یونان میں دو کروڑ سال پرانے درخت کی باقیات دریافت

محققین کے مطابق درخت کی لمبائی 20 میٹر ہے اور اس کی دریافت سے ماہرین کو علاقے کے ذیلی استوائی خطے میں تقریباً دو کروڑ سال پہلے موجود ماحول کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

(نیچرل ہسٹری میوزیم ۔ لزبوس)

سائنس دان یونان کے جزیرے لزبوس میں ایک فوسل شدہ درخت کی ’منفرد‘ دریافت کے حوالے سے بہت خوش ہیں جس کی شاخیں اور جڑیں ابھی تک سلامت ہیں۔

محققین نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ہے کہ درخت کی لمبائی 20 میٹر (65.6 فٹ) ہے اور اس کی دریافت سے ماہرین کو علاقے کے ذیلی استوائی خطے میں تقریباً دو کروڑ سال پہلے موجود ماحول کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

لزبوس میں پتھر میں تبدیل ہو جانے والے جنگل میں25 سال تک جاری رہنے والی کھدائی کے بعد پہلی بار اتنا محفوظ نمونہ دریافت ہوا ہے۔ یہ جنگل یونیسکو کا جیوپارک ہے۔

پتھر بن جانے والے جنگل میں کئی قسم کے قدیم درختوں کی سینکڑوں باقیات پائی جاتی ہیں اور حالیہ ہفتوں میں درختوں کے مزید150 کے قریب تنے دریافت ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایجیئن کے پروفیسرنکولس زوروس نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ہے کہ درخت کا نمونہ اتفاقاً دریافت ہوا۔ زمین پر سڑک تعمیر کیے جانے سے پہلے کسی کو یہاں ایک شاخ دکھائی دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر نکولس زوروس نے کہا:  ’ہمارے ہاتھ فوسل بننے کا غیر معمولی کیس لگا ہے جس میں درخت تقریباً اپنی تمام ساختوں کے ساتھ محفوظ پاپا گیا ہے۔‘

’دنیا بھر میں قدیم درختوں کی تاریخ میں یہ بہت انوکھی صورت حال ہے۔ مزید برآں یہ درخت آتش فشانی راکھ تلے دب گیا اورآتش فشاں پھٹنے کے دوران دوسرے مواد باہر نکل گئے۔ اس طرح اس درخت کا معاملہ مزید غیرمعمولی بن گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’جب ہمیں پتھر کی شکل اختیار کرنے والے کسی پودے کی باقیات ملتی ہیں تو عام طور پر بتایا آسان نہیں ہوتا کہ جڑوں، تنوں، شاخوں، پتوں یا پھل ہی کی باقیات کا تعلق کس درخت کے ساتھ ہے۔‘

’یہ پتھر کی شکل اختیار کرجانے والا ایسا منفرد درخت ہے جس کی بدولت ایجیئن کے علاقے میں دو کروڑ سال پہلے جنگلات کے تنوع کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ فی الوقت جاری کھدائی کے اختتام پر ہم درخت کی لکڑی پر تفصیلی تحقیق کریں گے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ وہ کون سادرخت ہے۔‘

قدیم درخت گذشتہ نومبر میں دریافت ہوا تھا اور کھدائی کا کام جنوری تک جاری رہا جس میں کرسمس کی چھٹیاں بھی شامل ہیں۔ پروفیسر زوروس نے مزید کہا: ’جب ہم نے دریافت کیا کہ شاخیں درخت کے بڑے تنے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں تو پوری ٹیم کو واقعی حیرت ہوئی۔‘

درخت کو 30 میٹر کے فاصلے پر خاص طور پر تیار کی گئی جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں لوگ اسے ایک محفوظ ماحول میں دیکھ سکیں گے۔

کھدائی کا کام نیچرل ہسٹری میوزیم آف پٹریفائیڈ فاریسٹ آف لزبوس کے طویل مدت کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ یہ کھدائی شاہراہ کلونی سگری کے ساتھ 20 کلومیٹر طویل علاقے میں ہو رہی ہے۔

پروفیسر زوروس نے کہا ہے کہ اب تک 15 اہم مقامات کی شناخت کی جا چکی ہے اورفوسلز اپنی جگہ موجود رہیں گے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ لزبوس میں ذیلی استوائی خطے کا جنگل ایک بڑا آتش فشاں پھٹنے سے تباہ ہو گیا تھا۔ اسی طرح جیسے 79بعد از مسیح پومپئی میں جنگل لاوے تلے دب گیا تھا۔

جنگل کی باقیات گارے کے نیچے دب جانے کے بعد ان کے پتھر میں تبدیل ہونے کا عمل شروع ہوا۔ یہ گارا شدید بارش کے نتیجے میں پیدا ہوا جس نے آتش فشانی راکھ اور دوسرے ملبے کو آپس میں ملا دیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا