سندھ کے مسلمان زمیندار جنہوں نے اپنے ہندو کسان کی قبر خود کھودی

بدین کے زمیندار وارث لغاری نے اپنے کسان اور دوست شگن لال کولہی کے انتقال پر ان کی خواہش کے مطابق خود قبر کھود کر انہیں دفنایا۔

وارث لغاری کی اپنے کسان اور دوست کو اس طرح سے خیرباد کہنے کی تصاویر سامنے آنے کے بعد فیس بک اور ٹوئٹر پر سندھ کے لوگ انہیں سراہ رہے ہیں۔(تصاویر بشکریہ: مکیش میگھواڑ)

پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کے دارالحکومت کراچی سے تقریباً 275 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع بدین کے شہر ملکانی شریف کے رہائشی مسلمان زمیندار نے شیڈولڈ کاسٹ کے ہندو کسان کے انتقال پر خود ان کی قبر کھود کر انہیں دفنایا۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے 20 ایکڑ رزعی زمین کے مالک وارث لغاری نے بتایا: ’شگن لال کولہی گذشتہ 15 سال سے میری زرعی زمینوں پر کسان کے طور پر کام کرتے تھے۔ جب وہ چل بسے تو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان کی قبر کھودی۔ انہوں نے میرے بچوں کی خوراک اگائی، اس لیے مجھ پر فرض تھا کہ ان کو عزت کے ساتھ الوداع کروں۔‘

وارث لغاری نے بتایا کہ شگن لال کولہی ان کے پڑوسی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے دوست اور ایک بہترین کھوجی  بھی تھے۔ ’علاقے میں جب کوئی چوری ہوجاتی تھی تو لوگ مجھے کہتے تھے کہ میں کھوجی شگن لال کو لے آؤں۔ وہ میری بات نہیں ٹالتے تھے۔‘ 

انہوں نے کہا: ’عقیدہ کوئی بھی ہو مگر پڑوسیوں کے ہم پر حقوق ہیں۔‘

زمیندار وارث لغاری نے بتایا کہ شگن لال اکثر انہیں کہتے تھے کہ اگر وہ چل بسیں تو ان کی قبر میں اپنے ہاتھوں سے کھودوں۔ ’ان کے جانے کے بعد میں نے ان کے سسر کو یہ بات بتائی، سسر نے اجازت دے دی تو میں نے قبر بنائی، جو شگن لال کے خاندان والوں کو بھی پسند آئی۔‘ 

وارث لغاری کے مطابق ان کے علاقے میں بڑی تعداد میں ہندو آباد ہیں اور سندھ کے دیگر اضلاع کی طرح ان کے ضلعے میں بھی ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے ہیں۔ ’ہم نے کبھی کوئی تفریق نہیں رکھی، ہمیشہ بھائیوں کی طرح رہے ہیں اور ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں میں شرکت کرتے ہیں۔‘ 

’امید کی کرن‘

وارث لغاری کی اپنے کسان اور دوست کو اس طرح سے خیرباد کہنے کی تصاویر سامنے آنے کے بعد فیس بک اور ٹوئٹر پر سندھ کے لوگ انہیں سراہ رہے ہیں۔

سماجی کارکن مکیش میگھواڑ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’سندھ میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے دور میں ایسے واقعات ایک امید کی کرن سے کم نہیں ہیں۔ سندھ میں صدیوں سے ہندو اور مسلمان بھائیوں کی طرح رہے ہیں۔ عقیدے الگ ہیں مگر مالک تو سب کا ایک ہے۔ ہماری دھرتی، ہماری مٹی تو ایک ہی ہے۔ لوگ کتنا بھی دین دھرم میں بانٹنے کی کوشش کریں، مگر سندھ کے صوفیانہ مزاج کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔‘ 

مکیش میگھواڑ کے مطابق: ’سندھ میں موجود یہ اپنا پن مجھ جیسے ہزاروں نوجوانوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے بلکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ روایتیں بطور تاریخی ورثہ دے سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی 55 لاکھ ہے، جبکہ ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک میں ہندو آبادی 80 لاکھ سے بھی زائد ہے، جن میں اکثریت سندھ اور سندھ میں بھی زیریں یا جنوبی سندھ کے اضلاع میں آباد ہیں۔ ان میں اکثر ہندو کھیتی باڑی سے منسلک ہیں۔  

ہندو دھرم میں ذات پات پر مبنی نظام تین ہزار برس سے زائد عرصے سے رائج ہے جو طبقاتی تقسیم کی سب سے پرانی صورت ہے اور اس نظام کے تحت ہندوؤں کو ان کے کرما (کام) اور دھرما (فرض) کی بنیاد پر مختلف سماجی گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ان میں کچھ لوگ اونچی ذات کے ہیں، وہیں اکثریت کو نچلی ذاتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ 

قیام پاکستان کے بعد ملک کے پہلے آئین کے لیے 1965 میں بننے والی کمیٹی میں ملک کے پہلے وزیر قانون جوگندر لال منڈل، جو ایک بنگالی ہندو تھے، نے پاکستانی ہندوؤں کی اکثریت کو، جو انتہائی غریب تھے، شیڈولڈ کاسٹ والی فہرست میں ڈال دیا جو آج بھی سرکاری سطح پر رائج ہے۔

 بھارتی فلموں میں دیکھی گئی روایت کے باعث اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ سب ہندو اپنے مردے جلاتے ہیں جبکہ پاکستانی ہندؤوں کی اکثریت اپنے مردوں کو دفناتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان