بیک ٹو ٹریک ٹو

پی ڈی ایم اور حکومت سمیت فائدہ سب کا اِسی میں ہے کہ بیک ٹو ٹریک ٹو اور عوام کو ملکی مسائل سے نجات دلوائی جائے کیونکہ یہی اصل سیاست ہے۔

(اے ایف پی)

دو کالم گزرے اِنہی صفحات پر تحریر کیا تھا کہ شہباز شریف کا جیل سے باہر ہونا حکومت کے لیے سود مند ہے اور یہ کہ جلد ہی اس سلسلے میں ایک معتبر اور موثر رابطہ کیا جائے گا اور وہی ہوا۔

فنکشنل لیگ کے محمد علی درانی کی جیل میں شہباز شریف سے ’اچانک‘ اور ’دور رس‘ ملاقات جس میں بات چیت اور سیاسی کمپرومائز یا ’کچھ لو کچھ دو‘ کا واضح پیغام دیا گیا۔

یہاں یہ بات بھی نوٹ فرما لیجیے کہ پیغام رسانی بذریعہ و براستہ فنکشنل لیگ کی داغ بیل وزیراعظم ہاؤس سے نہیں بلکہ کہیں اور سے ہوئی ہے۔

کوشش انتہائی سنجیدہ ہے اور خود بقول درانی صاحب شہبازشریف کی طرف سے مثبت اشارے ملے ہیں لیکن بڑی رکاوٹ وہی ہے کہ چھوٹے میاں جیل میں ہیں اور کال کوٹھڑی کی سنگلاخ دیواروں میں روشنی کی مدھم کرنیں ہی پہنچ سکتی ہیں۔ کچھ کھُلی فضا کی دھوپ لگے تازہ ہوا پہنچے تو پرواز میں آسانی اور روانی پیدا ہو۔

لگے ہاتھوں اب یہ بھی جان لیجیے کہ قرین قیاس ہے کہ اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے کچھ عارضی اور وقتی اقدامات کیے جائیں تاکہ نتائج دیکھے جا سکیں اور اُن نتائج کی بنیاد پر مزید اقدامات پر غور کیا جائے۔

جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا کہ اِس بار کا رابطہ محض ’فنکشنل‘ ہی نہیں بلکہ انتہائی معتبر اور موثر ہے جس کا گرین سگنل اعلیٰ کمان تک سے حاصل کیا گیا اسی لیے جھٹ سے نواز شریف اور مریم نواز کا ٹویٹی بیان بھی جاری ہوگیا کہ خبردار کسی قسم کا ڈائیلاگ نہ کیا جائے۔

یہ دو دھاری پیغام ڈائیلاگ کے دونوں سِروں پر موجود شخصیات کے لیے واضح تھا لیکن اِس کی کاٹ کتنی موثر ہوتی ہے اس کے بارے شکوک و شبہات بہرحال پائے جائیں گے۔

کیا نواز شریف اور مریم نواز کا بیان شہباز کی پرواز میں رکاوٹ یا رخنہ ڈال سکتا ہے...؟ اِس کا تعین چند حقائق سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

اوّل تو پی ڈی ایم اپنی حکومت مخالف تحریک کا (momentum) عارضی طور پر تعطل میں ڈال چکی ہے جس میں بڑا ڈینٹ لاہور کے توقعات کے برخلاف جلسے نے ڈالا۔

دوئم حکومت نے کمال ہوشیاری سے سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کروانے اور شو آف ہینڈ/ اوپن بیلٹ سے کروانے کی چال چل کر پوری سیاسی بساط ہی پی ڈی ایم پر اُلٹ دی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ لاہور جلسے کے بعد سے پی ڈی ایم دفاعی (mode) مُوڈ میں چلی گئی جبکہ حکومت مسلسل (attacking) جارحانہ مُوڈ میں آگئی اور تاحال حکومت کو اپوزیشن پر سیاسی (upper hand) حاصل ہے۔

حکومتی چال کے نتیجے میں پی ڈی ایم تاحال سٹریٹیجی اور آئندہ کی حکمتِ عملی کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ بار بار سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے نام پر مزید کنفیوژن کا شکار ہو رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تحریک کے قیام سے ہی تمام آپشنز پر سیر حاصل غور اور اتفاقِ رائے حاصل کیا جاتا اور حکومت کے ہر ممکنہ وار کا توڑ پہلے ہی سوچ لیا جاتا لیکن جب تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو والے محاورے کے مصداق سیاسی پلاننگ کی جائے گی تو اِسی طرح کی کنفیوژڈ صورتحال سے بچاؤ نا ممکن ہے۔

ہر حکومتی حربے کے جواب میں پی ڈی ایم نیا سربراہی اجلاس طلب کرلیتی ہے اور سیاسی جنگ بازی میں مدافعتی یا (reactionary) اپروچ اپنائے ہوئے ہے حالانکہ پی ڈی ایم اگر واقعی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا لائحہ عمل اپناتی تو طریقہ کار مسلسل (pro-active) ہوتا اور لگاتار فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہوئے حکومت کو بیک فُٹ پر رکھتی لیکن حقیقت یہی ہے کہ سینیٹ الیکشن والے پَتّے سے حکومت نے اپوزیشن کو (caught in surprise) کیا اور اب ٹریک ٹو ڈائیلاگ کی داغ بیل ڈالنے سے ایک اور سرپرائز دیا گیا ہے۔

لاہور جلسے کے بعد استعفوں کے معاملے پر بھی پی ڈی ایم بیک فُٹ پر ہے۔

جہاں سیاسی حکمتِ عملی کے تحت فوکس حکومت کے استعفوں پر ہونا چاہیے اُس کے بجائے زیر بحث پی ڈی ایم کے استعفے ہیں۔ درمیان میں پیپلزپارٹی کا استعفوں کے آپشن کو استعمال کرنے اور ٹائمنگ کے حوالے سے اختلاف، ضمنی الیکشن اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی مختلف سوچ اور پھر آصف زرداری صاحب کا نواز شریف مولانا فضل الرحمان صاحبان سے رابطہ اور گفتگو......

یہ سب وہ معاملات رہے جنہوں نے پی ڈی ایم کے (momentum) کو سست کردیا ہے۔ ’سونے پر سہاگہ‘ کہ لاہور جلسے سے لے کر اگلی حکمتِ عملی تک ایک طویل وقفہ ہے۔ جہاں حالات پل بھر میں بدلتے ہوں وہاں 31 جنوری یا یکم فروری ایک طویل دورانیہ ہے۔

دوسرے، تاحال لانگ مارچ کی حتمی تاریخ اور حکمتِ عملی بھی سامنے نہیں آسکی۔ خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ جس طرح استعفوں، ضمنی الیکشن اور سینیٹ انتخاب میں حصّہ لینے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی مختلف اور منفرد رائے سامنے آئی ہے اسی طرح لانگ مارچ اور اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے بھی پیپلزپارٹی کی الگ سوچ سامنے آسکتی ہے۔

واضح طور پر پی پی کسی بڑے ٹکراؤ سے گریزاں پالیسی پر عمل پیرا ہے اور آئی جی سندھ والے معاملے پر رپورٹ کو ’مِٹی پاؤ‘ کرکے گول مول کر جانا اِس کی واضح حالیہ مثال ہے۔

پیپلزپارٹی کی اِس میچور، نَپی تُلی، مزاحمت اوڑھے مفاہمانہ پالیسی کو وزن دار اور فیصلہ ساز حلقوں میں مسلسل سراہا بھی جا رہا ہے۔

دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن اتحاد میں سب سے زیادہ (stake) پاکستان پیپلزپارٹی کا ہی ہے جس کی ایک صوبے میں حکومت بھی ہے اور سینیٹ الیکشن کے نتیجے میں ہاؤس میں دوسری بڑی سیاسی جماعت بننے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر کی نشست بھی حاصل کرنے کے قوی امکانات ہیں لہٰذا سیاسی حقیقت پسندی تو اُسی اپروچ کا تقاضہ کرتی ہے جو فی الحال پیپلزپارٹی دکھا رہی ہے۔

اس بھرپور بیک گراؤنڈ میں سیاسی دانشمندی کا یہی تقاضہ ہے کہ لیڈ شہباز شریف کو دی جائے۔ نواز شریف، مولانا اور مریم نواز بھلے کتنے ہی ڈائیلاگ کے مخالف کیوں نہ ہوں بہرحال آخرکار راستہ یہیں سے نکلنا ہے اور قرین قیاس ہے کہ اِسے زرداری صاحب کی حمایت بھی حاصل ہو جائے۔

عنقریب ٹریک ٹو کے لیے مزید رابطے بھی ہوں گے کچھ پسِ پردہ اور کچھ پردے کے سامنے اور نتائج وہاں سے نکلیں گے جو رابطے پسِ پردہ ہوں گے۔

فی الحال تو ٹریک ٹو ڈائیلاگ کے لیے گارنٹی اور گارنٹر کی مانگ ہے جو لگتا ہے جلد حل ہو جائے گی۔ ٹریک ٹو سے ن لیگ کو کیا فائدہ حاصل ہوگا تو فلم God Father ہی کا مشہورِ زمانہ ڈائیلاگ ہے کہ :

 I am gonna make him an offer he can't refuse

دوسرا، دیکھنے والے تو یہی دیکھتے ہیں اور کہنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ نواز شریف صاحب تو علاج کی غرض سے لندن ہیں مریم نواز صاحبہ ریلیف پر ہیں لیکن شہباز شریف کو بار بار جیل جانا پڑتا ہے اور حمزہ شہباز طویل عرصے سے جیل کاٹ رہے ہیں اور کسی ریلیف تک کا نام و نشان نہیں۔

سو پی ڈی ایم اور حکومت سمیت فائدہ سب کا اِسی میں ہے کہ بیک ٹو ٹریک ٹو اور عوام کو ملکی مسائل سے نجات دلوائی جائے کیونکہ یہی اصل سیاست ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ