’یہ ماشاءاللہ با با جی حفیظ سینٹر ہے‘

حفیظ سینٹر کے وہ تاجر یا چھوٹے دکاندار جن کی دکانیں دوسری منزل سے نیچے تھیں انہوں نے اپنا کاروبار جاری رکھنے کا نیا طریقہ نکالا ہے۔

18 اکتوبر 2020 کو حفیظ سینٹر لاہور کی جلی ہوئی عمارت میں کچھ حد تک صفائی ستھرائی کے کام کا آغاز چند روز سے جاری ہے۔ ابھی وہاں سے صرف جلی ہوئی دکانوں کی خاک کو دوسری، تیسری اور چوتھی منزل سے باہر پھینکا جا رہا ہے۔ مکمل صفائی کب تک ہو جائے گی اور عمارت کب تک پھر سے استعمال کے قابل ہو گی، اس بارے میں یہاں کے تاجروں کو کچھ خاص علم نہیں ہے۔

کاروبار ایک ماہ تک بند رہنے کا مطلب یہ ہے کہ گھر کا چولہا بھی بند۔

اسی لیے حفیظ سینٹر کے وہ تاجر یا چھوٹے دکاندار جن کی دکانیں دوسری منزل سے نیچے تھیں انہوں نے اپنا کاروبار جاری رکھنے کا نیا طریقہ نکالا ہے۔

الصبح آپ حفیظ سینٹر کے باہر جا کر کھڑے ہوجائیں تو آپ کو وہاں پارک ہوئی گاڑیاں، ریڑھیاں اور دیگر چھوٹے چھوٹے کاؤنٹر لگے نظر آئیں گے۔ ان سب پر تاجران اپنا سامان سجاتے نظر آتے ہیں تاکہ وہ دکان لگا سکیں۔

پلازہ چونکہ بند ہے اس لیے آگ سے بچ جانے والی دکانوں کا سامان بھی بچ گیا۔ اسی لیے ان دکان مالکان جن میں سے زیادہ تر کا کام موبائل، لیپ ٹاپ یا دیگر الیکٹرانک آلات کی مرمت اور الیکٹرانک کی چھوٹی موٹی اشیا جو بڑے گیجٹس کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں جیسے موبائل کوورز، ہینڈ فری، کی بورڈز وغیرہ کو حفیظ سینٹر کے باہر ہی سٹال لگا کر بیچنا شروع کر دیا ہے۔

محمد آصف شاہد کی بھی موبائل ٹھیک کرنے کی دکان تھی جس میں 16 لوگ شئیرنگ پر کام کرتے تھے۔ پلازہ بند ہوا تو ان کا کام بھی بند ہو گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے آصف کا کہنا تھا کہ گاہک یہاں آتے ہیں تو ان کا پہلا سوال ہوتا ہے کہ آپ کی دکان کدھر ہے؟ آپ ہماری چیز لے کر بھاگ تو نہیں جاؤ گے لیکن ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ گاہک ہمارے سامنے اپنا کام کروا کر جائے اور ساتھ ہی ہمارے پاس انہیں یقین دلانے کے لیے وزٹنگ کارڈز اور بل بک بھی ہے۔

’یہاں سب حفیظ سینٹر والے بیٹھے ہیں۔ سب نے گھر کا خرچہ چلانا ہے اس لیے کوئی نہ کوئی جگاڑ تو لگانی تھی۔‘

آصف نے بتایا کہ انہیں پلازے کے باہر دکان لگانے کے لیے صبح چھ بجے یا اس سے بھی پہلے پہنچنا پڑتا ہے ورنہ سٹال لگانے کی جگہ نہیں ملتی۔

عبدالرزاق بھی موبائل اکسیسریز بیچتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں صبح سات بجے سے پہلے آتے ہیں۔ اتنے کاؤنٹر ہیں ماشا اللہ اتنی دکانیں ہیں۔ ہر بندہ پریشان ہے لیکن ہر بندہ مجبور ہے باہر بیٹھنے کے لیے آنا پڑتا ہے ہمیں۔  سامان ہم نے دوسرے پلازوں  میں رکھا ہوا ہے وہاں سے جا کر لانا پڑتا ہے۔‘

’سامان سمجھ لیں ایسے رکھا ہوا ہے جیسے ردی پڑی ہوتی ہے۔‘

عبدالرزاق نے بتاتے ہیں کہ ابھی تک حکومت یا پلازہ یونین والوں نے دکانداروں کو کچھ نہیں بتایا کہ پلازہ کب کھلے گا۔

ایک اور دکاندار عامر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مارکیٹ بند پڑی ہے دکان بند ہے۔ اس میں چار، چار، پانچ پانچ لوگ کام کرتے تھے وہ سب بیروزگار ہوئے ہیں۔ دکان سے ہم سڑک پر آ گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا خیال ہے کہ وہ کچھ جو حفیظ سینٹر میں کماتے تھے۔ یہاں سڑک پر ویسی کمائی نہیں لیکن پھر بھی کچھ گزارا ہو رہا ہے۔

’حکومت اور پلازہ کی انتظامیہ تاریخ پر تاریخ دے دیتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا کہ 25 نومبر تک پلازہ کھل جائے گا، پھر کہا یکم دسمبر اور اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ پلازہ دس دسمبر کو کھلے گا۔ ہماری تو بس حکومت سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے پلازے کو جلد از جلد بحال کرے۔‘

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حفیظ سینٹر دس دسمبرتک کھل بھی جاتا ہے تو کیا گاہک اس جلی ہوئی عمارت کے بچ جانے والے حصے کو محفوظ سمجھیں گے۔ کیا وہ اس بچ جانے والے حصے کے اندر جا کر خرید و فروخت کر سکیں گے؟

اس حوالے سے کچھ تاجران کا کہنا تھا کہ جب تک حفیظ سینٹر مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتا اس کی صفائی ستھرائی اور مرمت کا کام نہیں ہو جاتا، پلازہ پہلے کی طرح دکھنے نہیں لگتا تب تک گاہک یہاں داخل ہونے سے ڈریں گے۔

جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ پلازے کو صرف صاف کر دیں باقی مرمت ہوتی رہے گی اور اسے کھول دیا جائے تو گاہک ضرور آئیں گے کیونکہ دوسری منزل سے نیچے والی سبھی منزلیں بالکل صحیح حالت میں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان