منٹو کا ٹھنڈا گوشت اور لاہور کی سات سالہ مقتولہ

منٹو نے تقسیم کے بعد ہونے والے فسادات پر تو بہت کچھ لکھا، لیکن اگر آج وہ زندہ ہوتے تو وہ بھی اس واقعے پر افسانہ لکھنے کی ہمت نہ کرتے۔

(اے ایف پی)

یہ افسانہ منٹو نے لکھا تو چھ ماہ تک کوئی اس کو چھاپنے کو تیار نہ تھا، پہلے پہل سعادت حسن منٹو نے اس کو احمد ندیم قاسمی کے ماہنامہ ’نقوش‘ میں چھپانے کی کوشش کی لیکن یہ سعی رائیگاں گئی۔

عبدالمتین رسالہ ’جاوید‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے تو منٹو سے اس افسانے کو چھاپنے پر اصرار کیا، یوں منٹو کا یہ افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ شائع ہو گیا۔ افسانہ ایشر سنگھ اور کلونت کور کے کمرہ میں خلوت کے لمحات پر مبنی تھی۔ افسانہ چھپنے کے ایک ماہ بعد پولیس نے ’جاوید‘ کے دفتر پر چھاپہ مارا اور اس افسانہ کے شائع شدہ بچے کھچے چند پرچے ساتھ لے گئے۔

منٹو نے اپنے دوست سب انسپکٹر خدا بخش چوہدری کے تھانہ میں پیش ہو کر ضمانت کروائی اور پھر عدالتی سمن جاری ہوئے۔ یوں منٹو ایک مسلمان لڑکی کے قتل کے بعد زیادتی کی داستان لکھنے کے مجرم ٹھہرائے گئے۔

یہ واقعہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا۔ منٹو بمبئی چھوڑ کر کراچی اور پھر لاہور منتقل ہو گئے اور یہ مجرم بھی ارض پاکستان میں ہی ٹھہرائے گئے۔ سال گزرتے رہے اور مسلمانوں نے اپنے وطن میں خوش رہنا سیکھ لیا۔ اب مسلمانوں کی عزتوں کو سوائے مسلمانوں کے کسی سے خطرہ نہیں تھا، سو ایسا ہی ہوا۔ خیر بیسویں صدی کے یہ دل دہلا دینے واقعات آج بھی پڑھتے ہیں تو آنکھیں نم اور دل غمگین ہو جاتے ہیں، غیرت مندوں کو ان واقعات پر خون کھولتا ہے۔

سال 2018 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں آٹھ سالہ زینب کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، پاکستان میں اس واقعہ پر عوام کا شدید غم و غصہ سامنے آیا تھا۔ جنسی زیادتی اور قتل کرنے والا عمران قانون کی گرفت میں آیا اور مجرم عمران علی کو 17 اکتوبر کو لاہور میں تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ مجرم عمران علی کو مختصر عدالتی کارروائی کے بعد چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس کے بعد 2019 میں ’زینب الرٹ‘ بل پاس کیا گیا، بل بچوں کے اغوا، زیادتی اور مجرمان کے خلاف مستعدی کارروائی سے متعلق ہے۔ بل تو پاس ہو گیا لیکن کیا اس سے معاشرہ میں سدھار آ گیا؟ کیا بچوں سے زیادتی کی واقعات رک گئے؟ کیا جنسی زیادتی اب اس ملک میں نہیں ہوتی؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوا یہ تو وہ لوگ ہیں جو قبروں میں مردوں تک سے نفسیاتی خواہشات پوری کرتے ہوئے نہیں گھبراتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منٹو 1955 میں خاک کی چادر اوڑھ کر تو سو گئے تھے لیکن منٹو کو کوئی آج بتائے گا کہ آج اکیسویں صدی 2020 میں پھر ایک بار وہی کہانی دہرائی گئی، وہ جس ٹھنڈے گوشت پر منٹو نے قلم آزمائی کی تھی وہ تو منوں مٹی کے نیچے کب کا سو گیا لیکن آج پھر ایساہی ہوا، اب کی بار جوان خوبرو دوشیزہ نہیں تھی بلکہ ایک سات سال کی بچی تھی۔

اسی لاہور میں جہاں منٹو دفن ہیں ایک جوان نے سات سالہ بچی کو پہلے قتل کیا اور پھر اپنے دوست کے ساتھ مل کر زیادتی بھی کر ڈالی۔ یہ شخص کسی دوسرے مذہب کا نہیں تھا بلکہ بچی کا اپنا خون اس کا چچا زاد تھا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہورشارق جمال خان نے قتل کے بعد زیادتی کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی بتایا کہ گرفتارملزمان میں بچی کا تایا زاد کزن رضوان یوسف اورہمسایہ شامل ہیں۔

 ابتدائی تفتیش کے مطابق اس قتل میں میں کوئی ہتھیاراستعمال نہیں ہوا، متاثرہ بچی کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا اور اسی ٹھنڈے گوشت پر اپنی ہوس پوری کی گئی۔

منٹو نے تقسیم کے بعد ہونے والے فسادات پر تو بہت کچھ لکھا، لیکن اگر آج وہ زندہ ہوتے تو وہ بھی اس واقعے پر افسانہ لکھنے کی ہمت نہ کرتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر