اپنے بچوں میں آٹزم کی علامات جانیے

خیبر پختونخوا کی تعلیمی درسگاہ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات نے پانچ نومبر کو اہم نفسیاتی عارضے ’آٹزم‘ کے لیے پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ایک ایسے یونٹ کا افتتاح کیاہے جہاں آٹزم کی تشخیص کے ساتھ علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

(فائل فوٹو۔ اے ایف پی)

آٹزم کیا ہے؟

نفسیاتی ماہرین کے مطابق آٹزم ایک پیچیدہ بیماری ہے جو عام طور پر بچپن میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ایک انسان کی معاشرتی زندگی، تعلقات اور اظہار خیال کی اہلیت کو متاثر کرکے اس پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔

آٹزم  سے متاثرہ شخص میں ایسے رویے پائے جاتے ہیں جو معاشرتی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہوتے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے سے پورا جسم متاثر ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے شکار  بچوں کو اضطراب، ڈپریشن اور نیند کی کمی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

آٹزم پر بین الاقوامی ریسرچ یہ بھی کہتی ہے کہ اس نفسیاتی بیماری سے متاثرہ ایک تہائی بچوں کو مرگی کے دورے بھی پڑتے ہیں۔

آٹزم کی علامات کیا ہیں؟

نفسیاتی ماہرین کے مطابق آٹزم کی علامات میں سینکڑوں قسم کے رویے شامل ہیں، تاہم یہ رویے مائلڈ اور شدید دو طرح کے ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے نیشنل آٹزم ایسوسی ایشن کے مطابق آٹزم کے شکار بچے سماجی لحاظ سے نارمل بچوں سے مختلف ہوتے ہیں۔

اس بیماری میں مبتلا کچھ بچے ایک یا دو سال کی عمر سے پہلے معمول کے مطابق دکھائی دیتے ہیں لیکن بعد کے سالوں میں ان کے رویوں میں اچانک تبدیلی رونما ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ 

نفسیاتی ماہرین کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں

  1. سماجی تعلقات سے کترانا۔
  2. طبیعت میں جارحانہ پن۔
  3. نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا۔
  4. ہر وقت کی بے چینی اور خوف۔
  5. بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دل۔
  6. توجہ دینے میں دشواری ۔
  7. تنہائی پسند اور گوشہ نشین۔
  8. بات کرتے وقت آنکھیں چرانا۔
  9. الفاظ اور جملوں کو دہرانا۔
  10. ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا۔
  11. اپنا مطلب سمجھانے یا بات کا اظہار کرنے میں دشواری

نفسیاتی بیماری آٹزم پر خیبر پختونخوا میں کوئی توجہ یا تحقیق نہیں

خیبر پختونخوا کی تعلیمی درسگاہ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات نے پانچ نومبر کو اہم نفسیاتی عارضے ’آٹزم‘ کے لیے پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ایک ایسے یونٹ کا افتتاح کیاہے جہاں آٹزم کی تشخیص کے ساتھ علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

شعبہ نفسیات کی چئیر پرسن ڈاکٹر ارم ارشاد نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے دوران کہا کہ شعبہ نفسیات نے آٹزم یونٹ کا قیام اپنی مدد آپ کے تحت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سرکاری ہسپتالوں میں آٹزم کے علاج کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔

’نجی سطح پر شاید اکا دکا انتظامات ہوں لیکن سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی شماریات کے مطابق ہر 54 میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہوتا ہے۔ اور اگر بروقت ایسے بچے کا علاج نہ کیا جائے تو اس کی پوری زندگی برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر ارم نے بتایا کہ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات نے 2010 میں عوام کے نفسیاتی مسائل حل کرنے کے لیے  اپنی مدد آپ کے تحت ایک کلینک کھولا تھا، جس کے بعد کئی والدین نے ان سے اپنے ’آٹسٹک‘ بچوں کے لیے رابطے کیے۔

’ہمیں اندازہ ہوا کہ ایسے بچوں کی تعداد یا تو بہت زیادہ ہے یا بڑھتی جارہی ہے۔ لیکن چونکہ صوبے میں آٹزم کے حوالے سے کوئی یونٹ یا ہسپتال نہیں تھا لہذا اس پر نہ تو ڈیٹا اور نہ ہی کوئی ریسرچ دستیاب تھی۔اب ہمارے پاس تمام سہولیات موجود ہیں۔ کلینکل سائیکالوجسٹس بھی ہیں اور بول چال کی تھیراپی (سپیچ تھیراپی)  دینے کے لیے بھی تربیت یافتہ لوگ موجود ہیں۔‘

ایک امریکی سروے کے مطابق لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔

 نفسیات کے شعبے پر توجہ کی ضرورت

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی چیئر پرسن ڈاکٹر ارم ارشاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی منظم کلینک یا ہسپتال موجود نہ ہونے کی وجہ سے آٹزم کے حوالے سے کسی قسم کا ڈیٹا یا ریسرچ موجود نہیں ہے، جس سے معلوم کیا جا سکے کہ اس صوبے میں کتنے فیصد بچے اس طویل العمر بیماری سے متاثر ہوتے ہیں، اور اس بیماری کا ان کی ذات اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور کی ایک نجی کلینک میں کام کرنے والی سائیکالوجسٹ پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ اگر نفسیاتی بیماریوں پر زیادہ سے زیادہ ریسرچ کیا جائے تو اس سے  ایک صحت مند معاشرےکی تشکیل میں مدد ملتی ہے۔

تاہم پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت شعبہ نفسیات کے حوالے سے یا تو سنجیدہ نہیں ہے یا پھر زیادہ شعور نہیں رکھتی۔

’اگر حکومت باشعور ہوتی تو نفسیات کے شعبے میں بڑی ترقی ہوئی ہوتی۔ نتیجے کے طور پر معاشرے میں نفسیاتی بیماریوں سے متعلق آگاہی ہوتی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت