چُھپنا، دبکنا اور لندن سے پلٹ کر چپ رہنا لہو سرد رکھنے کا ہے اک بہانہ 

لیگی رہنماؤں سے بات کر کے احساس ہوا کہ اس جماعت کے اپنے اہم حلقوں میں شریف خاندان کے سیاسی لائحہ عمل اور مستقبل کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

مریم نواز کہتی ہیں کہ ان کے والد نواز شریف حقیقت میں علیل ہیں۔ ان کی صحت جان لیوا بیماریوں کا شکار ہے، وہ ملک سے بھاگ نہیں رہے بلکہ ضروری علاج کرانے کے بعد فوری واپس آنا چاہتے ہیں، وہ کسی صورت سیاسی میدان سے مستقل پسپائی اختیار نہیں کر رہے ہیں۔

عین ممکن ہے یہ بیانیہ درست ہو۔ مریم نواز بیگم جہاں آراء کی طرح اپنے باپ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور اللہ اور ان کے طبیبوں کے بعد نواز شریف کے دل کا حال سب سے بہتر جانتی ہیں۔

پچھلے تین چار ہفتوں میں نون لیگ کے درمیانے اور مرکزی رہنماؤں سے بات چیت کر کے یہ احساس ہوا ہے کہ اس جماعت کے اپنے اہم حلقوں میں شریف خاندان کے سیاسی لائحہ عمل اور مستقبل کے بارے میں تشویش اور شکوک پائے جاتے ہیں، کچھ اسباب، بے یقینی پرانے اور کچھ نئے۔

بڑا مسئلہ شہباز شریف کی پراسرار سیاست کا ہے۔ وہ جس خاموشی سے لندن چلے گئے اس سے کہیں زیادہ دبکے انداز میں اندرون پاکستان سیاست کر رہے ہیں۔

وہ کہنے کو قائد حزب اختلاف ہیں، پنجاب میں اپنے بیٹے کے ذریعے بھی اور خود پارٹی کی نکیل تھامے ہوئے ہیں۔ 2018 میں ایک کروڑ 28 لاکھ کے لگ بھگ ووٹروں کے جذبات اور احساسات کے نمائندہ امین ہیں مگر حقیقت میں وہ گدھے کے سر پر سینگ کی مانند غائب ہو چکے ہیں۔

پارلیمان میں مشترکہ اجلاس میں جلوہ افروز ہونے اور اکا دکا چلتے چلتے میڈیا کے سامنے زیر لب جملے کہنے کے علاوہ ان کی سیاست بہادر شاہ ظفر کی پرانی دلی میں اسیری کی مانند ہے۔

ان کے اعمال نہ دکھائی دیتے ہیں نہ افکار سے پارٹی مستفید ہو پاتی ہے۔ ٹویٹس کے ذریعے جو اقوال سامنے آتے ہیں وہ بھی انتہائی پُھسپُھسے اور سیاسی تازگی اور توانائی سے محروم۔ پارٹی کی مرکزی انتظامی کمیٹی کے اجلاس ایک طویل عرصے سے نہیں ہوئے۔

مشاورت نام کی نہیں۔ غیر رسمی مشیروں کا دائرۂ کار محدود ہو کر چند ناموں تک رہ گیا ہے۔ وہ تمام رہنما اور کارکن جنہوں نے 2018 کے انتخابات میں تمام ترلالچ اور ’حقیقت پسندانہ‘ فیصلوں سے اجتناب کیا اور پارٹی کو نہ چھوڑا، اب اس اضطراب میں مبتلا ہیں کہ نہ جانے شہباز شریف کی ’حقیقت پسندی‘ کب ختم ہو گی؟

شہباز شریف نے احتیاط کا دامن ایسے پکڑا ہے کہ غیر فعالیت کے مجاور بن کے رہ گئے ہیں۔ ان کے لندن پذیر اور زیرک ترین بیٹے سلمان شہباز اپنے والد کی اس خود ساختہ سیاسی کاہلی کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

ان کی انسیت اپنے کاروبار سے زیادہ اور سیاسی چالوں سے کم ہے، مگر اب سیاسی معاملات پر اپنے والد پر اثرانداز ہوئے بغیر وہ اپنے خاندان کے کاروبار کی فکر کو دور نہیں کر سکتے۔ اگرچہ نیب کی طرف سے شہباز شریف خاندان کی خواتین کو اثاثوں کی تحقیقات میں گھسیٹنے کے بعد سلمان شہباز کی یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے کہ ان کے اونچے درجے کے تعلقات ان کو اپنے تایا اور کزن کی طرح کے مسائل سے بچا پائیں گے۔

بہرحال وہ ابھی بھی شہباز شریف کے خاموش لبوں پر سب سے بڑا تالا ہیں اور والد کی طرح سمجھتے ہیں ایک چپ سو سکھ۔

پارٹی اس دوران شہباز شریف کی سکھ کی اس تلاش میں چکرا کر رہ گئی ہے۔ پارٹی میں موجودہ جوان خون یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مقتدر حلقوں پر تنقید کی بندش تو شاید نظریہ وقتی ضرورت کے تحت ہضم کی جا سکتی ہے مگر حکومت کی روزانہ ہر اوور میں چھ فل ٹاسوں پر چھکا نہ لگانے اور اپنا سر بچانے کی حکمت عملی کی نوعیت کیا ہو گی؟

پچھلے دنوں عمران خان حکومت کی معاشی نااہلی پر شدید تنقید کے ردعمل میں شہباز شریف کی طرف سے ناقد کو شاباشی کے ساتھ یہ ہدایت بھی ملی کہ ہاتھ ہولا رکھیں۔ اسی طرح جب ایک مقامی رکن قومی اسمبلی نے اپنے حلقے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا تو لاہور سے ہرکارے بھیجے گئے کہ جناب ایسی حرکات سے اجتناب برتیں۔

پارٹی کو معلوم نہیں کہ کس رخ منہ کر کے سیاسی نیت باندھے اور دوسری طرف ایک مرکزی رہنما ہے جو لندن کے بس سٹاپ پر سرخ بوٹ اور مخصوص ہیٹ پہنے موبائل پر نظریں جمائے اکیلے پن کی تصویر نظر آتا ہے۔

اگر چھپنا، دبکنا اور لندن سے پلٹ کر چپ رہنا لہو سرد رکھنے کا ایک بہانہ ہے تو کم از کم پارٹی کو اعتماد میں تو لیں۔ ان کو بتائیں کہ آنے والے دنوں میں اس جماعت کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے؟ اور یہ جماعت کیا کچھ کر پائے گی؟ جیمز بانڈ جیسی حرکات جاسوسی ناولوں میں تو خوب بھلی محسوس ہوتی ہیں مگر بڑے سیاسی میدان میں باالخصوص عوامی سیاسی میدان میں یہ زہر قاتل بن جاتی ہیں۔

مقامی سیاست گلیوں، گندے پانی کی نکاسی کے پائپوں، قبرستانوں کی چار دیواریوں، پٹواریوں اور تھانے کے گرد گھومتی ہوئی اجارہ داریوں پر مبنی ہے۔ پارٹی کے لوگوں کو جماعت سے بھگانے کے لیے کسی بڑے پلان کا فیض نہیں چاہیے۔

ان کے لیے مرکزی قیادت کی طرف سے عدم رہنمائی اور اپنی کھال بچانے کا پیغام ہی بہت ہے۔ مقامی سیاست دان یہ سوچنے میں حق بجانب ہو گا کہ اگر اوپر والے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں تو وہ آنے والی اپنی سیاست کو کیوں تباہ کریں؟ یہ کیسے کمانڈر ہیں جو صفوں کے پیچھے رہ کر لڑتے ہیں؟ کیا ان کو معلوم نہیں کہ بھگدڑ میں یہ سب سے پہلے روندے جائیں گے؟

اس ماحول میں نواز شریف کی بیماری کی داستانیں اور ان کے علاج کا ہر وقت کا چرچا اس پیغام کو مزید پراثر کر دیتا ہے کہ علاج کے راستے میاں نواز شریف امید و بیم کی کیفیت سے نکل کر لندن میں اعصابی سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مانا کہ نواز شریف کی صحت ن لیگ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے مگر ن لیگ کی سیاست کو اسی معاملے تک محدود رکھنے کا نتیجہ تمام جماعت میں بددلی کا باعث ہی بن سکتا ہے۔

نواز شریف کو دل کا عارضہ ہے، دوسری بیماریاں بھی ہیں۔ بولنے سے گریز بہرحال ان کی اپنی سیاسی حکمت کا نسخہ ہے۔ یہ کیا انداز امامت ہے کہ سلام کے وقت آپ نیت کو طویل کر دیں اور اجتماعی دعا کے لمحے محض اپنی صحتیابی کے کلمے پڑھوائیں۔

کیا میاں محمد نواز شریف کے پاس کہنے کو کچھ نہیں؟ کیا تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والا شخص اپنی حیران کن خاموشی کا دفاع ایک ایسے وقت کر سکتا ہے کہ جب ہر طرف احتجاج کا غلغلہ اٹھا ہوا ہے۔ کیا معیشت، خارجہ پالیسی، دفاع اور عوامی زندگی کے ہزاروں مسائل اس کی نظر سے اوجھل ہیں؟

اگر اسحاق ڈار بول سکتے ہیں تو نواز شریف کیوں نہیں؟ پارٹی کو کب تک نواز شریف کی بیماری اور ضمانت کے بیانیے سے چلائیں گے؟ نواز شریف کی دل کی بیماری نے ن لیگ کو ریڑھ کی ہڈی کے فالج میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان کے تو ذاتی معالج موجود ہیں، پارٹی کے پاس تو کوئی سہولت مہیا نہیں۔ وہ وقت قریب ہے کہ جب پارٹی کی مقامی قیادت اپنے علاج  کا خود ہی بندوبست کر لے۔ ویسے ہی جیسے شہباز شریف اور نواز شریف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


نوٹ: مندرجہ بالا تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر