افغان سکیورٹی فورسز کو تنخواہیں نہ ملنے سے طالبان کی طاقت میں اضافہ

صوبہ قندھار میں ہزاروں پولیس اہلکار اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کام کر رہے ہیں اور طویل عرصے تک اپنی تنخواہوں سے محروم رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے اہلکار اپنی چوکیوں سے بھاگ گئے ہیں اور اس کمزوری کا طالبان نے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔

کچھ سپاہیوں کو آٹھ مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے (تصویر: چارلی فولکنر)

جب 24 سالہ بلال نے چھ سال پہلے افغان سکیورٹی فورسز میں ملازمت اختیار کی تھی تو ان کا مقصد صرف ماہانہ تنخواہ کا چیک وصول کرنے سے کچھ زیادہ تھا۔ وہ اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے تھے، لیکن گذشتہ کچھ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باعث ان کی اس لگن کا حیران کن طور پر امتحان جاری ہے، باوجود اس کے کہ قندھار میں تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

افغانستان کے صوبے قندھار کے ضلع زہری میں پولیس سٹیشن کی چھت پر کھڑے بلال نے بتایا: ’مجھے آٹھ مہینوں سے تنخواہ نہیں دی گئی لیکن اگر میں نہیں لڑوں گا تو یہ کام کون کرے گا؟ کون میرے ملک کے لیے لڑے گا؟‘

اسی علاقے میں موجود آگے کی کئی پولیس چوکیوں پر طالبان کے قبضہ کرنے کے بعد یہی چوکی فرنٹ لائن کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ اس صبح اسی چوکی کی چھت پر عمارت کے سامنے واقع ویران مکانوں سے باہر طالبان کے زیر قبضہ علاقے کی حدود میں 950 ملی میٹر کے 15 مارٹر گولے فائر کیے گئے۔

پولیس اور افغان نیشنل آرمی دونوں کے اہلکار یہاں تعینات کیے گئے ہیں۔ فی الحال وہ ایک ماہ سے طویل عرصے سے یہاں تعینات ہیں اور طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہاں سے روانہ کی جانے والی مہمات زیادہ سے زیادہ تین دن تک جاری رہتی ہیں، جس کے بعد اہلکار واپس لوٹ آتے ہیں۔

فروری 2020 میں دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد گذشتہ برس ستمبر میں شروع ہونے والے طالبان اور افغان حکومت کے مابین جاری مذاکرات کے باوجود لڑائی میں حالیہ اضافے کی وجہ سے صرف اس یونٹ سے تقریباً 40 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

بلال جو صرف اپنا پہلا نام بتاتے ہیں، ان کی منگنی ہو چکی ہے اور انہیں اپنی شادی کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کے علاوہ ان کا ایک خاندان بھی جو ان کی معاشی مدد پر انحصار کرتا ہے۔ وہ ایسے ہزاروں پولیس افسران میں شامل ہیں جو صوبہ قندھار میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کام کر رہے ہیں اور طویل عرصے تک اپنی تنخواہوں سے محروم رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے اہلکار اپنی چوکیوں سے بھاگ گئے ہیں اور اس کمزوری کا طالبان نے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔

اہلکار ایک ساتھ مل کر دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب ریڈیو پر پانچ کلومیٹر دور قریبی ضلع پنجاوی میں ایک فوجی بیس میں دھماکے کی اطلاع ملی۔ طالبان نے بیس کی حدود کے اندر سرنگ کھود کر وہاں دھماکہ خیز مواد رکھ دیا تھا۔ اس دھماکہ خیز کے پھٹنے کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ارغنداب، زہری اور پنجاوی کے اضلاع صوبہ قندھار میں جھڑپوں کا مرکز رہے ہیں جہاں افغان فورسز کو قدم جمانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی فضائی مدد حکومتی افواج کے لیے بہت اہم ہے۔

پولیس چیف میجر معصوم خان نے ضلع زہری میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر میں دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میرے کئی سو اہلکاروں کو مہینوں سے تنخواہ نہیں دی گئی ہے، ان میں سے کئی افراد چھ ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میرے اہلکاروں کا تعلق انہی دیہاتوں سے ہے اور وہ کئی سالوں سے لڑتے آ رہے ہیں، اس لیے لڑنا ان کی مجبوری ہے ورنہ وہ قتل کر دیے جائیں گے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے ایسے لوگوں کو کھودیا ہے، جو تنخواہ نہ ملنے پر تنگ آ چکے تھے۔‘

وہ تنخواہیں نہ ملنے کا قصور وار انتظامیہ میں موجود اعلیٰ قیادت کی بدعنوانی کو سمجھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’یہ ہمارا ملک ہے، یہ ہمارا صوبہ ہے، ہمارا گاؤں ہے، ہمیں اس کی حفاظت ہر صورت کرنی ہو گی۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو کوئی اور ایسا نہیں کرے گا۔ ہم ایسا کرنے کو برا نہیں سمجھتے لیکن ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری حکومت ہمیں مناسب ہتھیاروں سے لیس کرے گی اور یہاں کافی تعداد میں اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور ان اہلکاروں کو تنخواہیں دی جائیں گی۔‘

ان کے مطابق: ’اس نئی حکومت کے قیام سے قبل کوئی انسانی حقوق نہیں تھے (وہ امریکی حملے سے پہلے کے دور کی بات کر رہے تھے)۔ مثال کے طور پر خواتین باہر نہیں جا سکتی تھیں لیکن اب ہم خواتین کو پولیس میں، سکیورٹی فورسز میں اور پارلیمنٹ میں کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اگر ہم لڑائی جاری نہیں رکھتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ مہینوں میں اس پورے علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال کے بدتر ہونے کا مشاہدہ کر چکے ہیں اور ان کے مطابق امریکی فوج کا انخلا اس صورت حال کو مزید بدتر کرے گا۔

میجر معصوم خان کہتے ہیں کہ ’ابھی امریکہ کے لیے افغانستان کو چھوڑنے کے لیے صورت حال مستحکم نہیں ہے۔ جب امن مذاکرات ختم ہوں گے اور مسائل حل ہو جائیں گے تو وہ افغانستان سے جا سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب میجر معصوم خان بات کر رہے تھے تو اس وقت ضلع زہری کا نصف علاقہ حکومت کے زیر انتظام تھا، لیکن کچھ دن بعد جنوری کے وسط تک طالبان نے اس وسطی ضلع کے مزید کئی کلو میٹر علاقے پر قبضہ کر لیا۔

قندھار کے نئے ڈپٹی جنرل فرید احمد مشعل اہلکاروں کو تنخواہ نہ دینے کے باعث ’سکیورٹی فورسز کے کمزور ہونے‘ اور اس پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پولیس کی تعداد میں اس وجہ سے کمی آ رہی ہے اور اس کمزوری کا فائدہ طالبان اٹھا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے لیکن ہم اس کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پنجاوی کے پولیس ہیڈ کوارٹرز میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کے کئی ساتھی اپنی نوکری سے بھاگ چکے ہیں، جس کی وجہ تنخواہ نہ ملنا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ امریکی فوج کا انخلا ان کے حوصلوں میں پستی کا باعث بن رہا ہے لیکن کچھ افراد ابھی بھی اپنے لڑنے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ پنجاوی کا تقریباً 60 فیصد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔

یہاں موجود کئی اہلکار جنگ کے باعث معذور ہو چکے ہیں۔ ایک اہلکار اپنا سوجن زدہ ہاتھ دکھاتے ہیں جو ایک آئی ای ڈی کے دھماکے میں متاثر ہوا تھا۔ ایک اور 22 سالہ اہلکار حیات اللہ بتاتے ہیں کہ تین ماہ قبل ان کا دایاں بازو بری طرح زخمی ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نگرانی کے ٹاور میں موجود تھا، جب طالبان نے ہماری چوکی پر حملہ کیا۔ مجھے بازو میں گولی لگی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ میں زخمی ہو چکا ہوں لیکن میں ایک گھنٹے تک لڑتا رہا۔ اسی بازو میں ایک اور گولی بھی لگی۔‘ یہ سب بتاتے ہوئے ان کا بازو عجیب طرح سے ان کی گود میں جھولتا رہا۔ ان کا بازو دھاتی جوڑ سے باندھا گیا ہے تاکہ ہڈی اپنی جگہ واپس آ سکے اور ان کے کاندھے پر جیکٹ ڈال دی گئی تھی۔

اسی حملے میں ہلاک ہونے والے تین اہلکاروں میں حیات اللہ کا ایک بھائی بھی شامل تھا۔ حیات اللہ نے بتایا: ’میرے خاندان کے چار افراد گذشتہ تین سال میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ میں اپنے گاؤں واپس نہیں جا سکتا کیونکہ مجھے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

حیات اللہ نے بھی اپنے نام کا صرف پہلا حصہ بتایا۔

میر واعظ علاقائی ہسپتال کے بستر پر لیٹے عزیز اللہ کو سانس لینے میں تکلیف کا سامنا ہے۔ وہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

41 سالہ عزیز اللہ 13 سال تک سپیشل فورسز کا حصہ رہے ہیں جو کہ غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ وہ دس ماہ سے چھٹی پر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں اسی وجہ سے طالبان نے نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’میں ایک دوپہر کو ارغنداب میں ایک دکان کے باہر بیٹھا اپنے دوستوں کے ساتھ چائے پی رہا تھا جب میں نے گولی کی آواز سنی۔ میں کھڑا ہوا اور مجھے لگا جیسے مجھے بجلی کے جھٹکے دیے جا رہے ہیں۔ جب میں کھڑا ہوا تو میں فوراً زمین پر گر گیا۔‘ وہ پانچ بچوں کے والد ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’میرے پاس سکیورٹی فورسز میں واپس جانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسی نوکری نہیں ہے جو میں کر سکوں اور میں دکاندار یا ٹیکسی ڈرائیور نہیں بن سکتا۔ میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ میں ہمیشہ نشانہ رہوں گا۔‘

طالبان کے ترجمان نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ کو موقف دینے کی درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

میجر مشعل کا کہنا ہے کہ ’ٹارگٹڈ حملوں میں اضافہ ایک بڑی تشویش ہے۔‘ انہوں نے آئی ای ڈیز کو ہٹانے کے لیے صرف ہونے والے وقت کے بارے میں بتایا، جو طالبان کسی بھی علاقے پر قبضہ کرنے بعد بچھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان عام شہریوں کے گھروں کو استعمال کرتے ہیں تاکہ انہیں نشانہ بنانے کے امکانات کم ہو سکیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ طالبان امریکی انخلا کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی فورسز کو شکست دے دی ہے جس کے بعد طالبان کی بھرتیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

انہوں نے طالبان پر فروری میں امریکہ سے کیے جانے والے معاہدے میں اپنے حصے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے اپنی جنگی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ ہم 17 میں سے دس اضلاع میں ہر رات طالبان سے جنگ لڑ رہے ہیں۔‘ انہوں نے افغان فورسز کے لیے امریکی فضائی حملوں کی اہمیت بھی بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی فضائی مدد کے بغیر طالبان دوبارہ حکومت میں آ جائیں گے۔‘

اس رپورٹ میں عبدالمتین امیری کی معاونت بھی شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا