ڈی سی لاہور کا عدالت میں حاضری کے لیے ’نامناسب لباس‘

جسٹس منظور ملک کی عدالت میں پیر کو ہیلمٹ نہ پہن کر موٹر سائیکل چلانے والوں کو پٹرول کی فراہمی نہ کرنے کے نوٹیفیکیشن کے خلاف سماعت جاری تھی۔ کیس کی سماعت پر ڈپٹی کمشنر لاہور کمرہ عدالت میں نیلی شلوار قمیض، پشاوری چپل اور میرون کوٹ پہنے داخل ہو گئے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ڈی سی لاہور مدثر ریاض کے ’نامناسب لباس‘ پہن کر آنے پر جسٹس منظور ملک برہم ہوگئے۔

جسٹس منظور کی عدالت میں پیر کو ہیلمٹ نہ پہن کر موٹر سائیکل چلانے والوں کو پٹرول کی فراہمی کے خلاف سماعت جاری تھی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے کچھ عرصہ پہلے ہیلمٹ نہ پہننے والوں کو پٹرول نہ فراہم کرنے کا نوٹفیکیشن جاری کیا تھا۔

اس کیس کی سماعت جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں فل بینچ کر رہا تھا۔ محمد اشفاق، رپورٹر لاہور نیوز کے مطابق اس کیس کی سماعت پر ڈپٹی کمشنر لاہور کمرہ عدالت میں نیلی شلوار قمیض، پشاوری چپل اور میرون کوٹ پہنے داخل ہو گئے۔

عدالت کے مطابق ڈی سی لاہور مدثر ریاض کا یہ لباس کمرہ عدالت میں آنے کے لیے نامناسب تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معزز جج نے ان کے لباس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ یہ کس لباس میں عدالت میں پیش ہو گئے ہیں؟‘ ڈی سی لاہور نے جواب دیا کہ ان کے پاس یہی کپڑے ہیں۔ جج نے انہیں کہا کہ ’آپ عدالت کی توہین کر رہے ہیں۔‘ اس بات پر ڈی سی لاہور نے فوری عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی مگر جسٹس منظور ملک نے ڈی سی کی معافی رد کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کو طلب کر لیا اور ان سے پوچھا کہ یہ ’کس طرح کے افسر رکھے ہوئے ہیں جو اس طرح کے حلیے میں عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔‘

اس پر چیف سیکرٹری نے عدالت کو یقین دلایا کہ آئندہ انہیں شکایت نہیں ہوگی۔ جسٹس منظور ملک نے چیف سیکرٹری کو لباس کے حوالے سے ایس او پیز جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس منظور ملک کا کہنا تھا 'لباس سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کل کو کوئی بنیان پہن کر عدالت میں پیش ہوجائے۔ عدالت کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں بلکہ باور کروانا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان