کیا پوتن کا مستقبل خطرے میں ہے؟

پوتن کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سوویت یونین موجودہ روس سے زیادہ طاقتور ریاست تھی مگر معاشی بدحالی اور عوامی بے چینی کے سامنے یہ مضبوط ریاست بھی نہیں ٹھہر سکی۔

(اے ایف پی)

اگر کسی بڑے ترقی یافتہ ملک میں انسانی حقوق کی پامالی، اظہار رائے اور سیاسی آزادیوں پر پابندی دیکھنا ہو تو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ فورا روس کا نام سامنے آتا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے پر اور ایک پرتشدد جدوجہد کے بعد یہ امید تھی کہ روس میں جمہوریت اپنی جڑیں مضبوط کرے گی اور کروڑوں لوگ جو سوویت نظام کے تحت ایک بہت بڑی جیل میں نظر بندی کی سی زندگی گزار رہے تھے، آزادانہ ماحول میں اپنے سیاسی و سماجی معاملات طے کر سکیں گے۔ مگر صدر ولادی میر پوتن کے اقتدار میں آنے کے بعد روس بتدریج دوبارہ ایک پولیس ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

پوتن اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جب چاہیں آئین کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ اگر صدر بننے کی آئینی معیاد ختم ہوتی ہے تو وزیر اعظم بن جاتے ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد دوبارہ صدر بن جاتے ہیں۔ غرض پچھلے 22 سالوں سے وہ یہ سیاسی کھیل کامیابی سے کھیل رہے ہیں۔ حالیہ آئینی اصلاحات کے تحت وہ تکنیکی طور پر 2036 تک اقتدار پر قابض رہے سکتے ہیں۔

ان آئینی ریشہ دوانیوں کے علاوہ وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مخالف سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں پر عرصہ حیات تنگ بھی کیے ہوئے ہیں۔ ان کے دور میں کسی بھی انتخابی مشق کو شفاف اور دھاندلیوں سے پاک نہیں کہا جا سکتا۔ کسی بھی سیاسی مخالف کو مختلف الزامات پر پابند سلاسل کرنا پوتن کے روس میں ایک معمول سا بن گیا ہے۔

چونکہ پوتن صدر بننے سے پہلے سوویت دور میں جاسوسی ادارے کے جی بی کے ایجنٹ رہے ہیں تو انہیں ان ایجنسیوں کو بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا آتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے زیادہ تر مخالفین کو ملک دشمن اور سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے اور انہیں انہی الزامات پر تابعدار عدالتوں کے ذریعے مختصر سماعتوں کے بعد لمبی سزائیں دے دی جاتی ہیں۔ سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لیے پوتن کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں اور انہیں زہریلے مواد کے ذریعے بھی ختم کرنے سے نہیں چوکتے۔

ملکی وسائل پر ان کا اور ان کے حواریوں کا مکمل قبضہ ہے۔ ان کی دولت کے بارے میں بہت ساری کہانیاں روس میں زبان زد عام ہیں۔ حال ہی میں ان کے اربوں ڈالر کے ایک محل کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ غرض وہ پرانے روسی بادشاہوں کی طرح رہتے ہیں اور ان کے طویل اقتدار سے لوگوں کو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ روس میں زار بادشاہت دوبارہ قابض ہو گئی ہے۔ 

ایک تحقیق کے مطابق اس وقت روس کی 83 فیصد قومی دولت 10 فیصد لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور یہ قبضہ پوتن کے دور میں ممکن ہوا جب انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں اور حمایتیوں کو ان قومی وسائل پر قبضہ کرنے میں ریاستی مدد فراہم کی اور اہم قومی اثاثے ان حواریوں کو اونے پونے دام بیچ دیئے گئے۔

مخالفین کے خلاف روس میں جاری ان تمام سختیوں اور سیاسی جبر کے باوجود کچھ رہنما اور روسی عوام جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً سڑکوں پر نکلتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اس احتجاج میں اضافہ ہوا ہے اور روس کے دو دراز شہروں میں بھی جن کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے حکومت کے خلاف سخت ترین سرد موسم میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

تقریبا پانچ ہزار سے زیادہ شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پچھلے احتجاج میں عموما جوان لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی مگر اس دفعہ کے احتجاج میں تمام عمر کے روسی شامل ہیں۔

موجودہ احتجاج کی فوری وجہ روس میں بڑے پیمانے پر جاری بدعنوانی کے خلاف مہم کے نوجوان رہنما الیکسی نوالنی کی گرفتاری ہے۔ انہیں چار ماہ قبل مبینہ حکومتی ایما پر زہریلے مواد کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ کیونکہ یہ زہریلا مواد صرف حکومتی اداروں کے پاس ہوتا ہے اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ نوالنی کو پوتن حکومت نے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔

نوالنی جرمنی میں علاج کے بعد صحت یاب ہو کر واپس آئے تو ان سے معذرت یا ان کا علاج جاری رکھنے کی بجائے انہیں فورا گرفتار کر کے تابعدار عدلیہ سے ساڑھے تین سال جیل کی سزا سنا دی گئی۔ نوالنی نے وطن واپسی سے تھوڑی دیر پہلے پوتن کے ایک محل کی ویڈیو جاری کی جس پر مبینہ طور پر اربوں ڈالر خرچ کئے گئے۔

نوالنی کے مطابق یہ محل پوتن کے سرمایہ دار دوستوں نے انہیں تحفے کے طور پر دیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ پوتن نے نوالنی کی گرفتاری کے احکامات کسی جائز قانونی وجہ کی بجائے ذاتی مخاصمت کی وجہ سے جاری کیے۔

نوالنی کی گرفتاری اور اس کے بعد بڑی پیمانے پر جاری احتجاج نے پوتن حکومت کے لیے سیاسی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ روس کو 2014 سے مغربی پابندیوں کا سامنا ہے جس نے اس کی معیشت کو کافی کمزور کیا ہے۔

کرونا (کورونا) وبا کے دوران روسی معیشت کو مزید نقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ روس کی زیادہ تر آمدنی تیل و گیس کی برآمد پر منحصر ہے اور اس میں کرونا بحران کے دوران شدید کمی سے نہ صرف روسی حکومت کے لیے مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس نے عام روسی شہریوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

کرونا بحران کے دوران عوام حکومت کی کارکردگی سے بھی کافی نالاں ہیں کیونکہ ان مشکل حالات میں ریاست ان کی مالی امداد کرنے کے لیے آگے نہیں آئی۔ کرونا وبا کے دوران روس میں غربت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور عام عوام کی قوت خرید میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بحران کے دوران بے روزگاری میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور معیشت میں 11 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت تقریبا دو کروڑ روسی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا تقریبا 13 فیصد ہے۔ نوالنی کی حراست نے ان غیر مطمئن شہریوں کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ وہ حکومتی جبر اور اپنی معاشی مشکلات کے خلاف آواز بلند کریں۔

یہ ممکن ہے کہ پوتن ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے پہلے کی طرح اس دفعہ بھی عوامی احتجاج کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں اور اس وقت ان کی اقتدار پر گرفت بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ مگر کچھ شواہد بتا رہے ہیں کہ روسی عوام اب ان کے چہرے سے تھکے ہوئے نظر آنے لگے ہیں۔

تقریبا 22 سال کی مطلق العنان حکومت نے بڑی تعداد میں روسیوں کو مایوس کر دیا ہے اور یہ احتجاج دبانے کے باوجود کسی وقت بھی دوبارہ اٹھ سکتا ہے۔

پوتن کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سوویت یونین موجودہ روس سے زیادہ طاقتور ریاست تھی مگر معاشی بدحالی اور عوامی بے چینی کے سامنے یہ مضبوط ریاست بھی نہیں ٹھہر سکی۔ پوتن کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ احتجاج صرف نوالنی کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ یہ عوام کا اپنے خراب ہوتے اقتصادی حالات اور اقتدار پر قابض اشرافیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے۔

اس لیے اگر نوالنی کو راستے سے ہٹا بھی دیا جاتا ہے تو یہ موجودہ بےچینی کا حل نہیں ہے۔ ہمسایہ ملک بیلاروس میں جاری عوامی احتجاج بھی روسی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے حوصلہ اور ہمت مہیا کر سکتا ہے۔

اگرچہ ابھی مغربی ممالک نے مزید معاشی پابندیوں کا اعلان تو نہیں کیا ہے مگر احتجاج کی شدت میں اضافہ اور حکومت کا اس سے پرتشدد طریقے سے نمٹنا روس کے لیے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

امریکہ میں صدر کی تبدیلی بھی پیوتن کے سیاسی مسائل میں پیچیدگی لا سکتا ہے۔ صدر جو بائیڈن بین الاقوامی مالی بدعنوانیوں کے خلاف مقابلے کو امریکہ کے لیے بنیادی قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ پوتن کے حواریوں کے مغربی ممالک میں اثاثوں کے خلاف ایکشن لیں جس کی وجہ سے پوتن کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کے بارے میں سوچنا پڑے۔ اگر احتجاج میں حکومتی سختیوں کے باوجود شدت آتی ہے تو شاید یہ پوتن عہد کے اختتام کی ابتدا ثابت ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ