قبائلی اضلاع کے پریس کلبوں کی گرانٹ التوا کا شکار

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے قبائلی اضلاع میں سات پریس کلبوں کے لیے ایک کروڑ چالیس لاکھ کی گرانٹ کا اعلان کیا مگر سیکرٹری اطلاعات کے نوٹیفکشن کے مطابق سرکاری ملازمین بھی صحافیوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے گرانٹ جاری نہیں کی جا سکتی۔

کامران بنگش کے مطابق قبائلی اضلاع میں کئی سرکاری ملازمین پریس کلبوں کے رکن بن گئے ہیں (تصویر بشکریہ فرہاد شنواری ٹوئٹر)

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے طویل عرصے کے بعد قبائلی اضلاع میں پریس کلبوں کو گرانٹ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن گذشتہ ایک سال سے صحافیوں کی صفوں میں شامل سرکاری ملازمین کی وجہ سے یہ گرانٹ التوا کا شکار ہے۔ 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چند ماہ قبل قبائلی اضلاع میں سات پریس کلبوں کے لیے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا تھا جس میں ہر پریس کلب کو بیس، بیس لاکھ روپے ملنے تھے۔ مگر اس اعلان کے کچھ عرصے بعد سیکرٹری اطلاعات نے ایک تحریری نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام پریس کلبوں کو آگاہ کیا کہ ان میں سرکاری ملازمین بھی صحافیوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے گرانٹ جاری نہیں کرسکتے۔

سیکرٹری اطلاعات کے نوٹیفکشن کے مطابق اس انکشاف کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب تک پریس کلبوں میں سرکاری ملازمین کی ممبر شپ ختم نہ کی جائے تب تک تمام پریس کلبوں سے گرانٹ کو روکا جا رہا ہے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ تمام پریس کلس کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ پریس کلبوں اور یونینز سے سرکاری ملازمین کو فارغ کر دیں اور پریس کلبس میں ان کے سرگرمیوں پر پابندی لگائیں۔ 

سیکٹری اطلاعات کے تحریری نوٹس پر صوبائی وزیر اطلاعات کامران بنگش نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ’تمام پریس کلبوں کو گرانٹ جاری کیے جائیں گے اور چیک تیار پڑے ہیں تاہم بعض صحافیوں کی درخواست پر کہ سابق فاٹا کے پریس کلبوں میں سرکاری ملازمین بھی ممبر ہیں، اس گرانٹ کو روک لیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ صحافت کی آڑ میں ڈیوٹی سے غیر حاضر سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا: ’ٹیچر رہے گا یا صحافی۔ ایک کام کرنا ہوگا دو کام بیک وقت نہیں ہوسکتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ گرانٹ فراہم کی جائے گی ’مگر ایک بات ہے کہ صحافت سے وابستہ تمام سرکاری ملازمین اپنے لیے ایک ہی راستہ چن لیں، سرکاری نوکر بن جائیں یا صحافی، ایک کام کو چھوڑنا پڑے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ تمام ضم شدہ اضلاع کے پریس کلبوں کے تعمیر کے ساتھ ساتھ نقد پیسے بھی دیے جا رہے ہیں اور چیک تیار ہیں اور عنقریب ہی تمام پریس کلبوں کے صدور کو بلا کر دیے جائیں گے۔

کامران بنگش کے مطابق قبائلی اضلاع میں جو سرکاری ملازمین پریس کلبوں کے ممبر بن گئے ہیں ان کو یہاں سے جانا ہوگا یا سرکاری ملازمت سے خود کو فارغ کرکے قانونی طریقے سے صحافت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ 

دوسری جانب ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر صفدر داوڑ نے بتایا کہ اب ان کی کوششوں سے صوبائی حکومت کو اس بات پر رضامند کر لیا گیا ہے کہ وہ پریس کلبوں کو گرنٹ جاری کر دیں اور بعد میں سرکاری ملازمین کی ممبر شیپ ختم کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس میں 80 سے زیادہ سرکاری ملازمین صحافت کے نام پر یونین میں شامل ہوگئے تھے۔

صفدر کے مطابق جب یونین کا آئین بنا اور سرکاری ملازمین کے آنے پر مکمل پانبدی عائد کی گئی تب سے ان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پورے قبائلی اضلاع میں صرف 35 سرکاری ملازمین رہ گئے ہیں جو صحافت کے نام پر اپنے ڈیوٹیاں سرانجام دینے سے قاصر ہیں۔

صفدر داوڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’صحافت کے نام پر ڈیوٹی نہ کرنے والے ملک اور قوم دونوں کے دشمن ہیں اور صحافت کے آڑ میں وہ صرف ڈیوٹی سے خود کو بچا رہے ہیں اور وہ کوئی خدمت نہیں کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرکاری ملازمین کو بہت جلد پریس کلبوں سے نکال دیا جائے گا۔ 

وانا پریس کلب کے صدر شہزاد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ پارٹ ٹائم جاب پر پابندی دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سابق فاٹا میں بعض سرکاری ملازمین نے پارٹ ٹائم صحافت میں حصہ لیا ہے اور اپنے قلم کے ذریعے ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سدھیر آفریدی ایک باصلاحیت اور ایمان دار استاذ ہیں اور پارٹ ٹائم صحافت میں بھی حصہ لیتے ہیں اور کوئی بھی یہ ثابت نہیں کرسکتا ہے کہ سدھیر نے سکول سے غیرحاضری کی ہے یا ان کے کلاس میں بچے دوسروں کے مقابلے نمایاں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سدھیر نے جس طرح صحافت میں نام بنایا ہے اور قلم کے ذرئع علاقے کی خدمت کی ہے ویسے سے سکول میں کام کیا ہے۔

شہزاد کے مطابق گذشتہ 10 سالوں سے کسی سرکاری ملازم کو یونین اور پریس کلبوں میں ممبرشیپ نہیں ملی ہے اور جو پہلے سے تھے وہ بھی بتدریج کم ہوتے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان