2020 میں سفارتی چیلنج اور حکومتی کارکردگی

خارجہ پالیسی میں ہمیں بلوغیت کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں میگا فون سفارت کاری سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے دوست ممالک کے ساتھ مسائل کا ذکر اور حل ٹی وی انٹرویوز اور پریس کانفرنسوں میں زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔

2020 حکومت کے لیے ایک بڑے چلنجز کا سال تھا۔ اس دوران اسے مشکل اندرونی معاشی و سیاسی مسائل کے علاوہ بیرونی مشکلات کا بھی سامنا بھی کرنا پڑا۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

امید کی جا رہی تھی کہ حکومت نے پچھلے 18 ماہ کی ناکامیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھے ہوں گے لیکن اپنے غیرلچک دار اور غیرذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے حکومت نے اس سال کے اختتام تک ملک کو شدید سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی بحرانوں سے دوچار کر دیا ہے۔ سیاسی قیادت کی سمت نہ تو اندرونی حالات اور نہ ہی بین الاقوامی تعلقات میں عوام کو کسی قسم کا اطمینان دلا پا رہی ہے۔

بھارت کے ساتھ کشیدگی

یہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی کا سال تھا۔ بھارت نے کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی جارحانہ سرگرمیاں اور مظالم جاری رکھے۔ ہماری سفارت کاری کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے دوست ممالک اس سلسلے میں ہمارے ساتھ مل کر کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہوتے لیکن اس مسئلے میں ہمارے دوست ممالک بھارت کی طرف کھڑے دکھائی دیے۔

غیر سفارتی اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں اسی سال ہم نے عرب ممالک کو بغیر کسی منصوبہ بندی یا تجزیے کے ایک طرح کی عوامی سطح پر ناراضگی اور خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ کشمیر پر ہماری مدد نہیں کر سکتے تو ہم دوسرے راستے دیکھیں گے۔‘ ہمارے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات پر یہ خودکش حملہ بغیر کسی سوچ سمجھ اور مناسب حکمت عملی کے کیا گیا۔

اس غیر دانش مندانہ عوامی اعلان سے ہماری حکومت کو عرب ممالک اور او آئی سی کے علاوہ کشمیر پر انگلیوں پر گنے جانے والے ممالک کے علاوہ کن سےحمایت کی توقع تھی؟ ہمارے فیصلہ سازوں کی نظر میں دوسرا کون سا راستہ تھا؟ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ قدم کسی دانش اور حکمت کے بغیر اٹھایا گیا اور ہمارے پاس کوئی متبادل منصوبہ نہیں تھا۔ اس بیان سے سعودی عرب کی ناراضگی قدرتی تھی۔ اس نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جواباً عوامی سطح پر اپنی ناراضگی کا واضح پیغام دیا۔ پاکستان کو قرضہ بھی جزوی طور پر واپس کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب کو اس میگا فون سفارت کاری سے ناراض کرنے میں کسی قسم کی حکمت عملی نظر نہیں آئی ماسوائے اس کے کہ ہماری حکومت نے جذبات میں آ کر یا کمزور مشورے کی بنیاد پر یہ بیان دے دیا۔ اگر اس کا مقصد سعودی عرب پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنا تھا تو وہ بظاہر بری طرح ناکام ہوا۔ اس غیر ضروری عوامی بیان بازی نے نہ صرف پاکستان کو مالی طور پر نقصان پہنچایا بلکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے مستقبل کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

اسی طرح سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی حساسیت کا خیال رکھے بغیر کوالالمپور کی کانفرنس میں شرکت کا اعلان کیا گیا اور پھر دباؤ میں آ کر اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ خارجہ امور کے اہم معاملات پر تفصیلی غور و فکر اور مشورے کے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں جو ملک کی سلامتی اور خارجہ تعلقات کو سنجیدہ بحرانوں میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔

کشمیر

اسی طرح کی سفارتی ناپختگی کشمیر جیسے سنجیدہ مسئلہ پر بھی اپنائی گئی۔ تمام سال اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کی بجائے ہماری کوششیں پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ بنانے پر مرکوز رہیں جیسے شاید ہماری کشمیر کے بارے میں ساری سیاسی جدوجہد کا مقصد اسے محض سیاسی نقشے پر حاصل کرنا مقصود تھا۔

کشمیر کے حصول کے لیے ایک اور بڑا قدم اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے کا نام بدل کر سری نگر ہائی وے رکھنا تھا۔ اس سے شاید اب کشمیر کی فتح کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ اس تنازعے میں چین کی ہمارے لیے مسلسل حمایت قابل تحسین ہے مگر اس کی ایک بڑی وجہ چین کے اپنے علاقائی مسائل اور بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات بھی ہیں۔ ہمارا واحد قابل اعتبار ہمسایہ چین ابھی تک سی پیک کے بارے میں حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں فکر مند ہے۔

کشمیر کے بارے میں کمزور اور بے سمت پالیسی نے بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کا حوصلہ دیا ہے جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہریوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت زور و شور سے کشمیر اور گلگت بلتستان پر حملے اور قبضے کی باتیں کرنے لگا ہے۔

ہماری حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی مداخلت کی بات تو کر رہی ہے مگر ابھی تک ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ سوائے بیان بازی کے اس کے بارے میں کیا حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے اور اس پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا۔ ہم کیسے بین الاقوامی برادری کو قائل کریں گے کہ وہ اس لمبے تنازعے کو پرامن طریقے سے علاقے کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔ ہماری خارجہ پالیسی اس بارے میں ذہنی مفلوجی کا شکار نظر آتی ہے۔

فیٹف

2020 میں پاکستان کی واحد سفارتی کامیابی فیٹف (FATF) کی بلیک لسٹ سے بچنا تھا۔ حکومت نے فیٹف کی 27 سفارشات میں سے 21 پر عمل درآمد اور قانون سازی مکمل کی جس کی وجہ سے پاکستان بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا۔ ابھی فروری 2021 تک پاکستان کے لیے موقع ہے کہ باقی چھ سفارشات پر بھی کارروائی مکمل کر کے گرے لسٹ سے باہر آ جائے۔ یہ قدم ہمارے لیے بین الاقوامی مالی ترسیل میں آسانیاں پیدا کر سکے گا۔

کرونا کی وبا

گو مقامی طور پر کرونا وبا سے نمٹنے میں وفاقی حکومت گومگو کا شکار رہی مگر اس نے کامیابی سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے 2.6 ارب ڈالر حاصل کئے جس سے اس وبا کو کچھ حد تک تیزی سے پھیلنے سے روکنے میں کافی مدد ملی۔

مجموعی طور پر 2020 کسی طرح بھی حکومت کی کارکردگی میں پچھلے سال سے بہتر نہیں تھا۔ خارجہ پالیسی میں ہمیں بلوغیت کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں اس سلسلے میں میگا فون سفارت کاری سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بڑے دوست ممالک کے ساتھ مسائل کا ذکر اور حل ٹی وی انٹرویوز اور پریس کانفرنسوں میں زیر بحث لانے کی بجائے ان سے براہ راست مذاکرات میں کرنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ