’خوش قسمت ہیں کہ بچ گئے‘ :گولف ماسٹر ٹائیگر ووڈز کار حادثے میں زخمی

امریکی حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی جائے وقوعہ پر پہنچنے پر انہیں ٹائیگر ووڈز ہوش میں ملے مگر ان کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں تھی۔

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ریاست کیلی فورنیا میں پیش آنے والے بڑے حادثے کے بعد گولف کے کھلاڑی ٹائیگر ووڈز ’خوش قسمت ہیں کہ زندہ بچ گئے۔‘

امریکی حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی جائے وقوعہ پر پہنچنے پر انہیں ٹائیگر ووڈز ہوش میں ملے مگر ان کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں تھی۔

حکام کے مطابق جب وہ کیلی فورنیا کے علاقے رینچو پالو وردیس میں جائے حادثہ پر پہنچے تو 45 سالہ ٹائیگر ووڈز کی حالت ’تشویش ناک‘ تھی لیکن وہ ہوش میں تھے اور ان کے ساتھ بات چیت کر سکتے تھے۔

ووڈز کی کار ایک ڈھلواں اور بل کھاتی ہوئی سڑک پر نیچے کی طرف جا رہی تھی جب حادثے کا شکار ہو کر فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی اور پھر قلابازیاں کھاتی ہوئی جھاڑیوں اور درخت سے جا ٹکرائی۔ 

حادثے کے مقام سے 15 میٹر (50 فٹ) کے فاصلے پر رہنے والے ہمسائے نے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر 12 منٹ (تین بج کر 12 منٹ،جی  ایم  ٹی) پر 911 پر امدادی سروس کو فون کیا۔ سڑک کا وہ حصہ جہاں حادثہ پیش آیا وہ حادثوں کی وجہ سے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جینیسس جی وی80ایس یووی کار، جس میں ووڈز کا حادثہ ہوا، اس کے ایئربیگز کھل گئے۔ ووڈز نے یہ گاڑی اس ہفتے کے لیے کرائے پر لی تھی۔

آگ بجھانے والے محکمے کے سربراہ ڈیرل اوسبی نے کہا ہے کہ آگ بجھانے والا عملے نے ووڈز کو کار کی ونڈ سکرین کے راستے باہر نکالنے کے لیے مخصوص آلات اور کلہاڑی استعمال کیے۔

شیرف ایلکس ولانوا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو جائے حادثہ سے کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے لگے کہ منشیات یا شراب کے باعث ووڈز ’مکمل ہوش میں نہیں تھے۔‘

انہوں نے کہا:  ’اس وقت اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں سامنے آئے تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جائے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیرف نے کہا کہ اگر جینیسس جی وی80 ایس یو وی کا آگے والا اندرونی حصہ سلامت نہ رہتا تو یہ حادثہ مہلک ثابت ہوسکتا تھا

ان کے بقول:  ’کار کے اندر آگے والا حصہ سلامت تھا جس نے ایک طرح سے ان (ووڈز) کی جان بچانے میں مدد کی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سڑک پر بریک لگانے یا پھسلنے کے کوئی نشانات موجود نہیں ہیں اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ووڈز ’معمول کی نسبت زیادہ رفتار کے ساتھ جارہے تھے۔‘

انہوں نے کہا: ’سڑک کے درمیان بنی پٹی اور جہاں گاڑی جا کر رکی اس کے درمیان کئی فٹ کا فاصلہ ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ووڈز معمول سے نستباً زیادہ رفتار کے ساتھ جا رہے تھے۔ چونکہ یہ ڈھلوان ہے۔ سڑک نیچے کی طرف جاتی اور بل بھی کھاتی ہے اس لیے یہاں بہت زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔ یہ غیرمعمولی بات نہیں ہے۔‘

ڈپٹی شیرف کارلوس گونزالیز وہ پہلے افسر ہیں جو جائے حادثہ پر پہنچے اور بتایا کہ جب انہوں نے ووڈذ سے بات کی تو وہ ’پرسکون او ر ہوش وحواس‘ میں تھے۔

انہوں نے کہا: ’بدقسمتی سے ووڈز میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اپنے طور پر کھڑے ہو سکتے۔ ووڈز ڈرائیونگ سیٹ پر تھے۔ میں نے ان کے ساتھ رابطہ کیا اور اس امر کو یقینی بنایا کہ وہ میرے ساتھ بات کرنے کے قابل تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اس وقت وہ پرسکون اور ہوش وحواس میں دکھائی دیے۔ میں نے انہیں ایل کاؤنٹی فائر کے عملے کے آنے تک پرسکون رکھا۔ میں نے ان کے ساتھ بات کی اور ان کا نام پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا نام ٹائیگر ہے۔ اس لمحے میں نے انہیں فوری پر پہچان لیا۔‘

’میں نے یہ یقین دہانی کرنے کے لیے کہ ان کے حواس بحال ہیں ان سے پوچھا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ اب دن کا کیا وقت ہے؟‘

ڈپٹی شیرف کارلوس گونزالیز نے مزید کہا: ’ایسا دکھائی دیا کہ وہ پرسکون اور ہوش میں ہیں۔ وہ اس وقت اپنے زخموں کے بارے میں پریشان دکھائی نہیں دیے۔ ٹریفک حادثات میں ایسا ہوتا ہے کیونکہ لوگ شوک میں ہوتے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’یہ جھنجھوڑ دینے والا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ بات معمول کے مطابق ہوتی ہے کہ لوگ اپنی توجہ غیر اہم باتوں پر مرکوز ہوتی ہے، درد ہونے کے باجود وہ اسے محسوس نہیں کرتے۔ اس درد کا احاس انہیں خاصی دیر سے ہوتا ہے۔‘

ڈپٹی شیرف نے مزید کہا کہ سیٹ بیلٹ بندھی ہونے کی بدولت ووڈز کی جان بچ گئی۔ انہوں نے کہا: ’یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ وہ حادثے میں زندہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔‘

بعد میں ووڈز کو ہاربر۔یوسی ایل اے میڈیکل سنٹر منتقل کر دیا گیا کیونکہ یہ بھی ایک ٹراما سینٹر ہے۔

ووڈز کو نیشنل فٹ بال لیگ (این ایف ایل) کے کوارٹر بیکس ڈریو بریس اور جسٹن ہربرٹ کے ساتھ مل کر رولنگ ہلزکنٹری کلب میں دو ’تدریسی اسباق‘ ریکارڈ کروانے تھے۔

حکام نے بتایا ہے کہ یہ دیکھنے کے لیے کیا کہ ہوا ہے لوگوں نے گاڑیوں کی رفتار کم کر دی جس کی وجہ سے ایک اور حادثہ پیش آ گیا تاہم اس میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل