ٹرمپ صدارت: ایک ڈراؤنے خواب کا خاتمہ

ٹرمپ عہد اختتام پذیر ہوا ہے مگر ٹرمپ کی سوچ کئی دہائیوں تک زندہ رہے گی اور وہ یقینا جلد یا بدیر کسی اور ٹرمپ کی صورت میں ظہور پذیر ہو گی۔

بہت سارے لوگ ان کے نسل پرستانہ رویے سے بھی مایوس ہوئے خصوصا ٹرمپ کی ٹویٹس میں نسل پرستانہ زبان اور اس پر کسی قسم کی شرمندگی نہ ہونا انہیں اپنا انتخابی ووٹ تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوا (کارٹون: امجد رسمی۔ الشرق الاوسط)

یہ تحریر آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست سے امریکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اور تقریبا ساری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

ٹرمپ نے ناصرف امریکہ کو طبقاتی، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا بلکہ جارحانہ طرز عمل پر مبنی خارجہ پالیسی کی وجہ سے عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈالا۔

ٹرمپ سے پہلے کسی امریکی صدر نے اخلاقیات اور سیاسی معیار کے اتنے انتہائی نچلے درجے کو نہیں چھوا تھا۔ وہ ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے اور انہیں اس پر کسی پشیمانی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ ان کے کئی ساتھیوں کو غیرقانونی سرگرمیوں اور جھوٹ بولنے پر سزا ہوئی۔ ان کا ایوان نمائندگان نے مواخذہ بھی کیا مگر ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

انہیں سیاہ فام امریکیوں کی زندگی سے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اس لیے انہیں انتہاپسند سفید فام امریکیوں میں بھی اچھے لوگ دکھائی دیتے تھے۔ ٹرمپ نے ان سفید فاموں کو جو دل سے نسل پرست تھے، زبان اور ہمت دی کہ وہ سیاہ فاموں، لاطینی، غیرعیسائی اور تارکین وطن کو کھلے عام ڈرا دھمکا سکیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنائیں۔

ایک غیرسنجیدہ سیاست دان کا ثبوت دیتے ہوئے وہ کرونا (کورونا) کے بارے میں انتہائی عجیب اور غیرسائنسی خیالات رکھتے تھے۔ انہیں سائنس سے ویسے بھی خاص دلچسپی نہیں تھی اور سائنس دانوں کو بیوقوف سمجھتے تھے۔ انہیں موسمی تبدیلی بھی ایک سائنسی سازش نظر آتی تھی۔

امریکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک صدر نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا اور یہ اہم ادارہ انہیں اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے منع کرنے میں ناکام نظر آیا۔

ٹرمپ نے ملک کو تقسیم کرتے ہوئے مختلف اداروں کو چاہے ایگزیکٹو، عدلیہ، تحقیقاتی ادارے یا موسمیاتی ایجنسی، سبھی کو اپنے پیروکاروں سے بھر دیا۔ ان اقدامات سے ناصرف ان اداروں کی آزادی متاثر ہوئی بلکہ رپبلکن گورنروں کو بھی ترغیب ہوئی کہ وہ انتخابات جیتنے کے لیے انتخابی قوانین میں اپنی خواہشات کے مطابق تبدیلیاں کر سکیں۔ ایسے اقدامات اب شاید نئی ڈیموکریٹک انتظامیہ کو بھی مجبور کریں کہ وہ ان اداروں خصوصاً عدلیہ میں اپنے حمایتی ججز  بھر سکیں۔ شاید ڈیموکریٹ انتظامیہ نئی ریاستیں بھی بنائے جس سے انہیں سینیٹ میں اکثریت حاصل ہو سکے۔

امریکہ میں پہلی دفعہ ایک صدر نے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھا اور کھلے عام اپنے آپ کو کسی بھی جرم سے معافی دینے کی بات کی۔ ٹرمپ نے جھوٹ پر مبنی اپنے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے مرکزی دھارے والے میڈیا کو مسلسل بدنام کیا جس سے امریکیوں کو ٹرمپ کے بارے میں کسی بھی منفی خبر پر یقین کرنا مشکل سا ہو گیا۔ ہر وہ معتبر خبر جو ٹرمپ کے خلاف ہوتی اس کی صداقت پر ٹرمپ سوال کھڑے کر دیتا تھا۔ غرض ٹرمپ صدارت نے امریکہ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا اور وہ ایک نئے پست درجے پر کھڑا نظر آیا۔

ٹرمپ کی اٹھان امریکہ جیسی پرانی جمہوریت میں بڑی انہونی سی لگتی ہے۔ ایسا کم علم رکھنے والا اور سیاسی دانش مندی سے مبرا شخص پہلی دفعہ امریکہ میں اس اعلی مقام پر پہنچا۔ ٹرمپ جیسے سیاست دان کی سوچ رکھنے والی ذہنیت کی ابتدا صدر اوباما کے انتخابات کے فورا بعد شروع ہوئی۔ انتہا پسند اور کم خواندہ سفید فام امریکیوں کے لیے ایک سیاہ فام صدر کا انتخاب ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔

انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کا صدر ایک سیاہ فام بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اوباما سے پہلے سفید فام امریکی ہی صدر منتخب ہوتے ہوئے آئے تھے تو اس طرح کے نسل پرست امریکی عموما انتخابات میں کم ہی ووٹ ڈالتے تھے۔ لیکن صدر اوباما کے انتخاب کے بعد ان میں ایک سیاسی بیداری پیدا کی گئی کہ سفید فام اکثریت خطرے میں ہے اور وہ جلد اپنے ہی ملک میں اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی۔

اس سلسلے میں انتہا پسند اور قدامت پسند سیاسی گروہوں نے بہت سرگرمی سے حصہ لیا اور ایک نئی تحریک ٹی پارٹی کے نام کا آغاز ہوا۔ اس کے ذریعے ان سفید فام امریکیوں میں یہ جذبہ بیدار کیا گیا کہ انہیں اپنا ملک واپس لینا ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے قدامت پسند سیاسی مبصروں نے نمایاں کردار ادا کیا اور یہی ذہنیت ان لوگوں کو بہت بڑی تعداد میں پہلی دفعہ پولنگ سٹیشن تک لائی اور صدر ٹرمپ کو 2016 میں اقتدار میں لانے میں کامیاب ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گو اس اس فتح میں ان ووٹرز کا بھی کردار تھا جو ڈیموکریٹ تو تھے لیکن ہلری کلنٹن کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر پسند نہیں کرتے تھے اور 2016 میں پولنگ سٹیشنز پر نہیں گئے۔

امریکہ کی خاموش اکثریت کو جگانے کے باوجود ٹرمپ دوبارہ اس لیے منتخب نہ ہوسکے کہ جن سوئی ہوئی انتہا پسند سفید فام قوتوں کو انہوں نے جگایا ان کی مخالف قوتوں نے ٹرمپ کے مزید تباہ کن چار سال کے خوف میں بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشن کا رخ کیا اور اپنے ووٹ ڈالنے کے ہر قانونی طریقے کو استعمال کیا۔

بہت سارے قدامت پسند ووٹرز نے جنہوں نے 2016 میں ٹرمپ کو ووٹ دیا وہ اس کی چار سال کی کارکردگی خصوصا اس کے اپنے ذاتی معاملات میں ایک صدر کی شان کے خلاف ناگوار رویے سے مایوس ہوئے بائیڈن کے حق میں ووٹ دیا۔ وہ 2016 میں ٹرمپ کو ووٹ دیتے ہوئے جانتے تھے کہ وہ باقی صدور سے اپنے رویے میں انتہائی مختلف ہوں گے مگر انہیں اس قدر پستی کی توقع نہیں تھی۔

ان میں بہت سارے لوگ ان کے نسل پرستانہ رویے سے بھی مایوس ہوئے خصوصا ٹرمپ کی ٹویٹس میں نسل پرستانہ زبان اور اس پر کسی قسم کی شرمندگی نہ ہونا انہیں اپنا انتخابی ووٹ تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ ٹرمپ اپنے اس رویے کی وجہ سے ماسوائے روایتی ووٹرز کے نئے ووٹرز کی تعداد بھی بڑھانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اپنے روایتی ووٹرز کی تعداد پر جیتنے کے لیے بہت زیادہ انحصار کرتے ہوئے نئے ووٹرز بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی۔

کرونا بحران سے انتہائی غیرسنجیدہ انداز میں نمٹنے میں بھی ٹرمپ کو کافی ووٹوں کا نقصان ہوا۔ دو لاکھ تیس ہزار سے زیادہ امریکیوں کی اموات کو بھی صدر ٹرمپ نے اس بنیاد پر اپنی بڑی کامیابی گردانا کہ اس سے کئی زیادہ اموات بھی ہو سکتی تھیں۔ اس قدر غیر ذمہ دارانہ اور کچھ حد تک ظالمانہ بیانات نے کئی امریکیوں کو اپنے صدر کی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں پر شکوک میں مبتلا کر دیا۔

ٹرمپ عہد اختتام پذیر ہوا ہے مگر ٹرمپ کی سوچ کئی دہائیوں تک زندہ رہے گی اور وہ یقینا جلد یا بدیر کسی اور ٹرمپ کی صورت میں ظہور پذیر ہو گی۔

ٹرمپ نے جن منفی قوتوں اور سوچوں کو آزاد کیا ہے انہیں آسانی سے واپس مقید نہیں کیا جا سکتا اور یہی ٹرمپ کی امریکہ کے لیے حقیقی میراث ثابت ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ