ساہیوال جیل:’عید پر نماز اکٹھی پڑھنے کے مطالبے کے بعد تشدد میں اضافہ‘

فیصل آباد بم دھماکہ کیس میں سزائےموت پانے والے ملزم کے بھائی ضیاالرحمن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ اس جیل میں قیدیوں سےگوانتانامو بے سے بھی بدتر سلوک کیاجارہاہے۔

(اے ایف پی)

پنجاب کے ضلع ساہیوال کی ہائی سکیورٹی جیل میں بند قیدیوں کی طرف سے تشددکا الزام رپورٹ کیا گیا ہے۔

ان قیدیوں کے ورثا نے جیل انتظامیہ کی طرف سے غیر انسانی سلوک اور قیدیوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جانےکی شکایات کی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایاکہ جیل میں بند بیشتر قیدی تشدد کے باعث شدید زخمی ہیں اور بعض کی ہڈیاں توڑ دی گئی ہیں۔ اس لیے ملاقات کے وقت انہیں گھسیٹ کر یا وہیل چئیرپر لایاجاتاہے اور انہیں کھانا یا ضروری اشیا پہنچانے کی بھی اجازت نہیں۔ ان زیادتیوں کے خلاف قیدی بھوک ہڑتال پر مجبور ہیں۔

جیل انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ خطرناک ملزموں کے لیے بنائی گئی جیل ہے جہاں عام جیلوں جیسا سلوک نہیں کیاجاسکتا۔

قیدیوں کی شکایات:

فیصل آباد بم دھماکہ کیس میں سزائےموت پانے والے ملزم عثمان غنی بھی 2016سے اس جیل میں قید ہیں۔ ان کے بھائی ضیاالرحمن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ ان کے بھائی سے جیل میں غیر انسانی سلوک کیاجارہاہے۔ ملاقات بھی بہت مشکل سے ہوتی ہے اور قیدیوں کو کھانے پینے کی اشیا یا ضروری استعمال کاسامان دینے کی بھی اجازت نہیں۔ 

انہوں نے کہاکہ جب وہ ہفتہ پہلے ملاقات کے لیے گئے تو ان کے بھائی کو وہیل چیئر پرلایاگیا اور شیشے والی کمرے سے ملاقات کرائی گئی یعنی ایک دوسرے سے ہاتھ بھی نہیں ملا سکے۔

قیدی عثمان نے اپنے بھائی کوبتایاکہ جیل میں تشدد سے ان کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور دیگر بھی کئی قیدی تشدد کے باعث اسی حالت میں ہیں۔ 

ان کے مطابق ’اس جیل میں قیدیوں سےگوانتانامو بے سے بھی بدتر سلوک کیاجارہاہے۔‘

ضیا کے مطابق گزشتہ عید سے قیدیوں پر تشدد بڑھادیاگیاجب انہوں نے عید کی نماز اکھٹے پڑھنے کا مطالبہ کیالیکن انتظامیہ نے انہیں اجازت دینے کی بجائے سختی بڑھادی۔

انہوں نے کہاکہ قیدیوں کو علیحدہ علیحدہ سیل میں بند رکھاگیاہے ایک دوسرے سے بولنے یا ملنے کی بھی اجازت نہیں۔ اور اگر کوئی قیدی اندر کے حالات اپنے ملاقاتیوں کو بتائے اسے بھی تشدد کانشانہ بنایاجاتاہے۔

اسی جیل میں بند ایک اور قیدی عبدالقیوم کے بھانجے قاری عبداللہ نے انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ماموں سے ملاقات کے دوران انہوں نے بتایاکہ یہاں بہت ظلم کیا جاتاہے، شلوار سے ازار بند تک نکال لیے جاتے ہیں ستر ڈھانپنے میں بھی مشکلات ہیں۔ اور عبادت کی بھی اجازت نہیں نہ ہی چلنے پھرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ 

عبداللہ نے کہاکہ قیدیوں کی زندگی موت تو عدالتی فیصلوں پر منحصر ہے لیکن جب تک زندہ ہیں ان سے غیر انسانی سلوک تو نہ کیاجائے۔ کم از کم قیدیوں کو ان کے حقوق تو دیے جائیں تاکہ وہ وقت تو آسانی سے گزار سکیں۔

ان کے مطابق عبدالقیوم پانچ بچوں کے باپ ہیں جو 2010میں فیصل آباد سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ 

عدالتوں میں بازیابی کے لیے درخواستیں دیں تو 2013میں سکیورٹی اداروں نے سپریم کو بتایاکہ انہیں لکی مروت میں رکھاگیاہے اور ان پر الزام ہے کہ وہ2009میں آئی ایس آئی کے ملتان دفتر دھماکہ میں ملوث تھا۔ جبکہ انسداد دہشت گردی ملتان کی عدالت میں بہتر گواہان یا فیصلے میں عبدالقیوم کا ذکر نہیں تھا۔

لیکن فوجی عدالت نے انہیں سزائےموت سنائی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل چل رہی ہے۔ عبدالقیوم کو2016میں ہائی سکیورٹی جیل ساہیوال منتقل کیاگیاتھا۔ 

انہوں نے کہاکہ ان کے ماموں پر بھی تشدد کیاجاتاہے اور ملاقات بھی کافی مشکل سے ہوتی ہے ملاقاتیوں سے بھی بدتمیزی کی جاتی ہے۔

حکومت سے مطالبات:

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (ڈی ایچ آر) کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق انہیں ہائی سکیورٹی جیل ساہیوال کے پانچ سے زائدقیدیوں کے لواحقین کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ساہیوال جیل میں قیدی تنگ آکر بھوک ہڑتال کرتےہیں ، کچھ عرصہ قبل بھی قیدیوں نے اپنے مطالبات کی منطوری کے لیے بھوک ہڑتال کی تھی جو تشدد کر کے ختم کروا دی گئی تھی۔ 

انہوں نے کہا کہ ساہیوال جیل میں قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے۔ قیدیوں کو برہنہ کر دیا جاتا ہے،بے رحمانہ تشدد سے قیدیوں کی ہڈیاں تک توڑ دی جاتی ہیں، انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی جاتی، قیدیوں کو الگ الگ سیلز میں بند رکھا جاتا ہے جہاں ان کی ویڈیو بن رہی ہوتی ہے۔

ان کی ملاقاتیں تک بند ہیں انہیں دھوپ میں نہیں نکالا جاتا اورکھانے پینے کا سامان جو لواحقین لاتے ہیں اسے قیدیوں تک نہیں پہنچایا جاتا،کئی کئی گھنٹے تکلیف دہ حالات میں بیٹھنے،کھڑا رہنے یا لیٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا ہے کہ قیدیوں کیساتھ اس قدر ظالمانہ سلوک کا کوئی آئینی،قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیدیوں کو ان کے آئینی اور انسانی حقوق ملنے چاہییں اور ان پر جیل میں تشدد کا نوٹس لیاجائے۔

ہائی سکیورٹی جیل ساہیوال مختلف کیوں؟

یہ سوال جب ایڈیشنل سپرانٹینڈنٹ ہائی سکیورٹی جیل ساہیوال ٹیپو سلطان سے پوچھاگیاتو انہوں نے کہاکہ اس نام سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ یہ کوئی عام جیل نہیں بلکہ یہاں ہائی پروفائل جرائم میں ملوث ملزموں کو رکھاجاتاہے اس لیے یہاں سکیورٹی بھی اسی لحاظ سے سخت ہوتی ہے جس کی وجہ سے کچھ مسائل ہوسکتے ہیں۔ 

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اس جیل میں ساڑھے تین سو قیدی ہیں جن میں بیشتر دہشت گردی جیسے واقعات میں سزا یافتہ ہیں۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں پر تشدد اور غیر انسانی سلوک کا الزام درست نہیں کیونکہ ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہوتی۔ تمام قیدیوں کو جیل قوانین کے مطابق رکھاجاتاہے اور ان پر قانونی پابندیاں ضرور ہوتی ہیں جو عام جیلوں میں کم ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ یہاں بیرکوں میں سب قیدیوں کو ایک ساتھ نہیں رکھاجاسکتا ان کے علیحدہ سیل ہیں دوسرا یہ کہ ملاقاتیں بھی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص اوقات میں کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر کسی قیدی کو شکایات ہوں تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ قیدیوں سے کوئی زیادتی نہیں ہورہی نہ ہی کسی کو بلاوجہ تشدد کانشانہ بنایاجاتاہے۔

محکمہ داخلہ کی رپورٹس کے مطابق اس جیل میں سیکیورٹی کے جدید ترین آلات سے نصب ہیں یہ عالمی معیار کی ہائی سکیورٹی جیل ہے ۔ جس میں اسامہ بن لادن آپریشن کیس کے ملزم شکیل آفریدی سمیت کئی خطرناک ملزموں کو بند کیاگیاہے۔ ساہیوال میں قائم اس جیل کی تعمیر کا کام 2015 میں مکمل ہوا اور اسے امریکی سکیورٹی اداروں کے فنی تعاون سے تعمیر کیا گیا۔

یہ واحد جیل ہے جہاں رینجرز اور پاکستانی فوج کے جوان بھی جدید اسلحہ کے ساتھ 24گھنٹےسکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان