جسٹس فائز عیسیٰ کا رجسٹرار کو خط: ’لگتا ہے عدلیہ بٹی ہوئی ہے‘

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق ایک کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری ہونے کے بعد رجسٹرار کے نام ایک خط میں صدمے کا اظہار کیا ہے، جس پر قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ میں تقسیم نظر آتی ہے۔

(اے ایف پی)

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق ایک کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری ہونے کے اگلے روز (جمعے کو) رجسٹرار کے نام ایک خط میں صدمے کا اظہار کرتے ہوئے شکایت کی کہ انہیں مذکورہ فیصلے کی کاپی مہیا نہیں کی گئی۔

ہفتے کو منظر عام پر آنے والے رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ فیصلہ میڈیا اور ان سے جونیئر جج جسٹس اعجاز الحسن کو تو مل گیا لیکن بینچ کے رکن اور چیف جسٹس کے بعد سینیئر ترین جج کی حیثیت سے خود انہیں موصول نہیں ہوا۔ 

انہوں نے مزید لکھا کہ روایات کے مطابق کسی بینچ کے سربراہ جج کا لکھا گیا فیصلہ دوسرے سینیئر ترین جج کو بھیجا جاتا ہے۔ 

چند روز قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز مہیا کرنے کے حکم پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس کیس کی شنوائی چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کی تھی جبکہ جسٹس فائز عیسیٰ اس بینچ میں شامل تھے۔ 

اس کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد کے تحریر کردہ فیصلے میں لکھا گیا تھا کہ ’جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے، جو 2023 میں چیف جسٹس بننے جا رہے ہیں، مناسب نہیں کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف کوئی کیس سنیں کیونکہ انہوں نے عمران خان کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔‘ 

رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں جسٹس فائز عیسیٰ نے اس فیصلے سے متعلق سوالات اٹھائے: ’مجھے کاپی فراہم کرنے سے پہلے میڈیا کو کیسے دے دی گئی؟ فیصلہ میڈیا کو جاری کرنے کا آرڈر کس نے دیا؟  مجھ سے پہلے میڈیا کے ذریعے کیس کے فیصلے سے پوری دنیا کو پتہ چل چکا تھا۔ مجھے کیوں اس فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا موقع فراہم نہیں کیا گیا؟‘ 

 

قانونی ماہرین کی رائے 

پاکستان بار کونسل کے سابق رکن عابد ساقی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ خود سپریم کورٹ کے اپنے ایک اور فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کی رپورٹڈ ججمینٹ کے تحت کسی بینچ کا رکن اسی بینچ کے دوسرے رکن کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتا جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایسا کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو فیصلے کی کاپی فراہم کر دی جاتی تو زیادہ سے زیادہ وہ اس کی مخالفت میں کچھ لکھ دیتے، جس کی کوئی اہمیت نہ ہوتی اور اس سے  فیصلے میں کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔ 

عابد ساقی کے خیال میں ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں اختلافات پائے جاتے ہیں جو پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ، افسوس اور بدقسمتی کی بات ہے۔ 

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ اس خط کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی عدلیہ اس وقت بٹی ہوئی ہے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیلوں کی جانب سے حالیہ توڑ پھوڑ ثابت کرتی ہے کہ عدلیہ کو بحال کروانے والی وکلا برادری بھی ججز کو خاطر میں نہیں لاتی۔ 

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ کی تنظیم نو وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے پہلے بڑے بڑے اقدامات لینا پڑیں گے۔  

سوشل میڈیا 

رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھا جانے والا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا خط سب سے پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آیا، جس کے بعد ٹوئٹر اور دوسرے پلیٹ فارمز پر صارفین اس پر تبادلہ خیال کرتے نظر آئے۔ 

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی ریاض الحق نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’ایک عام پریکٹس ہے کہ فیصلے کی کاپی، جو میڈیا پر آتی ہے، وہ صحافی سائن سے پہلے لیتے ہیں، گرین رنگ کی ہوتی ہے، اس کا کلر تبدیل کر کے چلا دیتے ہیں ۔ کیا آج تک میڈیا جو غیر دستخط شدہ کاپیوں پر خبریں چلاتے رہے وہ متنازع سمجھے جائیں؟‘ 

فرحان میر نے ٹوئٹر پر پیغام دیا کہ جسٹس عیسیٰ کے خط کے بعد اب نظام کو بچانے کے لیے بار کونسلز کو کھل کرسامنے آنا اور اصولی موقف اپنانا ہو گا۔ 

ایک دوسرے ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں: ’سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ ویب سائٹ پر آ جاتا ہے اور بذریعہ ای میل بھی پی آر او میڈیا کو بھیجتے ہیں۔ اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے، ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔‘ 

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے، جو آج کل لندن میں مقیم ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط پر کہا: ’عدل و انصاف کے ممبر سے ہونے والے فیصلے جب انتشار کا باعث بننے لگیں تو یہ اکثر قوموں کے زوال کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ مستقبل کے چیف جسٹس کو اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے یوں آواز اٹھانی پڑ رہی ہے، یہ بحیثیت قوم ہمارے لیے اور خصوصاً موجودہ چیف جسٹس کے لیے بڑا لمحہ فکریہ ہے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان