نیب ہائی پروفائل کیس ثابت کرنےمیں ناکام کیوں؟

نیب متعدد سابق وزرائے اعظم کے خلاف کئی کئی سال تک انکوائری کرنے کے بعد ثبوت نہ ملنے پر کیسز بند کر چکی ہے۔

(روئٹرز)

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کی انکوائری بند کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ میں بدھ کو چوہدری برادران کی نیب کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران بیورو نے انکوائری بند کرنے کی درخواست دی۔ یہ کیس چوہدری برادران کے خلاف 2000 میں درج کیا گیا تھا۔

گذشتہ پیشی پر ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد نے عدالت کو بتایا تھا کہ چوہدری برادران کے مبینہ غیر قانونی اثاثوں سے متعلق نیب کے پاس ’کافی ثبوت‘ ہیں لیکن کل اچانک انہوں نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر آگاہ کیا کہ انکوائری بند کر دی گئی کیونکہ ’ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ۔‘

چوہدری برادران کے خلاف یہ تیسری اور آخری انکوائری بند ہوئی ہے کیونکہ دو انکوائریاں اس سے پہلے بھی بند ہوچکی ہیں۔ نیب نے ان کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ، غیر قانونی بھرتیوں اور بینک قرضہ جات کی عدم ادائیگی کے کیس بھی بنائے تھے۔

یہ پہلی بار نہیں جب نیب کی طویل انکوائری کے باوجود ملزموں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ثابت نہیں ہوا کیونکہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جہانگیر بدر، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور کچھ عرصہ پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے خلاف بھی الزامات کے ثبوت نہ ملنے پرنیب کو کیس بند کرنے پڑے تھے۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا پر توشہ خانہ کیس جبکہ راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور سٹیشن کیس بنایا گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، حکومتی وزرا علیم خان اور سبطین خان کے خلاف کئی سال پرانے کیس کھولے گئے تھے البتہ انہیں گرفتاری کے بعد ضمانتیں مل چکی ہیں۔

سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا تھا کہ نیب قانون ملک میں بہتری کی بجائے مخالفین کا بازو مروڑنے کے لیے استعمال کیا گیا اور نیب آرڈیننس اپنے اجرا سے ہی انتہائی متنازع رہا ہے، نیب کے امتیازی رویے کے باعث اس کا اپنا تشخص متاثر ہوتا ہے اور اس کی غیرجانبداری پرعوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔

نیب کے سابق سینیئر سپیشل پراسیکیوٹر فرحاد ترمزی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نیب آرڈیننس کی شق 18کے تحت نیب کی منظوری کے بغیر کوئی کیس عدالت میں نہیں چل سکتا اور درخواست دہندہ اپنی مرضی سے وکیل کی خدمات لے سکتا ہے نہ ہی کیس دائر کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیس عدالتوں میں نیب کی جانب سے ہی دائر ہوتا ہے اور نیب پراسیکیوٹر ہی درخواست دہندہ کا موقف پیش کرسکتا ہے لہٰذا نیب کے پاس جتنی درخواستیں آتی ہیں ان کے لحاظ سے کیسز کا دباؤ کافی ہوتا ہے جبکہ تحقیقات بھی کئی کئی سال چلتی رہتی ہیں۔

فرحاد کا کہنا تھا کہ جہاں تک نیب میں دائر کیسز میں ثبوت جمع کرنے کا معاملہ ہے تو یہ انکوئری ٹیموں کی اہلیت پر منحصر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’زیادہ تر کیس سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں جن میں الزامات تو ثابت نہیں ہوتے لیکن تاخیری حربوں سے کیسوں کو لٹکایا جاتا ہے جیسے خواجہ سعد رفیق کے خلاف چین سے مہنگے انجن خریدنے، ان کے اور ان کے بھائی کے خلاف پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی کا کیس تین سال تک چلتا رہا لیکن ثبوت نہ ملنے پر واپس لینا پڑا۔‘

انہوں نے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم پر مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی بھی مثال دی جو کئی سال چلا لیکن عدم ثبوتوں پر کیس واپس لیا گیااور وہ بھی بری ہوئے تھے۔ نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل سلیم شہزاد چوہدری برادران سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد کل میڈیا کے سوال پوچھنے پر کچھ کہے بغیر ہی چلے گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیب ترجمان نوازش علی سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’نیب ایک آزاد ادارہ ہے، کسی کے خلاف کوئی شکایت آتی ہے تو ہم قانون کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں، انکوائری میں تاخیر کئی وجوہات کی بنیاد پر ہوتی ہے، نیب قانون کے مطابق کسی پر لگنے والے الزامات کی تحقیق کرتا ہے اور اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کراتا ہے جس پر عدالت اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ نوازش علی کے مطابق ’نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کسی سیاسی جماعت کے خلاف ہیں نہ حق میں، جو قانون کہتا ہے وہی کرتے ہیں۔‘

نیب لاہور کےترجمان محمد ذیشان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 2017 سے نیب حکام کی سخت ہدایات ہیں کہ تمام کیسوں کی تحقیقات جلد از جلد کی جائیں جو کیس بنتے ہیں ٹھیک ورنہ بند کر دیے جائیں، یہی وجہ ہے کہ ہم پرانے کیسوں کو حتمی نتیجے پر پہنچا رہے ہیں تاکہ غیر ضروری تاخیر سے کیسوں کو لٹکایا نہ جائے۔

ذیشان کے مطابق نیب کیسوں میں دو تین سال تک انکوائری بلاجواز نہیں، یہ مختلف جرائم ہوتے ہیں اس میں غائب پیسے کو ثابت کرنے کے لیے کئی اداروں اور بعض اوقات دوسرے ممالک سے شواہد جمع کرنے ہوتے ہیں، اس لیے بعض مقدمات میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی کئی سال پرانے کیسز کو نمٹانے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ بلاوجہ تاخیر نہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان