دس ہزار نجی سکول مستقل بند: آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن

اس بارے میں بلوچستان پرائیویٹ سکولز گرینڈ الائنس کے صدر نذر محمد بڑیچ نے انکشاف کیا کہ ’بند ہونے والے سکولوں سے نکلنے والے بچے اب مدارس میں داخلہ لے رہے ہیں۔‘

(اے ایف پی)

حکومت نے ملک میں کرونا کی دوسری لہر کے دوران بڑھتے ہوئے کیسسز کے پیش نظر  26 نومبر سے 11 جنوری تک ملک بھر میں تعلیمی ادارے پھر سے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اس اعلان کے بعد سے نجی سکولوں کی انتظامیہ اور مالکان و اساتذہ پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر وہ نجی سکول جنہیں لو کوسٹ سکولز کہا جاتا ہے اور ان کی فیس 500 سے 2000 کے درمیان ہوتی ہے۔

نذر محمد بڑیچ بلوچستان پرائیویٹ سکولز گرینڈ الائنس کے صدر ہیں اور کوئٹہ میں دو بھی سکول چلاتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے نذر نے بتایا ’میرا ایک سکول  زہری ٹاؤن ہزار گنجی میں تھا۔  جسے میں مستقل بند کر چکا ہوں جبکہ دوسرا بڑیچ ٹاون مشرقی بائی پاس کوئٹہ میں ہے جسے اسی سال بند کر دوں گا۔ ہزار گنجی والا سکول ایک کرائے کی عمارت میں چل رہا تھا جب کہ علاقے کے 335 بچے یہاں تعلیم حاصل کر رہے تھے جنہیں15 اساتذہ پڑھا رہے تھے۔ میں  نے سکول اس لیے بند کیا کیونکہ عمارت کا کرایہ، اساتذہ کی تنخواہ اور دیگر اخراجات میں ادا نہیں کر پا رہا تھا۔‘

نذر کے خیال میں ’بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے لیکن کرونا کے سبب سب سے زیادہ تعلیمی نقصان بھی اسی صوبے کا ہوا۔ پہلے بلوچستان میں تقریباً 2800 تھوڑی فیسیں لینے والے چھوٹے نجی سکول تھے جن میں آٹھ لاکھ کے قریب بچے زیر تعلیم تھے۔ اب کرونا کے بعد جب تعلیمی ادارے کھلے تو ان نجی سکولوں کا گراف 2000 سے بھی گر گیا یعنی آٹھ سو سے زائد سکول بند ہو گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کا سسٹم باقی صوبوں کی نسبت تھوڑا مختلف ہے۔ ’یہاں ونٹرزون (سردیوں کی چھٹیاں) ہوتا ہے جو 15 دسمبر سے شروع ہو کر یکم مارچ تک جاتا ہے۔ گزشتہ برس جب کرونا ابھی نہیں آیا تھا تو ہمیں حکومت کی  جانب سے نوٹیفیکشن آیا کہ کوئٹہ اور بلوچستان میں بارشیں زیادہ ہو رہی ہیں تو تعلیمی ادارے یکم دسمبر سے بند کر دیے جائیں۔ ہم نے سکول بند کر دیے اور جب سکولوں کو مارچ میں کھلنا تھا تو کرونا آچکا تھا۔ سکول کھلے اس سال 15 ستمبر کو، اور 15 نومبر تک کھلے رہے۔ 15 دسمبر سے بلوچستان کا گزٹڈ ونٹر زون شروع ہونے والا ہے جس کے تحت سکول ویسے ہی یکم مارچ تک بند ہو جانے ہیں۔‘

’ہم نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ 15 دسمبر تک پرائمری سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے دیں۔ بچوں نے ان ڈھائی، تین ماہ میں جو اپنے پہلے یا آخری سمیسٹر کی تیاری کی ہے اس کے امتحانات دے دیں۔ لیکن حکومت نے اعلان کیا کہ امتحانات نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ کچھ بچوں کے ایک دو پرچے ہو بھی چکے ہیں۔‘

نذرکے بقول ’بلوچستان  کے لو کوسٹ نجی سکولوں میں  55 ہزار کے قریب اساتذہ اور دیگر سٹاف خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ کرونا کے بعد انہی میں سے کم از کم 18 سے 19 ہزار تک تعداد میں سٹاف بے روزگار ہوا ہے۔ اور 80 فیصد خواتین سٹاف ہے۔‘

 نذر نے ایک اور بات کا انکشاف کیا ’اس ساری صورتحال میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ بند ہونے والے سکولوں سے نکلنے والے بچے اب مدارس میں داخلہ لے رہے ہیں۔ صورتحال یہی رہی تو مستقبل میں آپ ان علاقوں میں بڑھنے والی شدت پسندی کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب کاشف مرزا صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ’کرونا کی وبا کے دوران ملک بھر کے 10 ہزار سے زائد نجی سکول بند ہو چکے ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر تعلیم کے سلسلے کواب بند کیا گیا تو مزید 20 سے 25 ہزار تعلیمی ادارے بند ہو جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’تعلیمی ادارے بند ہونے کا سب سے بڑا نقصان بلوچستان اور کے پی میں ہوا ہے۔ وہاں تعلیمی ادارے دسمبر 2019 سے بند تھے۔ ستمبر میں جب تعلیمی ادارے کھلے تو بہت سے سکول مالکان جو آٹھ، دس ماہ کے لیے اپنی جیب سے خرچہ نہیں چلا سکتے تھے۔ وہ اپنے سکول بند کر گئے۔  90 فیصد سکول کرائے کی عمارتوں میں کھلے ہیں۔ جب کرائے نہیں دیے تو مالکان نے اپنی عمارتیں خالی کروا لیں اور سکول بند کرنے پڑے۔ ان دو صوبوں کے اندر ہی لگ بھگ چار ہزار کے قریب تعلیمی ادارے بند ہوئے ہیں۔‘

کاشف مرزا کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں بھی بہت سے سکول بند ہوئے اور اسی طرح اندرون سندھ میں بند ہوئے۔ ’یہ وہ علاقے ہیں جہاں خواندگی کی شرح پہلے ہی بہت کم ہے۔ تعلیمی اداروں کے بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچے تعلیم سے کٹ گئے، اساتذہ بے روزگار ہو گئے۔ یہ لوگ یا کوئی دوسرا روزگار ڈھونڈیں گے  جو یقیناً ان حالات میں نہیں ملے گا اس لیے ممکن ہے کہ یہ لوگ کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوجائیں، یا بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہوں گے جس کے بعد وہ دوبارہ تعلیم میں واپس نہیں آسکیں گے اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے جس کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں 500 ارب کی اکانومی ہے جس میں سکول والے، یونیفارم والے، سٹیشنری والے سبھی اس حصہ ڈالتے ہیں۔ سب کچھ بند ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔

ان کہنا تھا ’دو کروڑ 61 لاکھ بچے نجی سکولوں میں پڑھ رہے تھے اور دو کروڑ 19 لاکھ بچے پبلک سکولوں میں پڑھ رہے تھے۔ نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں میں سے ایک کروڑ 30 لاکھ بچے سکول واپس نہیں آئے۔ سکولوں کی حاضری50 فیصد سے زیادہ جا ہی نہیں سکی۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے 15 لاکھ اساتذہ میں سے سات لاکھ اساتذہ تعلیمی اداروں میں واپس نہیں آئے۔‘

ان کا مزید کہناتھا کہ ’کرونا تعلیمی اداروں سے نہیں پھیل رہا بلکہ سیاسی اجتماعات سے پھیل رہا ہے جو حکومت نے بھی کیے اور دیگرسیاسی جماعتوں نے بھی۔‘

’ان حالات میں تعلیمی ادارے جو تعلیم فراہم کر رہے ہیں ان کو آپ نے بند کر دیا ہے۔ آن لائن پڑھانے کی سہولت صرف 14 فیصد ہے جو بڑے سکول تو فراہم کر سکتے ہیں مگر بیشتر لو کوسٹ نجی سکول نہیں کر سکتے۔‘

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے تعلیمی ادارے بند کرنے کے اعلان کے بعد نیشنل ایجوکیشن کونسل پاکستان کے چیرمین نذر حسین نے بھی پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بچوں کی تعلیم اور تعلیمی اداروں کی بندش قبول نہیں کی جائے گی۔ جب کہ تعلیمی ادادروں کی بندش کے خلاف ملک بھر میں تحریک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان