کرونا وبا کے دوران صرف ضروری مقدمے سنے جائیں گے: عدالت

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ کرونا کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر آئندہ دو ہفتوں کے لیے صرف فوری نوعیت کے کیس سنے جائیں گے۔ تاہم جہاں وکلا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا وہیں بینکوں کے قانونی معاملات دیکھنے والے افسران کو اس پر تشویش ہے۔

(لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ)

پاکستان میں کرونا (کورونا)  وائرس کی وبا کی دوسری لہر دن بدن زور پکڑ رہی ہے جس کے بعد کیسز میں اضافے کے پیش نظر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے رواں ہفتے سے آئندہ دو ہفتوں کی ریگولر مقدمات کی کاز لسٹ معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے چار بینچز ہیں جس میں لاہور ہائی کورٹ کا مرکزی بینچ، لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ اور لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ شامل ہیں۔ یہاں آئندہ دو ہفتوں کو ’موشن ویک‘ قرار دے دیا گیا ہے جس کے تحت صرف ارجنٹ یعنی فوری نوعیت کے مقدمات اور عدالت کی جانب سے فکس کیے گئے مقدمات کی سماعت ہوگی۔

اس کے علاوہ سیکشن 22 اے کی فوجداری درخواستوں، ضمانتی درخواستوں، عبوری حکم ناموں کے خلاف رٹ پٹیشن اور ملازمتی معاملات سے متعلق مخصوص پٹیشنز پر سماعت ہوگی۔

اس حوالے سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے وکلا سے رابطہ کیا تو وہ اس فیصلے کی تائید کرتے اور اسے سراہتے نظر آئے۔ البتہ قانونی معملات کو دیکھنے والے بینکوں کے افسران کچھ حد تک پریشان دکھائی دیے۔

پنجاب بار کوسنل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئر مین ایڈووکیٹ فرہاد علی شاہ نے بتایا کہ پرانے کیسز کی ایک ریڈ لسٹ جاری کی گئی تھی اور کرونا وبا پھیلنے کے بعد چار سے چھ ماہ تک جن مقدمات کی سماعت نہیں ہوئی تھی اب انہیں نمٹایا جارہا تھا۔

انہوں نے کہا: ’چیف جسٹس کے حالیہ فیصلے کے مطابق فوری سنے جانے والے مقدمات، جن میں ضمانت، سٹے، کسی کی بازیابی یا پولیس تشدد کے کیس شامل ہیں یا پھر ایسےمقدمات جو کورٹ نے خود فکس کیے ہیں، ان کیسز کے علاوہ ریگولر کالز کو موشن کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میرے خیال میں اس فیصلے کا فائدہ ہوگا کیونکہ عدالتوں میں بہت زیادہ رش ہونے کی وجہ سے کرونا کیسز کے مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ میں صوبائی بار کونسل کے سبراہ ہونے کی حیثیت سے چیف جسٹس کے اس اقدام کو خوش آئیند سمجھتا ہوں کیونکہ یہ فیصلہ وقت کی ضرورت ہے اور پنجاب بار اس میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

ان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ایڈوکیٹ افتخار حسین شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے اس فیصلے سے قانونی چارہ جوئی کا کوئی بہت زیادہ نقصان نہیں ہوا کیونکہ 21 دسمبر سے چار جنوری تک ہائی کورٹ کی موسم سرما کی چھٹیاں ہوں گی۔ اس لیے جن دو ہفتوں میں سماعتیں ملتوی کی گئی ہیں ان میں 10 سے 12 دن ہی کام ہونا تھا کیونکہ جمعے کو صرف سنگل بیچز ہوتے ہیں، ہفتے کا دن فیصلے لکھنے کا ہوتا ہے اور اس دن کوئی سماعت نہیں ہوتی جبکہ اتوار چھٹی ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایڈوکیٹ افتخار حسین شاہ نے کہا: ’چیف جسٹس نے ان مقدمات کی سماعت ملتوی کی ہے جو ایک لمبے عرصے سے چلے آرہے تھے۔ وہ کیس جن میں کارروائی پوری نہیں ہوئی یا ان کا پروسیجر پورا نہیں ہوا۔ کسی میں جواب آنا ہے۔ یعنی ایسے کیسز جن میں کوئی بہت بڑی کارروائی نہیں ہونے والی تھی۔ اس وقت حالات چونکہ سازگار نہیں ہیں اس لیے وکلا برادری اس فیصلے کو اچھی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کورپوریٹ مقدمات کی سماعت بھی بند کی گئی ہے خاص طور پر بینکنگ کے کیسز جن میں اربوں روپوں کے معاملات ہیں اور ان کیسز میں وقت لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سردی بھی عروج پر ہے اور ان دنوں میں لوگ ویسے بھی عدالتوں میں زیادہ آتے ہیں کیونکہ چھٹیوں کے دنوں میں ضمانتوں یا دیگر نوعیت کے فوری حل طلب معملات کا رش لگ جاتا ہے، اس لیے عدالتیں اس وقت صرف ایسے فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہی کریں گی۔

انہوں نے کہا: ’اس فیصلے کا فائدہ یہ ہوگا کہ عدالتوں میں رش کم ہو جائے گا اور لوگوں کو کرونا سے نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی۔‘

’بینکوں کے قرضوں کی وصولی کا عمل سست ہوگا‘

دوسری جانب مختلف بینکوں کے سینیئر فسران جو بینکوں کے قانونی معاملات کو دیکھتے ہیں انہوں نے چیف جسٹس کے اس فیصلے پر کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مختلف افسران کا کہنا تھا کہ کرونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر تو یہ اچھا فیصلہ ہے لیکن جس طرح سے کرونا سے متعلق ہی جو دیگر فیصلے لیے گئے ان سے معیشت اور دیگر شعبوں کو نقصان ہوا، اسی طرح عدالتی معاملات کو محدود کرنے سے جہاں بیماری کے پھیلاؤ میں کچھ کمی آئے گی وہاں نقصان بھی ہوگا۔

بینکرز ہونے کی حیثیت سے ان افسران کے خیال میں قرضوں کی وصولی سے متعلق جو مقدمات اس وقت زیر سماعت ہیں ان میں تاخیر سے یقیناً بینکوں کے قرضوں کی وصولی کا عمل سست ہو جائے گا۔

ایک سینیئر بینکر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتاتا کہ قرضوں کے مقدموں میں دفاعی وکل پہلے ہی تاخیری حربے استعمال کر رہے تھے اور اب اس فیصلے سے ایسے وکلا کے موقل، جو قرضوں کے ڈیفالٹرز ہیں، ان کو فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کرونا وبا کی پہلی لہر کے دوران عدالتوں کی بندش سے ڈیفالڑز پہلے ہی کافی فائدہ اٹھا چکے ہیں، اور اگر ان دو ہفتوں کے بعد کیسز ویسے ہی بڑھ رہے ہوں اور عدالت کو پھر سے سماعتوں میں تاخیر کا فیصلہ لینا پڑا ’تو یقیناً اس سے جہاں بینکوں کے قرضوں کی وصولی کا عمل سست ہوگا وہیں معیشت پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وبا میں تیزی کے پیش نظر عدالت کا یہ فیصلہ لینا بھی ضروری تھا۔

بینکرز کے خیال میں اگر آئی ٹی کا  شعبہ زیادہ ترقی پا چکا ہوتا تو مقدمات کو آن لائن سنا جاسکتا تھا جس طرح حال ہی میں سپریم کورٹ نے سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، خالد انور کو گھر سے آن لائن مقدمے میں بحث کی اجازت دی تھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عدالتوں میں صرف وکلا اور ضروری گواہان کو ہی داخلے کی اجازت دی جائے تاکہ عدالتوں میں رش کم سے کم ہو اور کرونا ایس او پیز پر آسانی سے عمل درآمد کیا جاسکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان