مشیر مشیر ہوتا ہے

مشیر مشیر ہوتا ہے اور ترجمان کا کام جب کہا جائے اور جتنا کہا جائے اتنا ہی بولنا ہوتا ہے۔

(اے ایف پی)

پاکستان میں بلیک آؤٹ ہوا تو اس قوم نے میمز کا ریکارڈ بنا ڈالا۔ بلیک آؤٹ ہونے کی وجہ جو سامنے آئی وہ کچھ یوں تھی کہ مطلوبہ اسناد و تجربہ کا حامل ہی ایسی عام سی پوسٹوں پر تعینات نہیں جو بوقت ضرورت بہترین انجینیئرنگ کر سکے۔

بتی گئی اور ایسی گئی کہ پہلی بار وزرا جاگ اور لوگ سو رہے تھے ورنہ ہمیشہ ایسا ہوا ہے کہ بتی جانے پر عوام جاگتے ہیں اور امرا و وزرا خوابوں کی وادیوں میں گم ہوتے تھے۔

ہمارے ایک کولیگ بڑے ہی غصہ میں بیٹھے تھے وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ صاحب، مشہور شاعر سید احمد شاہ کے فرزند ارجمند پر غصہ کیے بیٹھے ہیں اور وہ بھی اس لیے کہ ان کی ٹویٹس کے فقرات کھاٹی کی لسی کی طرح بڑھتے ہی جاتے ہیں کہیں پر فل سٹاپ نہیں لیتے اور ان کی بات کو ٹکرز کی صورت میں عوام کے سامنے بہترین انداز میں پیش کرنا ایک مشکل امر بن جاتا ہے ابھی یہی بات چل رہی کہ ایک اور ٹویٹ سیاسی امور کے معاون کی جانب سے داغا گیا۔ پھر کیا تھا صاحب کے تو اوسان خطاہو گئے بولے یک نہ شد دو شد۔۔

کہنے لگے پتہ نہیں کس بنیاد پر سیاسی امور کا معاون خصوصی بنایا گیا ہے، نہ تو سیاست میں ان کا کچھ لینا دینا اور نہ ہی کبھی کونسلر تک منتخب ہوئے۔ میں نے بھی کہہ دیا جناب پاکستان میں کم ہی افراد کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے اور ڈگری بھی ملائیشیا کی یونیورسٹی سے مینیجمنٹ اور لیڈر شپ میں کر رکھی ہے اور سیاسی طور پر وہ پنجاب حکومت کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں اور اس سے بڑھ کر سوشل میڈیا پر ان کی فین فالونگ 13 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

وزیراعظم کو تو ان سے ڈبل فائدہ حاصل ہوتا ہے ایک تو سیاسی پشت پناہی کرتے ہیں دوسرا مینیجمنٹ کی ڈگری کی توسط سے بھی بہترین اور عمدہ مشوروں سے نوازتے ہیں تاکہ سرکاری مشینری اور نظام مملکت بہترین انداز میں چلتا رہے، اور اگر کوئی بھی پاکستانی، وزیراعظم کے خلاف بات کرے تو ڈاکٹر صاحب ایسی کلاس لیتے ہیں ان کی کہ وہ دوبارہ سوچ سمجھ کر بولتا ہے یا پھر چپ کر جاتا ہے۔

مثال کے طور پر چند دن پہلے ایک ٹی وی اینکر کی انہوں نے ٹویٹ کے ذریعے کلاس لی: ٹویٹ ملاحظہ فرمائیے: ’بصد احترام اللہ بچائے آپ کو دیکھنے سے اتنے برے دن نہیں آئے ابھی۔ میرا خیال ہے آپ کی 560 درخواستیں پروگرام میں آنے کی تو میں رد کر چکا۔ ایسی صحافت کو کیا دیکھنا۔ اس کا پہلے ہی پتہ ہوتا ہے اس نے کیا کہنا ہے۔ آپ ایک کم ریٹنگ والے شو کی جانبدار اینکر ہیں وہی رہیں۔‘

کتنی عزت و احترام کے ساتھ جناب نے اینکر کو خاموش کروایا۔ ایسے ہی وہ دیگر اینکرز کی ٹویٹس پر اپنے کمنٹ کر کے ان کو بتاتے رہتے ہیں کہ وہ کتنے جانبدار ہیں۔ جبکہ اگر ان کو کوئی رپورٹ کا خبر غلط نظر آئے تو سوشل میڈیا پر لعنت سے بھی کام چلا لیتے ہیں۔

یہ تو کچھ بھی نہیں ندیم افضل چن کی ٹویٹ ’اے بے یار ومددگار مزدوروں کی لاشو میں شرمندہ ہوں‘ پر بھی ان کو آڑے ہاتھوں لیا حالاں کہ وہ وزیراعظم کے ترجمان تھے۔ یہاں سے مجھے بھی سمجھ آیا کہ مشیر مشیر ہوتا ہے اور ترجمان کا کام جب کہا جائے اور جتنا کہا جائے اتنا ہی بولنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر صاحب واحد ایسے مشیر ہیں جو اپوزیشن، حکومتی وزرا اور میڈیا کو سیم پیج پر لے کر چلتے ہیں ان کی ٹویٹس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بہلول دانا کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ بغداد میں کسی نئے تاجر نے کاروبار کرنا تھا تو مشورہ مانگا کہ ’بہلول صاحب آپ بہترین اور عمدہ مشوروں سے نوازتے ہیں بتائے سرمایہ کاری کہاں کروں؟‘

اس دور میں جنگ کے امکانات تھے بہلول نے مشورہ دیا کہ ’لوہے کا کاروبار کر لو۔‘ اس نے کاروبار کیا اور بے انتہا فائدہ ہوا اب سرمایہ کار کئی گناہ زیادہ امیر ہو گیا ایک دن پھر کہیں بہلول ملا تو پوچھنے لگا، ’او پاگل بتا میں کون سا کاروبار کروں؟‘ بہلول نے کہا، ’سبزی، پیاز خرید لو۔‘

سرمایہ کار نے سارا مال لگا دیا کہ اس کے مشورہ پر عمل کیا تھا تو منافع ہوا تھا۔ جنگ کے باعث عوام مالی مشکلات کا شکار تھے قوت خرید ختم ہو چکی تھی جناب سرمایہ کار کی سبزیاں بکی کم اور خراب ہو گئی جناب شدید گھاٹے میں رہے، غصے سے بہلول کو ڈھونڈا اور کہنے لگے، ’او پاگل، تم نے میرا سارا سرمایہ ضائع کروا دیا۔ تم ایسا مشورہ کیوں دیا کہ مجھے نقصان ہو؟ ‘

بہلول نے جواب دیا، ’پہلی بار آپ نے مجھے ایک سمجھدار اور دانا انسان سمجھ مشورہ مانگا تھا، میں نے ویسا ہی مشورہ دیا جبکہ دوسری بار آپ نے مجھے پاگل کہہ کر مخاطب کیا تو میں نے مشورہ بھی پاگلوں والا ہی دیا۔‘ ڈر ہے کہ کہیں ہمارے مشیر بھی ہمارے حکمرانوں کا وہی حال نہ کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ