بھارت میں سپریم کورٹ کی جانب سے زرعی قوانین معطل

بھارتی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زرعی قوانین خا طر خواہ مشاورت کے بغیر منظور کیے  گئے۔ عدالت نے حکومت نمائندوں اور کسان رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات پرکے طریقہ کار پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

(بھارت میں سڑک پر کسانوں کا دھرنا۔ اے ایف پی)

بھارتی سپریم کورٹ نے منگل کو نئے زرعی قوانین  پر عمل درآمد کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ماہرین پر مشتمل آزاد کمیٹی  قائم کی جائے جو نئے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ مذاکرات کرے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سپریم کورٹ نے کسانوں کی جانب سے نئے زرعی قوانین کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ زرعی قوانین خا طر خواہ مشاورت کے بغیر منظور کیے  گئے۔ عدالت نے حکومت نمائندوں اور کسان رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات پرکے طریقہ کار پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

بھارت میں لاکھوں کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور انہوں نے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں چھ کے قریب اہم شاہراہیں گذشتہ 45 دن سے بند کر رکھی ہیں۔

کسانوں کے مطابق وہ حکومت کی جانب سے قوانین کی منسوخی تک نہیں جائیں گے۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ ستمبر میں بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کئے گئے قوانین سے اجارہ داری قائم ہوگی اور زراعت کا شعبہ تجارتی بن جائے گا جس سے کسانوں کو تجارتی اداروں کے لالچ کا سامنا ہوگا اور ان کی آمدن بری طرح متاثر ہو گی۔ دوسری جانب حکومت کا اصرار ہے کہ نئے قوانین سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ حکومت کسانوں کو اپنی پیداوار مارکیٹ میں متعارف کروانے کے قابل بنائے گی جب کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شرد اروندبوبڑے نے کہا کہ  ماہرین کی آزاد کمیٹی حکومت کے اور کسانوں کے درمیان تعطل کو اچھے طریقے سے ختم کروائے۔

دوسری طرف کسان یونینز نے ماہرین کی کمیٹی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

مقدمے کی منگل کو ہونے والی اہم سماعت کے دوران جسٹس بوبڑے نے کہا کہ فریقین کے درمیان موجود تعطل کی وجہ سے کسان متاثر ہورہے ہیں۔ احتجاج کے مقامات پر حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی نمائندگی کرنے والے بھارت کے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:  'اگرکوئی گڑ بڑ ہوئی ہم سب اس کے ذمہ دار ہوں گے۔'  واضح رہے کہ تعطل کے خاتمے کے لیے کسانوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہو چکے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا