عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر سری لنکن مسلم رہنماؤں کا گلہ

سری لنکا میں مسلم اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے تحریری درخواست بھیجی، لیکن حکومت نے ’سکیورٹی خدشات‘ کی بنا پر ملاقات کی اجازت نہیں دی۔

وزیراعظم عمران خان دور روزہ دورے پر منگل کو کولمبو پہنچے تھے(وزیراعظم مہندا رجاپکسے ٹوئٹر اکاؤنٹ)

سری لنکا کی مسلم کانگریس کے رہنماؤں نے منگل کو کہا ہے کہ ملک کے دور روزہ سرکاری دورے پر آنے والے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے سری لنکا کے15 ارکان پارلیمنٹ کی ملاقات کی درخواست سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر مسترد کی گئی۔

سری لنکا کے سابق وزیر اور مسلم کانگریس کے رہنما رؤقف حکیم نے ’عرب نیوز‘ کو بتایا ہے کہ 15 مسلمان ارکان پارلیمنٹ، جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے، نے پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کولمبو میں پاکستان کے سفارت خانے کے ذریعے تحریری درخواست بھیجی۔ لیکن ’بدقسمتی سے حکومت نے سکیورٹی خدشات کے بارے میں بتاتے ہوئے یہ درخواست مسترد کر دی۔‘

حکیم نے کہا: ’ہم عظیم مسلمان اور زندہ دل رہنما کو مسلمان برداری کے مسائل کے بارے میں بتانا چاہتے تھے۔ انہیں بتانا چاہتے تھے کہ سری لنکا میں کووڈ19میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے والے مسلمانوں کی تدفین کے بنیادی حق کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے سری لنکا کے مسلمانوں کو غم زدہ کر دیا ہے۔‘

سری لنکا کی حکومت نے کرونا (کورونا) وائرس میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے والے مسلمانوں کو اسلامی طریقہ کار کے مطابق دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں جلانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

سابق وزیر اور سری لنکن مسلم کانگریس کے رہنما رشاد بصیع الدین  نے منگل کو ’عرب نیوز‘ کو انٹرویو میں کہا کہ میتوں کو جلانے کے حکم نے سری لنکا کے مسلمانوں کو انتہائی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان کے بقول:  ’180 سے زیادہ ملک کووڈ19 سے متاثر ہو کر ہلاک ہونے والے کو دفن کر رہے ہیں لیکن سری لنکا کی حکومت  اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) جیسی بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی درخواستوں پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سری لنکا کی پارلیمنٹ  رکن مجیب الرحمان نے کہا کہ ملک میں مسلمان مسائل کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ مرنے سے نہیں بلکہ اس کے بعد میت کو جلا دیے جانے سے خوف زدہ ہیں۔

دوسری جانب عالمی امور کے ماہر ظفر جسپال نے خبردار کیا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ سری لنکا کو دوطرفہ تعلقات سے ہٹ کر نہ لیا جائے، ان کے مطابق یہ دورہ مسلم امہ کے لیے نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’عمران خان پاکستان کی نمائندگی کے لیے سری لنکا گئے مسلم امہ کی نمائندگی کے لیے نہیں۔ سری لنکا میں سنہالیوں اور بدھ مت سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہے جن کے مسلمانوں کے ساتھ کچھ عرصے سے مسائل چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ سری لنکا کی سنہالی قیادت کی حمایت کی ہے۔ ہمارے بہترین مفاد میں ہو گا کہ اہم سری لنکا کی داخلی لڑائی میں نہ پڑیں اور دوطرفہ معاملات کے دائرے کے اندر رہیں۔‘

سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے اتفاق کیا: ’پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تاریخی اور اچھے تعلقات چلے آرہے ہیں۔ ہم نے تاملوں کی شورش کے خلاف سری لنکا کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ ہم ہمیں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ کسی مسئلے میں پڑ کر اپنے دوستوں کے لیے مسائل نہیں پیدا کرنے چاہییں۔‘

وزیراعظم عمران خان دور روزہ دورے پر منگل کو کولمبو پہنچے تھے۔ سری لنکا کے وزیراعظم مہندا رجاپکسے نے ان کا استقبال کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا