پلاسٹک کے ہاتھوں مردان کے دستکار ’تباہی‘ کے دہانے پر

مشہور جنڈئے بازار میں ایک زمانے میں خواتین کے ہاتھوں کی بنی سرکنڈے یا بان کی مصنوعات دکانوں میں سجی رہتی تھیں مگر اب پلاسٹک کی جانب بڑھتے رجحان نے ان کی مانگ میں کمی کر دی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی تحصیل تخت بھائی کے جنڈئے بازار میں خواتین کے ہاتھوں سے بنی ہوئی روزمرہ استعمال کی مصنوعات دکانداروں نے سجائی ہوئی ہیں لیکن اب گاہک بہت کم آرہے ہیں۔

مقامی دکاندار پلاسٹک کا سامان زیادہ استعمال ہونے کو ان مصنوعات کی مانگ میں کمی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

مردان مالاکنڈ روڈ پر واقع اس چھوٹے سے بازار کے دونوں اطراف ضلع مہمند کا ایک قبیلہ اتمان خیل کئی دہائیوں سے آباد ہے۔

ان لوگوں کے گھروں میں خواتین میزری، سرکنڈوں اور کائی سے مختلف چیزیں بناتی ہیں جن میں گھروں، دفاتر کے لیے  ڈیکوریشن اور استعمال کا سامان شامل ہے۔

جنڈئے بازار میں میزری کا کاروبار کرنے والے دوست محمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے میزری کا پودا بہت زیادہ تعداد میں یہاں ملتا تھا۔ ریل گاڑی پر آتا تھا، اس پر خرچ بھی کم آتا تھا اور قیمت بھی اس کی اچھی تھی۔ مگر کافی عرصہ سے ریل گاڑی بھی بند ہے اور میزری بھی مہنگا ہو گیا ہے۔

میزری اور دوسرے پودے جو دستکاری میں استعمال ہوتے ہیں مقامی سطح پر بہت کم ملتے ہیں اور ملک کے دوسرے علاقوں سے منگوانے پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میزری سے بننے والی چیزوں کی وہی پرانی قیمت لوگ دے رہے ہیں جب کہ ان پر خرچہ اب بڑھ گیا ہے۔

اب مہنگائی بھی بہت زیادہ ہے اور لوگوں کا اس میں گزارہ نہیں ہوتا تو بنانے والوں نے آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیارکر لی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوست محمد نے کہا کہ پہلے ہاتھ سے بنائی گئی چیزوں کا استعمال زیادہ تھا، میزری سے چٹائی، جائے نماز اور سرکنڈے سے روٹی رکھنے والی پٹاری وغیرہ بنتے تھے۔

 گھروں میں اب بھی خواتین بان بناتی ہیں جو چارپائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین کا گھروں میں کوئی خاص کام نہیں ہوتا اس لیے اپنے ذاتی روزمرہ اخراجات کے لیے  دستکاری کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل ہزار روپے کے سامان پر تین سو روپے سے زیادہ نہیں بچتا۔ اور روزگار اس لیے ختم ہو رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اب ساری چیزیں ڈسپوزیبل ملتی ہیں جو کہ سستی بھی ہوتی ہیں۔

دوست محمد کے مطابق پہلے جنڈئے بازار میں غیر ملکی بھی آتے تھے اور یہ دستکاری کی چیزیں وہ بہت شوق سے خرید تے تھے مگر اب حالات ایسے ہیں کہ غیر ملکی بھی نہیں آتے۔

جنڈئے بازار کی ایک دکان میں کام کرنے والے ریاض علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں پر بہت ساری خواتین گھروں میں اپنے ہاتھوں سے ڈیکوریشن والی اشیا تیار کر رہی ہیں جن میں شیشہ، آئینہ اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔

یہاں کے دکاندار پہلے مختلف نمائشی میلوں اور دوسرے تقریبات میں یہاں سے خواتین کی بنائی ہوئی چیزیں لے جاتے تھے جس کے بعد ان کو بہت آرڈر بھی ملتے تھے، لیکن  اب دکانداران سے نہیں لے رہے کیونکہ دکانوں میں فروخت نہیں ہو رہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن