ویلنٹائن ڈے: سعودی صحرا کی ریت میں گمشدہ محبت کی داستان

14 فروری کو جیسے ہی ویلنٹائن ڈے آتا ہے دنیا بھر میں اسے خوشی اور رومانوی طور پر منایا جاتا ہے تاہم سعودی عرب کے العلا صحرا میں پنپنے والی ایک رومانوی داستان دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔

4

العلا صحرا آج پہلے سے کہیں زیادہ مقامی افراد اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے (اے این/ فائل فوٹو)

14 فروری کو جیسے ہی ویلنٹائن ڈے آتا ہے دنیا بھر میں اسے خوشی اور رومانوی طور پر منایا جاتا ہے تاہم سعودی عرب کے العلا صحرا میں پنپنے والی ایک رومانوی داستان دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ روم کے سینٹ ویلنٹائن کو تیسری صدی کے دوران محبت کرنے والے جوڑوں کی خفیہ شادیاں کرانے پر سزا دی گئی تھی۔ قرون وسطی میں اس قربانی کی یاد میں 14 فروری کو محبت کا تہوار منانے کا رواج پڑا جو آج تک جاری ہے۔

اگرچہ سینٹ ویلنٹائن کی کہانی کو عرب دنیا میں محبت کی دیگر بہت سی داستانوں سے جوڑا جا سکتا ہے لیکن سعودی عرب کے صحرا العلا کی سرزمین جمیل ابن معمر اور بثینہ کی اس لازوال مبحت کی گواہ ہے جسے بیشتر لوگوں نے عشق ممنوع قرار دیا تھا۔

ساتویں صدی کے آخر میں مدینہ کے بنی ادھرا قبیلے سے تعلق رکھنے والے بدوی شاعر جمیل ابن معمر کو العلا کی ایک دوشیزہ بثینہ سے عشق ہو گیا تھا۔ اس عشق ممنوع میں مبتلا ہونے کے بعد جمیل ابن معمر نے غزلیہ شاعری کا آغاز کیا اور وہ اس شاعری کے انداز کے ایک علمبردار بن گئے۔

یہ اسلامی ادب کا ایک نیا دور تھا جب شاعری میں مبحت کا ذکر ملنے لگا۔ وہ اس دور کے بدوی قبائل پاکیزہ محبت کی شاعری کے لیے مشہور تھے۔

اپنے اشعار میں جمیل ابن معمر نے اتھرا قبیلے سے تعلق رکھنے والے بثینہ بنت حیان سے شدید محبت کا ذکر کیا۔

چھوٹی عمر ہی سے بثینہ کی خوبصورتی سے متاثر جمیل نے کئی سالوں تک ان کی تعریف میں کئی نظمیں لکھ ڈالیں۔ بہادر گھڑ سوار کو اپنی محبت اور اپنی تلوار پر فخر تھا۔ جمیل نے شادی کے لیے بثینہ کا ہاتھ مانگا لیکن اسے مسترد کر دیا گیا کیوں کہ بثینہ کی نسبت کسی اور شخص سے کر دی گئی تھی۔

اس انکار کے بعد محبت کے اس سپاہی نے ہتھیار نہیں ڈالے اور شاعری کے ذریعے وہ پاگل پن کی حد تک اپنی محبت کا اظہار کرتے رہے۔

وہ العلا کے نخلستان میں خفیہ طور پر ملتے تھے۔ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود جمیل کے لیے بثینہ کا پیار سچا تھا لیکن ان کی تمام التجائیں ناکام ثابت ہوئیں۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جمیل مصر کے لیے روانہ ہو گئے اور یہ جوڑا ہمیشہ کے لیے الگ ہو گیا لیکن ان کی محبت ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی جس کا ذکر جمیل کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہزاروں سال بعد یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ العلا کے صحرا سے ایک محبت کی کہانی یوں دنیا کے سامنے آجائے گی۔

فلسطین کے شاعر محمود درویش نے بھی محبت اور جدائی کی اس کہانی کو اپنی شاعری سے بیان کیا ہے۔

ایک سال قبل یہ کہانی اس وقت عالمی منظر نامے پر سامنے آئی جب عالمی شہرت یافتہ تھیٹر کمپنی کاراکالہ نے مرایا کنسرٹ ہال میں ’جمیل اینڈ بثینہ‘ کا العلا کے نخلستان سے محبت کا افسانہ پیش کیا۔

ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اس کہانی کو پرفارمنس، گانوں، موسیقی، رقص اور تھیٹر کے ذریعے زندہ کیا گیا۔ 

 اس سال بھی ویلنٹائن ڈے پر سعودی عرب کے ایک صحرا میں کھوئی ہوئی محبت کی انمول داستان کو یاد کیا جائے گا۔

(بشکریہ: عرب نیوز)

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین