' اب کوئی مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا'

سرد ہوائیں چل رہی ہیں، کانپتے ہوئے کچھ بچے زمین زمین پر بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس چند کتابیں ہیں اور وہ بڑی توجہ سے استاد کے پڑھائے گئے لفظ دہرا رہے ہیں۔

سرد ہوائیں چل رہی ہیں، کانپتے ہوئے کچھ بچے زمین زمین پر بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس چند کتابیں ہیں اور وہ بڑی توجہ سے استاد کے پڑھائے گئے لفظ دہرا رہے ہیں۔

یہ بچے انگریزی زبان سیکھنے اور اس کی ادائیگی بہتر طریقے سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ باقاعدہ سکول ہے جہاں کا نصاب بھی سرکاری ہے۔ ان بچوں کی حاضری بھی لگتی ہے۔ لیکن ان کو وردی، بیٹھنے کی جگہ اور سردی گرمی سے بچنے کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔

یہ کوئٹہ کا نواحی علاقہ ہزار گنجی ہے۔ یہاں پر لاری اڈہ اور سبزی منڈی میں کام کرنے والے مزدور بچوں کے لیے ایک سکول قائم ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہاں پر مری قبائل کی ایک کچی آبادی پر مشتمل بستی ہے جس کے بچے صبح کے وقت ٹرک اڈے پر اور سبزی منڈی میں محنت مزدوری کرتے ہیں، شام کو یہاں آکر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

جب تک اس سکول کو ایک غیر سرکاری تنظیم کی سرپرستی حاصل رہی، جیسے تیسے اساتذہ اس کو چلاتے رہے ہیں لیکن یہ سلسلہ 2018 سے بند ہوگیا۔

اس سکول کی بنیاد رکھنے والے میر خان مری کوبھی مزدوری اور درس و تدریس دونوں کا سلسلہ جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

میر خان کے بقول: میں نے اس سکول کی بنیاد 1993 میں رکھی تھی۔ ابتدا میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس کا بیڑہ اٹھایا۔ جس کا سلسلہ 2018 تک چلتا رہا جواب بند ہوگیا ہے۔

میر خان نے بتایا کہ یہاں پرمری قبائل کے وہ بچے جن کے والدین ان کے تعلیم کا خرچہ نہیں اٹھاسکتے، پڑھتے ہیں۔

سکول ابتدا میں پرائمری کی سطح تک تعلیم دے رہا تھا جسے بعد میں مڈل کا درجہ دیا گیا۔

غیر سرکاری تنظیم کی سرپرستی ختم ہونے پر سکول کو کچھ وقت کے بند کردیا گیا لیکن کمیونٹی کے کہنے پر اساتذہ نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

اساتذہ اور سماجی کارکن اس سکول کو سرکاری سرپرستی دلانے کی ہر ممکن کوشش کرچکے ہیں۔ لیکن انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

سماجی کارکن نبی بخش مری بھی سمجھتے ہیں کہ اگر یہ سکول بند ہوگیا تو ان بچوں کے لیے تعلیم کے حوالے سے کوئی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

نبی بخش مری کے بقول: یہ سکول ہم نے ابتدا میں جب قائم کیا تو اس میں کمرے بھی بنائے گئے جو کچے ہیں، غیر سرکاری تنظٰیم کے فنڈ سے سکول تو چلتا رہا جس سے اساتذہ تھوڑی بہت تنخواہ مل جاتی تھی لیکن سکول میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ابھی تک نہ ہوسکی۔

نبی بخش کی خواہش ہے کہ اس سکول کو فلاحی ادارے،این جی اوز یا حکومت کی طرف سے کوئی بھی اپنا لے تاکہ یہاں پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری رہے۔

سکول میں پڑھنے والے طلبہ جنہوں نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی ہے وہی اب رضاکارانہ بچوں کو پڑھانے کا کام کررہے ہیں۔

وہ صبح محنت مزدوری کرتے ہیں اور شام کے وقت درس و تدریس کے لیے وقت نکالتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب  سکول میں زیر تعلیم ایک طالب علم الطاف بھی ہیں جو نہ صرف پڑھ سکتے ہیں بلکہ حساب کتاب بھی جانتے ہیں۔

الطاف نے بتایا کہ جب سے انہوں نے سکول پڑھنا شروع کیا ہے، ان کے کام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں کیوں کہ وہ پہلے پیسوں کا حساب کتاب نہیں جانتے تھے۔

الطاف کےبقول: اب وہ نہ صرف اپنا کام بہتر طریقے سے کررہے ہیں بلکہ کوئی انہیں دھوکہ بھی نہیں دے سکتا۔

الطاف نے بتایا کہ وہ صبح کے وقت سبزی منڈی میں ریڑھی چلاتے ہیں جس کی کمائی سے وہ گھر کا خرچہ بھی دیتے ہیں اور کچھ پیسے سکول کے لیے بھی رکھتے ہیں۔

الطاف اور دیگر طالب علموں کو شکایت ہے کہ ان کے سکول میں بیٹھنے کی جگہ اور ان کے پاس کوئی وردی نہیں ہے۔ سخت سردی اور گرمی میں ان کو پڑھنے کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سماجی ورکروں کا ماننا ہے کہ ہر صوبائی حکومت تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتی ہے لیکن اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا ہے جس کی واضح مثال کوئٹہ میں قائم یہ سکول ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا