عدم برداشت کے خاتمے کے مشن پر گامزن سوات کے ترن کمار

سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے ترن کمار سوات میں ایک کالج سے دوسرے کالج جا کر سکھ مت کے بارے میں آگاہی پھیلاتے ہیں تاکہ دوسرے مذاہب کے بارے میں لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لائی جا سکے۔

معاشرے میں اقلیتی مذاہب کے بارے میں لاعملی اور عدم برداشت سے تنگ آکر سوات کے ترن کمار نے اس بارے میں کچھ کرنے کی ٹھانی اور کالجوں کے طلبہ میں سکھ مذہب کے بارے میں آگاہی مہم چلانے کا فیلصہ کیا۔

ترن کمار سوات کے ایک کالج سے دوسرے کالج میں جاتے ہیں اور اپنے مذہب کے بارے میں بنیادی باتیں بتاتے ہیں اور منفی تاثرات کو درست کرتے ہیں۔ اس مہم میں ان کے ساتھ ان کے ایک مسلمان دوست اویس احمد خان یوسف زئی بھی شامل ہیں۔

 سوات میں سکھ خاندان دو سو سال سے آباد ہیں۔ اقلیت ہونے کی وجہ سے یہ خاندان ضلع سوات کے شہر مینگورہ، تحصیل خوازہ خیلہ اور بریکوٹ میں گروپ کی شکل میں رہتے ہیں۔

بریکوٹ سے تعلق رکھنے والے ترن کمار کا کہنا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اپنا نام بتاتے ہیں تو وہ حیران ہو جاتے ہیں اور یہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے کہ سکھ مت بھی ایک مذہب ہے۔

انہوں نے کہا: ’اس سوچ کو بدلنے کے لیے میں نوجوانوں کی ذہنوں کو بدلنے پر کام کر رہا ہوں۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں انتہا پسندی کثرت سے پائی جاتی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ ترن نے انتہا پسندی کی وجہ کچھ یوں بتائی: ’جب بچپن سے بچوں کو یہ دکھایا جاتا ہے، سکھایا جاتا ہے پڑھایا جاتا ہے کہ بس صرف اسلام مذہب ہے اور صرف اسلام ہی یہاں پر رہے گا، تو بعد میں جب یہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ پھر دوسرے کسی انسان کو قبول نہیں کرتے، دوسرے مذاہب کو مذہب کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ یہی سوچ ہے جس سے انتہا پسندی جنم لیتی ہیں، اور پھر دہشت گردی۔‘

پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی کے واقعات بھی سامنے آتے رہیں ہیں۔ اس حوالے سے اپنے کے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے ترن کمار نے کہا: ’مجھے کچھ لڑکوں نے یہ تک کہا اگر آپ اتنا امن کے حوالے سے درس دیتے ہیں، تو آپ پھر اسلام قبول کیوں نہیں کرتے؟ تو میں نے ان کو بتایا کہ نہیں ہمارا بھی ایک مذہب ہے، جیسے کہ اسلام سیدھے راستے پر ہے، میں بھی اپنے مذہب کا پیروکار ہوں۔ مجھے بھی پتہ ہے کہ میرا مذہب سیدھے رستے پر ہے، تو پھر میں اپنے مذہب میں ٹھیک ہوں۔‘

پاکستان میں اکژ مذہب کے حوالے سے عدم برادشت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے والدین کا اپنے بچوں کے لیے پریشان ہونا عام بات ہے۔ ایسے میں اپنے خاندان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترن نے کہا کہ انہیں گھر سے کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ وہ بتاتے ہیں سکھ مذہب کے پیشوا گرو نانک کی بھی یہی تعلیم ہے ہم لوگوں میں اس مذہب کے بارے میں آگاہی پیدا کریں کہ یہ بھی امن کا درس دیتا ہے۔

ترن کمار کی مہم میں شامل ان کے دوست ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارن اویس احمد خان ہوسف زئی بھی کئی سالوں سے انتہا پسندی کو ختم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’یہاں پر لوگوں کو صرف اسلام کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ جب ہم دوسرے مذاہب کے حوالے سے مطالعہ کریں، تو تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تمام مذاہب امن کا درس دیتے ہیں۔ ہم امن سے تب رہ سکتے ہیں جب ہم تمام مذاہب کو عزت دیں، ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں ، تب ہی ممکن ہے کہ پاکستان میں امن بحال ہو جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان