے ہوں گے تو شاید یہی کہا ہوگا کہ جیت بھی انہی راہوں سے ہی آتی ہے جس سے شکست آتی ہے، اس لیے آج جیت لے کر جانا ہے۔

زمبابوے کی بیٹنگ پہلے پاکستان کی طرح لڑکھڑائی اور پھر سنبھل گئی جس کا سارا کریڈٹ شون ولیمز کو جاتا ہے۔ ان کی پرسکون اننگ نے صرف سنچری کا مزہ ہی نہیں چکھا بلکہ پاکستانی بولرز کو خوب مزہ بھی چکھایا۔ خاص طور سے نوجوان موسیٰ خان تو بہت ہی پریشان رہے۔

محمد حسنین نے البتہ اچھی بولنگ کی رفتار کے ساتھ لینتھ کا بھی صحیح استعمال کیا۔ اس طرح پانچ وکٹوں کی کارکردگی نے ان کا انتخاب درست ثابت کردیا۔

راولپنڈی کے گراؤنڈ میں جب روشنیاں جلنا شروع ہو رہی تھیں تو اوپنر امام اور فخر زمان کا وکٹ پر چراغ گل ہو رہا تھا۔ امام الحق کے ساتھ کپتان بابر اعظم دوستی کا صحیح حق ادا کر رہے ہیں ۔۔ کچھ کرو نہ کرو امام تم کھیلو گے ضرور !

اب اسے ان کی لاپرواہی کہیں یا کچھ اور کہ مرزبانی کی ایک گیند جو گھومی، نہ نیچے گئی، بس امام الحق نے بغیر دیکھے کھیلا اور بولڈ ہوگئے۔

فخر زمان جس تیزی سے تنزلی کا شکار ہوئے ہیں اس نے ان کا اعتماد مجروح کردیا ہے۔آج بھی ایک سیدھی گیند کو کراس کھیلا اور صفر پر آؤٹ ہوکر چل دیئے۔

سب کو دیکھ کر حیدر علی بھی حماقتوں کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ جب ایک سر جھکا کر کھیل کی ضرورت تھی تو وہ کراس سٹروک پلے کر رہے تھے۔ شاید بھول گئے کہ بھائی کرکٹ میں فرنٹ فٹ کے ساتھ بیک فٹ پر بھی کھیلا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اننگ اگر دیکھنے والی تھی تو بابر اعظم کی، توازن اور ٹائمنگ کا لاجواب شاہکار، ہر شاٹ نپا تلا اور اپنی جگہ خود بناتا ہوا۔ بابر کی شاندار سنچری ان کے کرئیر کی ایک یادگار اننگ ہوتی اگر جیت جاتے۔

قابل تعریف وہاب ریاض بھی تھے جو آج اسی اعتماد سے کھیل رہے تھے جیسے ورلڈکپ کے میچ میں افغانستان کے خلاف کھیلے تھے۔ وہاب ہی وہ واحد کھلاڑی تھے جو پاکستان کیمپ کی امید بن گئے تھے، لیکن برا ہوا کمزور ریاضی کا جو رن ریٹ کا غلط حساب کرگئے اور غلط وقت پر بابر کو چھوڑ گئے۔

شاید سب کچھ صحیح رہتا اگر بابر بھی عجلت نہ کرتے لیکن مرزبانی جو پوری سیریز میں مضطرب تھے، آخر کار آج دور حاضر کے سب سے اچھے بلے باز کو وکٹ کے پیچھے کیچ کرا گئے۔ صرف ایک یہی نہیں بلکہ پاکستان کی پانچ اہم وکٹیں لے اڑے۔

اب آخری وکٹ، آخری اوور اور 13 رنز۔ ایسا لگتا تھا پاکستان کے ہاتھ سے میچ نکل گیا ہے لیکن بولنگ میں ناکام موسیٰ خان نے بیٹنگ میں ہاتھ دکھادیا اور نگاروا کو دو چوکے لگا کر میچ ٹائی ٹائی کردیا۔

بات اب سپر اوور تک آگئی۔ مصباح الحق نے سپر اوور کے لیے تین غلط بلے بازوں کا انتخاب کیا۔ مناسب ہوتا کہ بابر اعظم کو بھیجتے، جو شاندار فارم میں تھے، سنچری کرچکے تھے لیکن بھیجا بھی تو کسے؟ افتخار احمد کو، جو پوری سیریز میں ناکام رہے تھے اور پھر فخر زمان، جو پہلے ہی صفر پر آؤٹ ہوچکے تھے۔

بے یقینی کے عالم میں پاکستان سپر اوور میں بس 2 رنز بنا سکا، جس نے سالوں سے جیت کا خواب دیکھنے والی زمبابوے ٹیم کو بالآخر فتح سے ہمکنار کردیا۔

پاکستان سیریز تو جیت چکا تھا لیکن وائٹ واش کرنے کا اس کا خواب ادھورا رہ گیا اور زمبابوے کا خواب پورا ہوگیا۔

دونوں ٹیمیں اب راولپنڈی میں 7 ، 8 اور 10 نومبر کو تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ