مولانا شیرانی مولانا فضل الرحمٰن کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہیں؟

مولانا شیرانی اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان یہ اختلاف سیاست اور انقلاب کا علمی اور فکری اختلاف نہیں، پاور پالیٹیکس ہے۔

(پی پی آئی)

سوال یہ ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی، مولانا فضل الرحمٰن کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہیں اور جواب یہ ہے کہ جتنا بڑا چیلنج ناہید خان آصف زرداری کے لیے اور عبد القادر بلوچ نواز شریف کے لیے ہیں، اتنا ہی بڑا چیلنج مولانا شیرانی مولانا فضل الرحمٰن کے لیے ہیں۔

خواہش جب تجزیہ بنتی ہے تو نتائج فکر یہ ہوتے ہیں کہ مولانا شیرانی کے کلمہ حق نے مولانا فضل الرحمٰن کی امارت کو خطرے میں ڈال دیا لیکن تجزیے کا اگر واجبی سا تعلق بھی زمینی حقائق سے ہو تو نتائج فکر یکسر مختلف ہوں۔

مولانا شیرانی ایک وجیہہ شخصیت ہیں اور صاحب علم ہیں۔ سیاست مگر علم و فکر کا معرکہ نہیں، یہ عصبیت کا آزار ہے۔ جے یو آئی میں یہ عصبیت مولانا شیرانی کو نہیں، مولانا فضل الرحمٰن کو حاصل ہے۔ صحیح اور غلط یا اتفاق اور اختلاف سے قطع نظر، حقیقت یہ ہے کہ اس وقت قومی سیاسی بیانیے میں سب سے توانا آواز مولانا فضل الرحمٰن کی ہے۔

اس وقت حزب اختلاف کی قومی سیاست میں بھی کوئی ایسا رہنما موجود نہیں جو مولانا فضل الرحمٰن کے آگے دم مار سکے تو جے یو آئی میں کیسے ممکن ہے کہ کوئی اٹھے اورمولانا کی امارت کے لیے خطرہ بن جائے۔ وہ بھی اس وقت جب مولانا فارم میں ہیں اور اپنی سیاسی زندگی کی بہترین اننگز کھیل رہے ہیں؟

امر واقع یہ ہے کہ مولانا جے یو آئی کی امارت اور پی ڈی ایم کی صدارت کا استحقاق اپنے فرد عمل سے ثابت کر چکے ہیں۔ اس استحقاق کی نفی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایک دو بیانات سے ہو جائے گی تو یہ محض نقص فہم ہی نہیں، یہ خواہش کو تجزیہ بنانے کی ایک نا معتبر کوشش بھی ہے۔

مولانا شیرانی نے فضل الرحمٰن صاحب پر جو تنقید کی ہے، ہو سکتا ہے وہ درست ہو۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سیاست روحانیت کی منازل طے کرنے کا نام نہیں، یہ طاقت کے حصول کا کھیل ہے۔ اس کھیل میں اگر مولانا فضل الرحمٰن نے کسی بھی طریقے سے شیرانی صاحب کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہو تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ فضل الرحمٰن صاحب کیوں چاہیں گے کہ ایک وجیہہ شاندار اور صاحب علم شخص پارٹی میں اتنا آگے آ جائے کہ کبھی ان کی امارت کے لیے خطرہ بن جائے؟

یہاں ہر جماعت میں یہ اہتمام موجود ہے کہ قائد محترم کے ارد گرد اوسط درجے کے ایسے لوگ جمع رہیں جو فکری صلاحیتوں اور مقبولیت کے اعتبار سے کبھی بھی قائد محترم کے ہم پلہ نہ ہو پائیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے فلموں میں یہ ممکن نہیں کہ ہیرو کا کوئی دوست ہیرو سے زیادہ وجیہہ ہو اور ہیروئن کی کوئی سہیلی ہیروئن سے زیادہ حسین ہو۔ سیاست کی ترجیح اب قابلیت نہیں وفاداری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مولانا شیرانی بھی اتنے سادہ نہیں کہ وہ تو جے یو آئی کو روحانیت اور عزیمت کا قافلہ سمجھ کر چلے ہوں اور اب انہیں معلوم ہوا ہو کہ یہاں تو ’سیاست‘ ہو رہی ہے۔ یہ سیاست آج سے تو نہیں ہو رہی۔ یہ تو روز اول سے ہو رہی ہے۔ مشرف کے دور میں یہی جے یو آئی تھی، جو اس اتحاد کا جھومر تھی جسے ’ملا ملٹری الائنس‘ کہا گیا۔ اصول کی بات ہوتی تو صریح آمریت میں بھی مولانا فضل الرحمٰن اسی طرح جلال میں ہوتے جیسے آج کل ہیں۔ اصول کا نہیں یہ امکانات اور سیاست کا معاملہ ہے اور شیرانی صاحب برسوں سے اس کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور اس سیاست کا حصہ ہیں۔

اسی سیاست کے طفیل وہ نظریاتی کونسل کے چیئرمین بنے اور سینیٹ کے رکن بھی۔ یہ اختلاف آخر اب ہی کیوں یاد آیا جب مولانا فضل الرحمٰن اپنی سیاسی زندگی میں ایک اہم تحریک کے روح و رواں ہیں۔ مولانا شیرانی جیسی علمی شخصیت سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ موقف ہی نہیں ”شان نزول“ کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ شیرانی صاحب کے تازہ ’کلمہ حق‘ کی شان نزول کیا ہے؟

کوئی سیاسی جماعت تضادات سے پاک نہیں ہو سکتی کہ اس پر ایسے حکم لگائے جائیں جیسے شیرانی صاحب لگا رہے ہیں۔ فضل الرحمٰن صاحب اگر دباؤ اس لیے بڑھا رہے ہیں کہ آخر میں اچھے امکانات کے ساتھ کوئی معاملہ ہو جائے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ سیاست میدان جنگ نہیں ہوتا کہ مارو اور مر جاؤ۔ سیاست ایک بساط ہے جہاں داؤ پیچ اور حکمت سے کام لینا پڑتا ہے۔ کبھی پیش قدمی بھی کی جاتی ہے اور کبھی پیچھے بھی ہٹنا پڑ جاتا ہے۔ خود مولانا شیرانی بھی، دیکھا جائے تو، جے یو آئی کی داخلی سیاست میں ایسی ہی سیاست فرما رہے ہیں۔ انہیں بھی معلوم ہے یہ اعلائے کلمۃ الحق کا معاملہ نہیں ہے یہ پاور پالیٹکس ہے۔ پاور پالیٹکس کے اب ظاہر ہے اپنے مطالبات ہوتے ہیں۔

مولانا شیرانی اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان یہ اختلاف کسی امام سیاست اور امام انقلاب کا علمی اور فکری اختلاف نہیں ہے۔ یہ پاور پالیٹیکس کے دو کرداروں کی داخلی کشمکش ہے جس کا تعلق مفادات کا تحفظ اور طاقت کا حصول ہے۔ طاقت کے کھیل میں یہ کشمکش صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور فطرت انسانی کا حصہ ہے۔

بے نظیر بھٹو اور مرتضی بھٹو کے بیچ بھی یہی جھگڑا تھا اور نواز شریف اور جونیجو کے درمیان بھی ایسا ہی تنازع تھا۔ یہ فطرت انسانی ہے جس کا تعلق اصول سے نہیں مفاد سے ہے۔ اس پر جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت ہے نہ ناراض ہو کر کسی کی کردار کشی کرنے کی۔ اسے معمول کی کارروائی سمجھا جائے۔

اس طرح کے کھیل میں اسی طرح ہوتا آیا ہے اور اسی طرح ہوتا رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ