جسٹس فائز عیسیٰ کو اپنا فون ہیک ہونے کا کیسے پتہ چلا؟

سپریم کورٹ کا ایک بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا موبائل فون ہیک ہونے کی تصدیق۔ معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  موجودہ چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کے بعد سپریم کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں(تصویر  سپریم کورٹ ویب سائٹ)

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا موبائل فون ہیک کر لیا گیا، جس کی تصدیق منگل کو عدالت عظمیٰ کے ایک بیان میں کی گئی۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا موبائل فون ہیک ہو گیا ہے، اس فون سے گمراہ کن پیغام رسانی ہوسکتی ہے، اس لیے ان کے موبائل فون نمبر سے کسی بھی قسم کی پیغام رسانی جعلی اور غلط تصور کی جائے۔‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’ان کے موبائل نمبر سے بھیجا گیا پیغام جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے منسوب نہ کیا جائے کیونکہ ہیکرز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا موبائل نمبر مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔‘ وہ موجودہ چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کے بعد سپریم کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں۔

ہوا کیا تھا؟

30 جنوری (ہفتے) کی شام اسلام آباد میں کئی وکیلوں، صحافیوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے چند مخصوص افراد کو موبائل فونز پر تحریری پیغام موصول ہوتا ہے، جس میں جسٹس عیسیٰ کا فون ہیک ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے۔

یہ پیغام بھیجنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود جسٹس عیسیٰ تھے، جو اپنے حلقہ احباب کو موبائل فون کے ہیک ہونے کی خبر دینا چاہتے تھے تاکہ ہیکرز کے بھیجے ہوئے پیغامات یا کالز کو بے اثر بنایا جا سکے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے منسلک اسلام آباد کے صحافی زاہد گشکوری بھی ان لوگوں میں شامل تھے، جنہیں جسٹس عیسیٰ کا مذکورہ پیغام ملا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں گشکوری کہا: ’مجھے جج صاحب کی طرف سے میسج ملا کہ ان کا فون ہیک ہو گیا ہے اور ان کے کسی میسج یا کال کا جواب نہ دیا جائے۔‘

گشکوری نے یکم فروری (پیر) کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام لیے بغیر ایک ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے ایک جج کے موبائل فون کے ہیک ہونے کی اطلاع دی۔

جسٹس عیسیٰ کی طرف سے دوست احباب کو پیغام بھیجے جانے کے اگلے ہی روز ٹوئٹر پر ایک پیغام نمودار ہوتا ہے، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی لگی لپٹی رکھے بغیر جج صاحب کا نام لے کر ان کا فون ہیک ہونے کی اطلاع دیتے ہیں۔

اس سوال پر کہ انہیں جسٹس فائز عیسیٰ کے موبائل فون ہیک ہونے کا کیسے علم ہوا؟ امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا: ’جج صاحب کا اور میرا ایک ہی صوبے (بلوچستان) سے تعلق ہے، مجھے تو پتہ چلنا ہی تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو نے کنرانی سے دریافت کیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کو موبائل فون کے ہیک ہونے کا خود کیسے پتہ چلا؟ تو انہوں نے بتایا: ’کچھ لوگوں کو جج صاحب کی طرف سے کچھ میسجز موصول ہوئے تھے، جو انہوں (جسٹس فائز عیسیٰ) نے نہیں بھیجے تھے اور انہیں بتایا گیا تو اس طرح انہیں پتہ چلا کہ فون ہیک کر لیا گیا ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کے اصرار کے باوجود کنرانی نے جسٹس فائز عیسیٰ کے ہیک ہونے والے فون سے بھیجے گئے پیغامات کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے موبائل فون ہیک ہونے کے معاملے پر تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سربراہ واجد ضیا کو مراسلہ ارسال کیا ہے۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کے لکھے گئے خط میں ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات اور ہیکنگ کی وجوہات جاننے کے لیے ٹیکنیکل ٹیم بنانے کا کہا گیا ہے۔

موبائل فون ہیکنگ ہے کیا؟

موبائل فون ہیکنگ کا مطلب عام طور پر صوتی پیغامات تک رسائی ہے، جو فون سروس کے ذریعے ان کے سرورز پر رکھے جاتے ہیں۔ کسی موبائل فون کی ہیکنگ اس فون سیٹ تک رسائی حاصل کیے بغیر کی جاتی ہے۔ ہیکرز عام طور پر ان لوگوں کے موبائل فونز ہیک کرتے ہیں جو اپنے فون سیٹ میں کمپنی کی طرف سے لگائے گئے پن نمبر تبدیل نہیں کرتے، یا عام سا پن کوڈ استعال کرتے ہیں۔ 

اسی لیے موبائل فون استعمال کرنے والوں کو کمپنی کی طرف سے لگایا گیا پن نمبر ضرور تبدیل، بار بار پن کوڈ تبدیل کرنے اور مشکل پن کوڈ رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان