بائیڈن کی روسی صدر پوتن کے ساتھ پہلی کال میں تنازعات پر گفتگو

امریکی صدر نے اپنے روسی ہم منصب سے الیکشن مداخلت، افغان باؤنٹی سکیم اور سائبر حملوں پر براہ راست بات کی لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو مکمل طور پر اختلافی نہیں تھی۔

صدر بائیڈن نے امریکی انٹیلی جنس کو گذشتہ چار سال کے دوران روسی سرگرمیوں کی جائزہ رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا ہے

(اے ایف پی)

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کے ساتھ فون پر بات کی۔ یہ ان کے صدر منتخب ہونے کے بعد روسی صدر سے ہونے والی پہلی بات چیت تھی، جس کے دوران انہوں نے حزب اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی کے گرفتاری، متعدد امریکی وفاقی اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے میں مبینہ روسی کردار اور افغانستان میں روس کی جانب سے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں کی سر کی قیمت مقرر کرنے جیسے معاملات پر گفتگو کی۔

صدر بائیڈن اور صدر پوتن کے درمیان اس کال کی پہلی اطلاع ایسوسی ایٹڈ پریس نے جاری کی۔  صدر بائیڈن روس کے ساتھ امریکی تعلق کا نیا انداز مقرر کرنا چاہتے ہیں جو سرد جنگ کے زمانے کے مخالف امریکہ کی جمہوریت کو کمزور اور پوتن کے اقتدار کی دو دہائیوں کے دوران دنیا میں خود کو دوبارہ سے طاقتور ملک کے طور پر سامنے لانا کی کوششیں کرتا رہا ہے۔

صدر بائیڈن کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ باقاعدگی سے روسی صدر پوتن کو ہر معاملے، جیسے کہ 2016 اور 2020 کے انتخابات میں روسی مداخلت، 2020 میں سولر ونڈز سائبر حملوں، افغانستان میں امریکی فوجیوں کی سر کی قیمت مقرر کرنے اور گذشتہ موسم گرما میں نوالنی کو زہر دینے، پر شک کا فائدہ دیتے رہے ہیں، باوجود اس کے کہ امریکی انٹیلی جنس حکام کو اس بات پر اعتراض تھا۔  

ڈیمو کریٹک صدر بائیڈن روسی صدر پوتن کے ساتھ تعلقات کے نئے سرے سے آغاز پر کاربند نہیں جیسا کہ صدر براک اوباما کی پہلی مدت صدرات کے دوران کیا گیا تھا جیسے زیادہ تر خارجہ پالیسی ماہرین ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہیں لیکن وہ اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ اختلافات کو بڑھانا بھی نہیں چاہتے۔

گو کہ صدر بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس ولادی میر پوتن سے الیکشن مداخلت، افغان باؤنٹی سکیم اور سائبر حملوں پر براہ راست بات کی ہے لیکن منگل کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو مکمل طور پر اختلافی نہیں تھی۔

کال کے دوران صدر بائیڈن اور صدر پوتن نے 'نیو سٹارٹ' نامی جوہری کنڑول کے باہمی معاہدے کو مزید پانچ سال کے لیے توسیع دینے پر اپنی باہمی خواہش کا اظہار کیا، جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان جوہری ہتھیاروں کو محدود رکھنے کا معاہدہ ہے اور 1990 سے کیے جانے والے معاہدوں کی تازہ ترین کڑی ہے۔

نیو سٹارٹ پر پہلی بار صدر اوباما نے 2009 میں دستخط کیے تھے جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں شفافیت سے جائزہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔

سوموار کو صدر بائیڈن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں اپنے ملکوں کے باہمی فوائد کے لیے نیو سٹارٹ معاہدے پر کام کر سکتے ہیں اور روس کو یہ واضح انداز میں بتا سکتے ہیں کہ ہم ان کے رویے، چاہے یہ نوالنی سے متعلق ہو، سولر ونڈز یا افغانستان میں امریکیوں کی سر کی قیمت مقرر کرنے جیسے معاملات ہوں، کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔'

دونوں رہنماؤں کی گفتگو کے حوالے سے کریملن سے جاری کردہ بیان میں اسے 'کاروباری نوعیت اور بے تکلفانہ' قرار دیا گیا۔ بیان کے مطابق 'دونوں رہنماؤں نے مزید رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بائیڈن انتظامیہ حالیہ دنوں میں صدر پوتن پر نوالنی اور گذشتہ ہفتے کے اختتام پر احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے ان کے حامیوں کو رہا کرنے پر زور دیتی رہی ہے۔

سوموار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا تھا کہ 'ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آفاقی حقوق پر عمل کرنے والے افراد کو رہا کرے اور نوالنی کو غیر مشروط اور فوری رہائی کو یقینی بنائے۔' اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ بھی ایسا ہی ایک بیان جاری کر چکا ہے۔

ساکی نے روس سے اگست 2020 میں نوالنے کو زہر دیے جانے کے معاملے پر ایک بین الااقوامی تحقیقات میں 'تعاون' کرنے کے مطالبے کو بھی دہرایا اور اپنے ایک شہری پر کیمیائی ہتھیار نوی چوک کے استعمال کی 'قابل اعتبار وضاحت' پیش کرنے کا کہا۔

نوالنی جرمنی کے ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد رو بہ صحت ہونے کے بعد 17 جنوری کو واپس ماسکو پہنچے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ روس میں صدر پوتن کے سے سب معروف سیاسی مخالف ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر نوالنی کے ہزاروں حامیوں کو ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا، جن میں سے کئی کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

صدر بائیڈن نے امریکی انٹیلی جنس کو گذشتہ چار سال کے دوران روسی سرگرمیوں کی جائزہ رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا ہے، جن میں بڑے پیمانے پر کیے جانے والے سولر ونڈز سائبر حملے، امریکی وفاقی اداروں اور گلوبل چین ڈیٹا، 2020 کے انتخابات میں صدر پوتن کی مداخلت، نوالنی کے خلاف کیمیائی ہتیھار کا استعمال اور میبنہ افغان باؤنٹی سکیم شامل ہیں۔

ساکی کے مطابق اس جائزہ رپورٹ پر کام 'جاری' ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے مکمل ہونے کے حوالے سے کوئی وقت مقرر نہیں کر سکتیں البتہ یہ ان کی انتظامیہ کی 'ترجیح' ہے۔


اس خبر میں اولیور او کونیل کی معاونت شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ