چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

ایسا لگتا ہے کہ اس دفعہ میانمار کی فوج نے عوامی موڈ کا غلط اندازہ کر کے بھاری غلطی کی ہے۔ اس بار اسے سخت عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے واضح آثار آہستہ آہستہ نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اساتذہ اور طلبہ نے بھی احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں اور تین انگلیوں والی سلامی دے رہے ہیں جو کہ اس خطے کے دیگر ممالک میں مظاہرین آمریت کے خلاف استعارے کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر اگر آپ مصنف کی آواز میں سننا چاہیں تو یہاں کلک کریں

 


اگر آپ نے 50 سال سے زیادہ بغیر کسی وقفے کے بلا شرکت غیر پورے ملک پر حکمرانی کی ہو تو عادت اتنی آسانی سے نہیں بدلتی۔

آپ کے قابو میں ملک کے تمام وسائل و ذرائع ہوں، آپ جو چاہیں قانون بنائیں، آپ جسے چاہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیں یا زندگی سے محروم کر دیں، آپ جس کی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہیں آپ کے لیے ممکن ہو، آپ اربوں ڈالرز سالانہ فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے  کما رہے ہوں، یہاں تک کہ آپ کے اپنے  ریڈیو اور ٹیلی وژن چینل ہوں اور آپ کا اپنا بنایا ہوا آئین ہو تو ان سب استحقاق کے ختم ہونے یا اس کی خاتمے کا امکان بھی آپ کو بے چین کر سکتا ہے اور آپ اپنے ان لامتنائی مفادات کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔

اس عظیم طاقت کے چھن جانے کے خوف میں کوئی بھی بڑی غلطی سرزد ہو سکتی۔ اس خوف، بے چینی اور تذبذب کے عالم میں آپ اپنے حریف کے ردعمل چاہے وہ کتنا بھی کمزور ہو صحیح طور پر جانچ نہیں پاتے۔ یہی سنگین غلطی شاید میانمار میں فوج نے حالیہ بغاوت کے ذریعے کی ہے۔

اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کو خطرے میں دیکھ کر اور انہیں بچانے کے لیے میانمار کی فوج نے اس مرتبہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ایک نئی نرالی وجہ تلاش کی۔ پچاس سالوں سے نام نہاد انتخابات جن میں وہ دھاندلیوں کے ذریعے اپنی پسند کے امیدواروں کو کامیاب کرواتے رہے لیکن اس مرتبہ انہوں نے خود ہی نومبر 2020 کے اتخابات میں بے قاعدگیوں کا الزام لگا کر اقتدار پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

ان انتخابی نتائج سے فوج کو خطرہ محسوس ہوا کہ برسراقتدار اور عوام میں جڑیں رکھنے والی پارٹی این ایل ڈی کی نومبر انتخابات میں زبردست فتح اور فوج کی اپنی حمایت یافتہ سیاسی پارٹی کی بری شکست کے بعد شاید اس کے اختیارات اور قوت میں کمی آ جائے۔

 پہلے قدم کے طور پر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا کہ انتخابات کے نتائج کو تبدیل کیا جائے مگر کمیشن کے شفاف اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے سے انکار پر وہی کیا گیا جو میانمار کی فوج 1962 سے کرتی آئی ہے۔

اس انتخاب کے نتیجے سے فوجی قیادت کو یہ لگا کہ اب ملک کی رہنما آنگ سان سوچی اس بھاری اکثریت کے ذریعے آئین میں ایسی تبدیلیاں لائیں گی جن سے ان کے سیاسی و معاشی مفادات اور ملک پر گرفت میں کمی آجائے۔ فوج پہلے ہی پولیس، محکمہ دفاع اور داخلہ کو مکمل طور پر قابو کیئے ہوئے ہے۔

آنگ سان سوچی نے جمہوری ذہن ہونے کے باوجود فوج کی مختلف غیرقانونی حرکات اور اقلیتوں کے خلاف مظالم خصوصا روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا بھی دفاع کیا۔ وہ اس امید سے تھیں کہ فوج کے ان ظالمانہ اقدامات کی حمایت یا ان سے چشم پوشی کرکے وہ فوج کو محدود رکھ سکیں گی اور جمہوری اقدار کو مضبوط کر سکیں گی۔ مگر ان عنایات کے باوجود وہ فوج کو اپنے پیشہ وارانہ کردار تک محدود کرنے میں ناکام رہیں جس سے ان کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔

فوجی طالع آزماؤں کو یہ رعایت دیتے ہوئے وہ یہ بنیادی اصول بھول گئیں کہ تیسری دنیا کے ممالک کی افوج کا اپنا ذہن اور اپنے مفادات ہیں جن کے دفاع کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتی ہیں۔ یہ ذہن جنوبی مشرقی ایشیا کے باقی ممالک انڈونیشیا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک میں بھی پچھلے 50 سالوں میں نظر آیا ہے۔ انڈونیشیا میں فوج کو مجبورا طاقت عوامی نمائندوں کے حوالے کرنے پڑی جب ان کے لمبے اقتدار کے خلاف پوری انڈونیشین عوام اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسے ہی جنوبی کوریا میں بھی ہوا۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس دفعہ میانمار کی فوج نے عوامی موڈ کا غلط اندازہ کر کے بھاری غلطی کی ہے۔ اس بار اسے سخت عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے واضح آثار آہستہ آہستہ نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

بغاوت کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لیے لوگوں نے غیر متشدد مزاحمت کے متنوع طریقے اختیار کرتے ہوئے گھروں کی کھڑکیوں سے اپنے برتن بجانے شروع کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گاڑیاں چلانے والے ہارن بجا کر اس بغاوت کے خلاف کھلم کھلا اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ساتھ میں وہ سڑکوں پر بھی نکل رہے ہیں۔

درجنوں ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں نے کام چھوڑ دیا ہے اور اپنے بازوؤں پر سرخ پٹی لگا کر فوجی انقلاب کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ نے بھی احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں اور تین انگلیوں والی سلامی دے رہے ہیں جو کہ اس خطے کے دیگر ممالک میں مظاہرین آمریت کے خلاف استعارے کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ ان مظاہروں میں اضافے سے فوجی حکمران جارحانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے انہیں طاقت سے کچلنے کی کوشش کریں۔ فوجی حکمران پہلے بھی اپنے ہزاروں ہم وطنوں کو ماضی میں موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں اور یہی طرز عمل اب بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ سخت عوامی ردعمل شاید میانمار میں فوج کے اثر و رسوخ اور سیاسی مداخلت کا دروازہ ہمسایہ ممالک انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کی طرح ہمیشہ کے لیے بند کر دے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میانمار میں فوجی انقلاب میں دنیا بھر میں جمہوری قوتوں بشمول پاکستان کے لیے بہت سارے سبق پنہاں ہیں۔ سب سے بڑا سبق اپنے جمہوری اصولوں پر ڈٹے رہنے کا ہے۔

آنگ سان سوچی نے فوج کو خوش رکھنے کے لیے اور شاید جمہوریت کو دوام دینے کے لیے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی تک کا دفاع کیا مگر جب فوج کو اپنے مفادات خطرے میں نظر آئے تو انہوں نے بغیر کسی توقف کے ان کی چھٹی کرا دی۔

ترقی پذیر ممالک میں فوجی اشرافیہ کبھی بھی آسانی سے اپنی طاقت میں شراکت پسند نہیں کرتی اور نہ ہی وہ سویلین قیادت کو بالادست کردار دینا چاہتی ہے۔

جمہوریت کا دفاع صرف عوام کر سکتے ہیں اور جہاں عوام جمہوریت کے لیے فوجی حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں وہاں اب جمہوریت کو فروغ مل رہا ہے جس کی واضح مثال انڈونیشیا اور جنوبی کوریا ہیں۔

میانمار کے تجربات بتاتے ہیں کہ جمہوریت کی بقا اسی وقت ممکن ہے اگر عوام متحد ہو کر عوامی طاقت سے سیاسی طالح آزماؤں کا مقابلہ کریں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

میانمار میں جاری احتجاج کی ویڈیو رپورٹ یہاں دیکھیں

 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ