ایرانی عہدے دار کے ’بے بنیاد‘ الزامات پر پاکستان کا تہران سے رابطہ

ایرانی صوبے سستان بلوچستان کے نائب گورنر محمد ہادی مراشی نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ہفتے سرحد پر تیل سمگلروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان کا سکیورٹی اہلکار تافتان میں ایران۔پاکستان سرحد پر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے صوبے سستان بلوچستان کے نائب گورنر محمد ہادی مراشی کے ایک متنازع بیان کا معاملہ اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ساتھ اٹھایا ہے۔

نائب گورنر مراشی نے اپنے بیان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے تیل سمگلروں پر فائرنگ کی۔ تاہم پاکستان نے ان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ الزام حقیقت میں غلط تھا۔‘

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ گذشتہ ہفتے پاکستان کی سرحد سے متصل ایرانی صوبے سستان بلوچستان کے قصبے سراوان کے قریب پیش آیا تھا، جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔

اس واقعے کے بعد مراشی نے الزام لگایا کہ سرحد کے قریب تیل کے سمگلروں کے ایک گروپ پر فائرنگ کے واقعے میں پاکستانی فورسز ملوث تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز نے سمگلروں پر اس وقت فائر کھول دیا جب وہ واپس ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایران کے سینیئر عہدے دار کے ان الزامات کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے جمعے کو اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا: ’ہم اس بیان سے واقف ہیں جو حقیقت میں غلط ہے۔‘

’ہم نے ایران کے صوبے سستان بلوچستان کے نائب گورنر کے بیان کے بارے میں (اسلام آباد میں) ایرانی سفارت خانے کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے۔ یہ واقعہ ایران کی سرحد کے اندر پیش آیا تھا۔‘

عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی 900 کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان اس منصوبے پر دو کروڑ ڈالرز خرچ  کر رہا ہے۔

اس سرحد سے اکثر تجارت کے علاوہ پاکستان کے اقلیتی شیعہ مسلمان زیارتوں کے لیے ایران کا سفر کرتے ہیں لیکن یہ سرحد مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی آمد و رفت اور ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جس کو روکنے کے لیے حکام کئی دہائیوں سے کریک ڈاؤن کے ذریعے قابو پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا: ’اس قسم کے بد قسمت واقعات سے مقامی لوگوں کے لیے تجارتی مواقع بڑھانے کے لیے مزید باضابطہ طریقہ کار کی ضرورت کی توثیق ہوتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو امن و سلامتی کی مثال کے طور پر دیکھتا ہے۔ ’ہم ایرانی عہدے داروں کے ساتھ سرحد کے دونوں اطراف مقامی لوگوں کے لیے سرحد پار سے تجارت کو آسان بنانے کے طریقوں اور ذرائع پر تبادلہ خیال کرنے اور اپنی مشترکہ سرحد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے تہران سے پاکستان میں تیل سمگل کرنے کی کوشش کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ایرانی انقلابی گارڈز کی جانب سے طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچ کارکنوں کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ ایران کے انقلابی گارڈ کور نے بظاہر سمگلرز پر فائرنگ کرنے سے پہلے تیل کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی ایک سڑک کو بلاک کر دیا تھا اور وہ اسے دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس کارروائی کے بعد سستان بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت زاہدان میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایچ آر ڈبلیو ایران سے وابستہ محقق تارا سیپری فر نے کہا کہ ایرانی حکام کو چاہیے کہ وہ سراوان بارڈر پر فائرنگ کے واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔

انہوں نے کہا: ’ایرانی حکام کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو سزا دیں، متاثرین کو مناسب طور پر معاوضہ فراہم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرحدی محافظ لوگوں کی زندگی اور انسانی حقوق کے احترام کے لیے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے صوبے میں روزگار کے مواقع کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری کے باعث مقامی بلوچی آبادی کے پاس متبادل ذرائع کا فقدان ہے اور اسی وجہ سے وہ سرحد پار اپنے بلوچ ساتھیوں کے ساتھ غیر قانونی تجارت میں ملوث ہیں۔

نیویارک میں قائم ایچ آر ڈبلیو کے دفتر نے کہا: ’عراق میں آذربائجان کے مغربی صوبوں اور کردستان کی سرحد کی طرح، سستان بلوچستان میں بھی معاشی مواقعوں کی کمی کی وجہ سے بہت سے مقامی باشندے پاکستان کے ساتھ غیرقانونی طور پر سرحد پار تجارت میں ملوث ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا