لاہور: پانچ شاہراہوں پہ بھکاریوں کا داخلہ ممنوع

کمشنر لاہور کے مطابق جہاں تک شہر کی دیگر شاہراہوں کو بیگرز فری قرار دیے جانے کا تعلق ہے تو یہ آپریشن مرحلہ وار شروع کیے جارہے ہیں۔ پہلے ان علاقوں اور پھر دوسرے ایریاز میں بھی اس طرح کی حکمت عملی کے تحت بھکاریوں پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔

(اے ایف پی)

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں کمشنر لاہور کی جانب سے پوش علاقوں کی پانچ شاہراہوں کو بیگرز فری قراردیا اور ان سڑکوں کے اطراف بھکاریوں کا داخلہ ممنوع قراردے دیا گیا ہے۔

کمشنر لاہور کی جانب سے جاری شدہ حکم نامے میں انتظامیہ کو احکامات دیے گئے کہ ان شاہراہوں پر بھکاریوں کا داخلہ ناممکن بنا کر ان کے خلاف کارروائی کی جائے جس کے بعد انتظامیہ نے ان علاقوں میں آپریشن کر کے بھکاریوں کو بھگا دیا اور پکڑے جانیوالوں کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔

انتظامیہ نے ان علاقوں سے پیشہ ور بھکاریوں کا دھندہ روکنے کے لیے ٹیمیں بھی تعینات کردیں۔

انتظامیہ کی جانب سے آپریشن والے علاقوں سے بھکاری دیگر مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں جس سے ان علاقوں میں شہریوں کا گزرنا بھی مشکل ہورہا ہے ہے۔

کمشنر لاہور ذوالفقار احمد گھمن کی جانب سے جاری تحریری حکم نامہ میں میونسپل کارپوریشن کوہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ مال روڈ استنبول چوک سے کینال روڑ تک، جیل روڑ، گلبرک مین بلیورڈ روڑ، ایم ایم عالم روڑ اور لوئر مال ڈی سی آفس سے چوک چوبرجی تک بیگر فری بنایاجائے۔ اس ضمن میں ایسے اقدامات کا حکم دیاگیا ہےکہ مزکورہ شاہراہوں کے اطراف بھکاریوں کا داخلہ بند کرنے کے مستقل اقدامات کیے جائیں۔

اس سے پہلے لاہور کی سڑکوں فیروز پور روڑ، جیل روڑ، گلبرک مین بلیورڈ اور ایم ایم عالم روڑ کو سگنل فری بنایاگیاتھا۔ یہ شاہراہیں سگنل فری تو ہوگئیں لیکن بیگرز فری قرار دی گئی سڑکوں کے اطراف اب بھی کئی بھکاری انتظامیہ سےچھپ چھپا کر بھیک مانگتے ہیں۔

کمشنر لاہور ذوالفقار احمد گھمن سے پوچھا گیا کہ اس فیصلہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور کیا اس پر مکمل عمل درآمد ممکن ہے؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ لاہور شہر کے پوش علاقوں میں شہریوں کو بھکاریوں کی جانب سے تنگ کیے جانے اور ٹریفک تک بلاک کرنے کی شکایات ہیں۔ دوسرا جرائم پیشہ افراد بھی بھکاریوں کے بھیس میں وارداتیں کرتے ہیں کئی شکایات موصول ہوئیں کہ وہ گاڑیوں کے پاس بھیک مانگتے ہوئے شیشے اتار لیتے ہیں یا شیشہ توڑ کر گاڑیوں کے اندر سے قیمتی سامان چوری کر لیتے ہیں۔

ایسے ہی کاروباری مراکز،ہسپتالوں کے باہر یا پارکوں کے گیٹوں پر بھکاری شہریوں کو بھیک کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ جس سے انہیں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھیک مانگنا ویسے بھی معاشرتی اور مذہبی لحاظ سے ممنوع اور ناپسندیدہ فعل ہے لہذا مستحقین معذور بھکاریوں کی آڑ میں پیشہ ور گینگ بن چکے ہیں جو علاقے تقسیم کر کے بھیک مانگتے ہیں اور فیملیوں کے سامنے لوگوں کے ہیچھے پڑ جاتے ہیں جیسے زبردستی امداد لینا ہو۔ کئی بار بھیک مانگنے کی آڑ میں خواتین اور مردوں سے موبائل اور نقدی چھین کر فرار ہونے کے واقعات بھی ہوچکے ہیں۔

کمشنر لاہور کے مطابق جہاں تک شہر کی مختلف شاہراہوں کو بیگرز فری قرار دیے جانے کا تعلق ہے تو یہ مرحلہ وار آپریشن شروع کیے جارہے ہیں۔ پہلے ان علاقوں اور پھر دوسرے ایریاز میں بھی اس طرح کی حکمت عملی بناکر بھیک مانگنے کے اس دھندے پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے کارروائی شروع کر دی ہے جو مستقل جاری رہے گی جب تک ان شاہراہوں کے اطراف مکمل طور پر بھکاریوں کو ہٹایانہیں جاتا۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ شاہراہوں کے اطراف اشاروں پر، چوک یا بازاروں میں بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ یہ مکروہ دھندہ ختم ہوسکے۔

اس معاملہ پر بھکاریوں سے بھی بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بیشتر سوال پوچھنے پر اس معاملہ سے متعلق بات کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔

جیل روڑ پر واقع ایک شاپنگ مال کے باہر بھیک مانگتے شخص نے امداد دینے کی شرط پر بات کی۔ ان سے پوچھا کہ وہ اچھے خاصے صحت مند ہیں محنت مزدوری کی بجائے ہاتھ کیوں پھیلاتے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے جواب دیاکہ وہ پہلے کینال روڑ اشارے پر بھیک مانگتے تھے وہاں سرکاری اہلکار پکڑنے لگ گئے اس لیے وہ یہاں پارکنگ ایریا میں چھپ کر بھیک مانگنے لگے، یہاں روزانہ صبح سے شام تک پھرتے ہیں کبھی آٹھ سو کبھی ہزار روپے بھیک اکھٹی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے بھیک نہیں مانگتے نہ ہی کسی گروہ کاحصہ ہیں بلکہ پہلے محنت مزدوری کرتے تھے لیکن آج کل محنت کرنے والے بھی بہت ہوگئے اور کرونا لاک ڈاؤن کے دوران فیکٹریوں سے بھی مزدور نکال دیے گئے تو دو بچے اور بیوی کو پالنا ممکن نہیں تھا۔ لہذا اور کوئی راستہ سمجھ میں نہیں آیا، رہائش سے دور اس علاقہ میں ماسک پہن کر بھیک مانگنے لگا اور گزر بسر کر رہاہوں اتنے بھی پیسے نہیں کہ کوئی چھابڑی یا ریڑھی لگا سکوں۔

انہوں نے کہاکہ کسی کو بھیک مانگنے کا شوق نہیں ہوتا مجبوری میں ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے مدد کم لوگ کرتے ہیں لیکن بے عزت کر کے دھتکارنے والے زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے جب بھکاریوں کو پکڑنے والے اہلکار آتے ہیں تو ان سے بچنے کے لیے ہم گاڑیوں پر کپڑا مارنا شروع کر دیتے ہیں جب چلے جاتے ہیں تو میں دوبارہ سوال کرتاہوں جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔

واضح رہے کہ انتظامیہ کی جانب سے بھکاریوں کے خلاف یہ کارروائی پہلی بار نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار یہ آپریشن کیے گئے مگر بھکاری کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں جو بڑے شہروں کے آس پاس چھوٹے علاقوں سے یہاں آتے ہیں اور بھیک کے دھندے سے وابستہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان