گھریلو تشدد سے خوف زدہ خواتین کے لیے انجلینا جولی کا پیغام

امریکی اداکارہ اور سماجی کارکن کا کہنا ہے چھٹیاں خواتین کے لیے خاص طور پر ایک مشکل وقت ہو سکتی ہیں اور ایسے میں انہیں ساتھ دینے والوں کی ضرورت پڑے گی۔

انجلینا جولی نے گذشتہ کئی سال دینا بھر کی ایسی خواتین کے ساتھ کام کرتے گزارے ہیں جو تشدد اور استحصال شکار ہو چکی ہیں (اے ایف پی)

معروف امریکی اداکارہ اور سماجی کارکن انجلینا جولی نے ان کرسمس چھٹیوں کے دوران گھریلو تشدد کے خدشے سے خوف زدہ خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا نیٹ ورک بنائیں اور ’اتحادی بنائیں‘ جو ان کا ساتھ دیں گے۔

سیول میں ہونے والی دوسری انٹرنیشنل کانفرنس آن ایکشن ود ویمن اینڈ پیس میں ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے انجلینا نے کہا کہ کرسمس بہت سی خواتین کے لیے ایک مشکل وقت ہو سکتا ہے۔ ’کسی سے بات کریں، اتحادی ڈھونڈنے کی کوشش کریں، کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں سے جڑے رہیں۔‘

انجلینا نے کہا: ’مثال کے طور پر آپ اپنے کسی دوست یا فیملی ممبر کے ساتھ ایک کوڈ ورڈ رکھ سکتی ہیں جس کو سنتے ہی انہیں معلوم ہو جائے کہ آپ کو کسی ایمرجنسی کا سامنا ہے۔ شروعات ایک نیٹ ورک بنانے سے کریں اور معلومات حاصل کریں۔‘

45 سالہ انجلینا نے گذشتہ کئی سال دینا بھر کی ایسی خواتین کے ساتھ کام کرتے گزارے ہیں جو تشدد اور استحصال کا سامنا کر چکی ہیں۔ 2012 میں انہوں نے برطانیہ کے اس وقت کے سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ کے ساتھ مل کر جنگی یا تنازعے کی صورت حالوں میں جنسی تشدد کو روکنے کی کوششوں پر معمور ایک مہم کی بنیاد رکھی۔

پریونٹنگ سیکشول وائلنس ان کانفلٹ انیشیئٹو (پی ایس وی آئی) کا مقصد جنگی صورت حال میں ریپ کو ایک ہتھیار کے طور پر استمعال کرنے سے روکنا ہے، جنسی تشدد کے جرائم کو حاصل استشنیٰ کے کلچر کو ختم کرنا، ان کا نشانہ بننے سے جڑے داغ کو کم کرنا اور ان جرائم میں ملوث افراد کو قانونی سزا دلانا ہے۔  

گذشتہ ماہ ہونے والی کانفرنس میں انہوں نے جنسی تشدد کے خلاف پروگرامز کے لیے مزید فنڈنگ جاری کرنے اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنان کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مدد حاصل کرنے کے بہت سے ذرائعے ہیں۔ ’ایسا کہنے میں تکلیف ہوتی ہے مگر آپ یہ نہیں سوچ سکتیں کہ آپ کے سب دوست اور احباب آپ کا یقین کرنا چاہیں گے اور آپ کا ساتھ دیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’اکثر آپ کی مدد کرنے والے انجان لوگ ہوں گے یا دوسرے متاثرین یا سپورٹ یا مذہی گروپ۔ لیکن سب سے اہم یہ کہ آپ محتاط رہیں۔ صرف آپ ہی جانتی ہیں کہ آپ کتنے خطرے میں ہیں اور جب تک آپ کو گھر کے باہر سے سپورٹ نہ ملے آپ خود کو بہت اکیلا محسوس کر سکتی ہیں۔‘

یو این ویمن کے مطابق گذشتہ سال 24.3 کروڑ خواتین اور بچیاں اپنے کسی قریبی پارٹنر یا رشتہ دار کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوئیں، ان خواتین میں سے 40 فیصد سے بھی کم اس کو رپورٹ کرتی ہیں یا اپنے لیے مدد ڈھونڈتی ہیں۔

انجلینا نے، جو چھ بچوں کی والدہ ہیں اور جنہیں وہ اپنے سابق شوہر بریڈ پٹ کے ساتھ شیئر کرتی ہیں، سب پر زور دیا کہ اپنے آس پاس غور کریں اور نظر رکھیں کہ کہیں ان کے دوست اور رشتہ دار استحصال یا بدسلوکی کا شکار تو نہ ہو رہے۔

انہوں نے کہا: ’اگر کبھی بھی آپ کو لگا ہو کہ کسی کو آپ جانتے ہیں اور کسی طریقے سے بھی مشکل میں ہو تو آپ ان کے قریب رہنے کی کوشش کریں اور ان کی زندگی میں شامل رہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ان پر واضح کریں آپ ان کے لیے موجود ہیں۔ ایک اور چیز جو ہم سب کر سکتے ہیں وہ ہے خود کو اس کے بارے میں آگاہ کرنا۔ گھریلو تشدد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا۔ یہ سیکھنا کہ ٹراما ہماری صحت پر کیسے اثر کرتا ہے اور کیا تبدیلیاں لا سکتا ہے، خاص طور پر بچوں میں۔ ان مسائل کو سنجیدگی سے لیں۔ اس کو سنجیدگی سے لیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘

انہوں نے کہا: ’ان کی سنیں۔ ان کے بارے میں اپنے دل میں منفی خیالات پیدا نہ کریں۔ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کتنے بڑے جذباتی، مالیاتی اور قانونی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس میں ان کے ساتھ ہونے والے واقعات کے بارے میں چپ رہنے کا دباؤ بھی شامل ہے۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ ٹراما اور پی ٹی ایس ڈی سے گزر رہے ہوں گے۔‘

انجلینا نے، جو اپنی ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی کارکن کے طور پر مشہور ہیں، کہا کہ وہ دنیا بھر میں ایسے مسائل دیکھتی ہیں ’خواتین خاص طور پر غیر محفوظ ہیں کیونکہ معاشرے غیر مساوی ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’جنگ اور معاشی بحرانوں میں خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ تمام پناہ گزینوں اور بے گھر ہو جانے والے افراد میں ان کی تعداد دو تہائی تک ہے اور یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔‘

انہوں دنیا بھر کے معاشروں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ ’ہم گھریلو اور جسنی تشدد کو کہیں بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے اور ہم اکثر اس ٹراما اور ان زخموں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ان بچوں نے سہے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے گھروں میں تشدد کو ہوتے دیکھا ہے یا اس کا نشانہ بنے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی گھر