ارکان اسمبلی 31 دسمبر تک استعفے جمع کرا دیں: مولانا فضل الرحمٰن

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن سے زیادہ پراعتماد ہیں اور جو استعفے دیں گے ان کے حلقے میں ضمنی الیکشن کرا دیے جائیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ڈی ایم نے استعفے دیے تو واپس نہیں لیں گے(اے ایف پی فائل فوٹو)

پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے کنوینر مولانا فضل الرحمٰن نے منگل کو اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 31 دسمبر تک استعفے اپنی قیادت کو جمع کرا دیں۔

یہ فیصلہ منگل کو اسلام آباد میں پی ڈٰی ایم کے ایک اہم سربراہی اجلاس میں طے پایا، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت مخالف تحریک پر غور کرنے کے بعد کئی اہم فیصلے کیے گئے۔  

اجلاس کی صدارت پی ڈی ایم کے سربراہ اور جمیعت علما اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کی جبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور بلوچستان نیشنل موومنٹ (بی این پی مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔  

حال ہی میں کووڈ19 سے صحت یاب ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس اہم بیٹھک میں شرکت کی۔ یاد رہے ان کا تقریباً دو ہفتے قبل کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد وہ ازخود تنہائی میں چلے گئے تھے۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت اپوزیشن کے دوسرے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ 

سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے اہم فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’13 دسمبر کو مینار پاکستان پر ہی جلسہ ہوگا اور اگر رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ملتان سے زیادہ برا حشر ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج ایسی باتیں کیں جس سے لگا وہ ڈائیلاگ نہیں بلکہ ہم سے این آر او مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نو دسمبر کو سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ملک کے اندر پہیہ جام ہڑتال، شٹر ڈاؤن اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخوں کا تعین کیا جائے گا۔ گرفتاریوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سوچا بھی نہیں کہ گرفتاری کیا چیز ہوتی ہے؟ حکومت کو فرق پڑچکا، کرسی کی چولیں ہل چکیں، اب ایک دھکے کی ضرورت ہے۔‘ 

استعفوں سے متعلق  ایک سوال پر انہوں نے حکمران جماعت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے استعفے دیے تو واپس نہیں لیں گے، تحریک اس پورے نظام اور دھاندلی کے خلاف ہے، دھاندلی کرنے والے خود سوچیں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔‘ 

’استعفے دیے تو ضمنی الیکشن کرائیں گے‘

دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے آج کہا کہ حزب اختلاف کے پارلیمٹیرینز کے استعفوں کی صورت میں ملک میں ضمنی انتخابات کرائے جائیں گے۔ اسلام آباد میں سینئیر کالم نویسوں سے ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی احتجاجی تحریک سے ان کی حکومت پر کوئی فرق پڑے گا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی حزب اختلاف کی طرف سے اسمبلیوں سے استعفوں کی صورت میں ضمنی انتخابات کروانے کی بات کر چکے ہیں۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے کہ اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہیں، ملک میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ 

حزب اختلاف کے ممکنہ استعفوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں اپوزیشن سے زیادہ پراعتماد ہوں، اپوزیشن ہمیں الجھاناچاہتی ہے، جو جو استعفیٰ دے گا، اس ک حلقے میں ضمنی انتخابات کرا دیں گے، استعفے دینا اپوزیشن کا حق ہے تاہم این آر او اور کرپشن کے علاوہ حکومت اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہے۔‘

وزیر اعظم نے انکشاف کیا کہ چند ملکوں کا اتحاد پاکستان کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتا، عراق میں جو کچھ ہوا وہ بھی اسی وجہ سے ہوا، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی پیدا کرکےانہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سارے عمل کے پیچھے ایک پورا پلان موجود ہے۔ 

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے بھی کوئی سورس ہے، ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، سول ملٹری تعلقات بہت اچھے ہیں، ہم ایک پیج پرہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست