سونے سے پہلے ان سات کاموں سے پرہیز کریں

رات کو نیند نہ آنے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ آپ کو بےخوابی کی بیماری ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جانے سے قبل یہ سات کام کر کے دیکھ لیجیے۔

نیند نہ آنے کی  کئی  وجوہات ہیں جنہیں اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر دور کیا جا سکتا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

جدید دور میں نیند کی کمی وبا کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اور بڑی عمر کے لوگوں کے علاوہ نوجوانوں کو بھی سونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں 20 فیصد لوگوں کو نیند کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔

تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو بےخوابی کی بیماری لاحق ہے۔ یہ بیماری اتنی عام نہیں ہے جتنا عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں اور اس کی تشخیص صرف ڈاکٹر ہی ضروری معائنے اور طبی ہسٹری لینے کے بعد کر سکتا ہے۔ نیند نہ آنے کی دوسری کئی وجوہات ہیں جنہیں اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر دور کیا جا سکتا ہے۔

1 سونے سے عین پہلے ورزش نہ کریں

بعض لوگوں کو دن کے وقت ورزش کی فرصت نہیں ملتی تو وہ رات کو سونے سے عین پہلے جاگنگ یا دوسری قسم کی ورزش کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ورزش کے جسمانی اور ذہنی فائدے بےشمار ہیں، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ سونے سے پہلے ورزش کریں تو اس سے آپ کے جسم کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے جسم چست ہو جاتا ہے اور اسے سونے میں مشکل پیش آتی ہے۔ البتہ ہلکی پھلکی واک یا یوگا سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

2 نیند کی گولیاں نہ کھائیں

نیند کی گولیاں صرف اسی صورت میں استعمال کریں جب آپ کو بےخوابی کا مرض لاحق ہو اور ڈاکٹر نے نیند نہ آنے کی دوسری تمام وجوہات کو رد کر دیا ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیند کی گولیوں کا نقصان یہ ہے کہ ان سے آپ عادی ہو جائیں گے اور پھر آپ کو ان کے بغیر نیند بالکل نہیں آئے گی۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ نیند کی گولی سے آنے والی نیند سے جسم کو اس طرح سے مکمل آرام نہیں ملتا جتنا قدرتی نیند سے اور آپ سات گھنٹے سونے کے بعد بھی خود کو تھکا تھکا محسوس کریں گے۔

ایک اور نقصان یہ ہے کہ رات کو نیند کی گولیاں کھا کر صبح اٹھیں تو آپ پر غنودگی اور بیزاری چھائی رہے گی۔ ایسی حالت میں گاڑی چلانا یا کوئی بھاری مشینری استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

3 سہ پہر کے بعد کافی نہ پییں

کافی میں کیفین ہوتی ہے جو ذہن کو چست و چالاک رکھتی ہے اور نیند کو بھگا دیتی ہے۔ کافی کی ایک پیالی میں 95 ملی گرام کے لگ بھگ کیفین ہوتی ہے جو آٹھ گھنٹے تک بدن میں رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے شام پانچ بجے کافی پی ہے تو اس کا اثر رات کے ایک بجے تک رہے گا۔

چائے میں بھی کیفین ہوتی ہے، تاہم اس کی مقدار 26 ملی گرام کے لگ بھگ ہوتی ہے، یعنی کافی سے بہت کم۔ تاہم اس کے باوجود سونے سے تین گھنٹے پہلے چائے نہ پی جائے تو بہتر ہے۔ 

4 سونے سے پہلے موبائل فون استعمال نہ کریں

بہت سے لوگوں کی عادت بن گئی ہے کہ رات کو سونے سے پہلے بستر پر لیٹے لیٹے موبائل فون پر سوشل میڈیا کی ورق گردانی کرتے رہتے ہیں۔

اس کا نیند پر منفی اثر پڑتا ہے کیوں کہ موبائل کی سکرین سے نیلی اور سفید روشنی نکل کر آنکھوں میں داخل ہوتی ہے جس سے دماغ کو پیغام ملتا ہے کہ ابھی دن ہے اور سونے کا وقت نہیں آیا۔

بہتر طریقہ یہ ہے کہ سونے سے پہلے کم از کم ایک گھنٹہ کوئی اچھی سی کتاب پڑھیں۔ اس سے آپ کے ادبی ذوق کی تسکین ہو گی، معلومات میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ نیند بھی ڈٹ کر آئے گی۔

5 سونے سے بالکل پہلے مرغن کھانا نہ کھائیں

سونے کا مطلب ہے تمام جسم کو آرام ملنا، لیکن اگر آپ لمبا چوڑا ڈنر کرنے کے فوراً بعد سونے کی کوشش کریں گے تو بےچارے معدے کو آرام کو موقع نہیں ملے گا کیوں کہ اس کا کام تو ابھی شروع ہوا ہے۔

اس سے ایک طرف تو بدہضمی کی شکایت ہو سکتی ہے تو دوسری طرف نیند بھی اچھی نہیں آئے گی۔ اس لیے کوشش کریں کہ نیند کے وقت سے تین چار گھنٹے پہلے ہی کھانا تناول کرلیں۔

6 سونے کا وقت نہ بدلیں

کوشش کریں کہ روزانہ ایک ہی وقت پر سوئیں تاکہ جسم اور دماغ کی عادت پڑ جائے۔ اگر آپ وقت سے پہلے یا وقت کے بعد سونے کی کوشش کریں گے تو جسم کو اپنے سسٹم بند کر کے نیند کے تیار ہونے میں دشواری پیش آئے گی۔

7 سونے سے پہلے بحث و تکرار سے پرہیز کریں

جب آپ کسی گرماگرم بحث اور تکرار میں پڑ جائیں تو جسم اسے ہنگامی صورتِ حال سمجھ کر تناؤ کے ہارمون خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحث ختم ہونے کے بعد بھی آپ کا ذہن لاشعوری طور پر اسی بحث کے تانوں بانوں میں الجھا رہے گا اور آپ کو سونے میں دشواری ہو گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت