’یہ رات ای میل پر ہی ہو سکتی تھی؟‘: ورچوئل گولڈن گلوبز کا احوال

کرونا وبا پھوٹنے کے ایک سال بعد اتوار کو 78ویں سالانہ گولڈن گلوبز ایوارڈز پابندیوں کا خیال رکھتے ہوئے امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحل سے  براہ راست نشر ہوئے جن کی میزبانی کامیڈین ٹینا فے اور ایمی پولھر نے کی۔

چوتھی بار ایواڈز کی میزبانی کرنے والی ٹینا فے اور ایمی پولھر نے ایک دوسرے کے ساتھ بہترین پرفارم کرتے ہوئے یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ دنوں ایک دوسرے سے تین ہزار میل دور سے ایک ساتھ شو کی میزبانی کر رہی تھیں۔ (بذریعہ روئٹرز)

گولڈن گلوبز کے اتوار کو تین گھنٹے لمبے براڈکاسٹ میں میزبان ٹینا فے نے پہلے 10 منٹ میں ہی مشکل سوال پوچھ لیا: کیا یہ پوری رات ایک ای میل ہی ہو سکتی تھی؟ ہو تو سکتی تھی۔

مگر پھر ہمیں ڈینیئل کلویا کی ایوارڈ قبول کرتے تقریر میں عجیب خلل دیکھنے کو نہ ملتا، ڈون چیڈل کا جیسن سوڈیکس کو تقریر ختم کرنے کا اشارہ کرتے دیکھنے کو نہ ملتا یا پھر کیتھرین او ہارا کے شوہر کا انہیں مزاحیہ انداز میں آئی فون پر میوزک سناتے دیکھنے کو نہیں ملتا۔

ہمیں چیڈوک بوزمین کی اہلیہ ٹیلر سیمون لیڈورڈ کے ساتھ ان کی یاد میں رونے کا موقع بھی نہ ملتا، ایوارڈ جیتنے والے مارک روفالو کے بچوں کو ان کے پیچھے فخر سے کھڑے دیکھنے کا موقع نہ ملتا اور نہ ایتھن ہاک کے بچوں کو ان کے ساتھ یکجہتی میں بیٹھے دیکھنے کا۔  

اتوار کو 78ویں سالانہ گولڈن گلوبز ایوارڈز وبا پھوٹنے کے ایک سال بعد پابندیوں کا خیال رکھتے ہوئے  امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحل سے  براہ راست نشر ہونے کی وجہ سے ہی مشکلات کا شکار نہیں تھے۔ بلکہ اس سے ایک ہفتہ قبل ان ایوارڈز کی منتظم ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن (ایچ ایف پی اے) کے حوالے سے ’لاس اینجلس ٹائمز‘ اور ’نیو یارک ٹائمز‘ میں چھپنے والی  ایسی خبروں سے بھی متاثر تھے جن میں یہ سامنے آیا کہ 87 اراکین پر مبنی اس تنظیم میں ایک بھی رکن سیاہ فام نہیں۔

 

ایوارڈز کی رات کا سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا تنظیم اس معاملے پر بات کرے گی یا نہیں۔ میزبان ٹینا فے اور ایمی پولھر نے کہا اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ تنظیم کے تین اراکین نے سٹیج پر آ کر یہ کہا بھی کہ وہ اس کو بدلنے کے خواہش مند ہیں۔ مگر ایونٹ کے ریموٹ اور آن لائن ہونے کی وجہ سے انہیں تنازع سے اپنے طریقے سے نمٹنے کا موقع مل گیا۔  

شو کے لیے تو یہ اچھا ہوگیا مگر ناظرین کے لیے نہیں۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کسی عام سال میں تو  ریڈ کارپٹ پر ہر مہمان اور ایوارڈ کے لیے نامزد فن کار سے اس معاملے پر سوال کیا جاتا، مگر اس بار ایسا نہ ہو سکا۔ ایچ ایف پی اے کو اپنے معاملات درست کرنے کے لیے ایک اور سال مل گیا۔

’نومیڈ لینڈ‘ کی ہدایت کار کلویی زاو 1984 میں بابرا سٹرائٹسینڈ کے بعد بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ جیتنے والی دوسری خاتون بن گئیں۔ گذشتہ سال انتقال کرنے والے چیڈوک بوزمین بھی جیتے۔

مگر جیسے جیسے رات بڑھتی گئی ویسے ویسے تکنیکی مسائل مزید موڈ خراب کرنے والے ہوتے گئے اور کئی جیتنے والوں کی ویڈیو کو وقت سے پہلے ہی کاٹ دیا گیا۔ ’دا کراون‘ کے سٹارز کے ساتھ خاص طور پر ایسا ہوا۔

 

چوتھی بار ایواڈز کی میزبانی کرنے والی ٹینا فے اور ایمی پولھر نے ایک دوسرے کے ساتھ بہترین پرفارم کرتے ہوئے یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ دنوں ایک دوسرے سے تین ہزار میل دور سے ایک ساتھ شو کی میزبانی کر رہی تھیں۔

فاتح کون رہے؟

بہترین فلم ڈراما کی کیٹیگری میں ’نومیڈلینڈ ‘ اور بہترین فلم کامیڈی یا میوزیکل کی کیٹیگری میں ’بورات سبسیکوئنٹ مووی فلم‘  جیتی۔

اسی طرح بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ کلویی زاو کو گیا اور بہترین سکرین پلے کا ایوارڈ فلم ’دا ٹرائل آف شیکاگو سیون‘ کے لیے ایرن سورکن کو ملا۔

 

فارن لینگویج کیٹیگری میں فلم ’میناری‘ کامیاب رہی۔

ڈارما فلم میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ’یونائٹڈ سٹیٹس ورسز بلی ہالیڈے‘ کے لیے اینڈرا ڈاے کو ملا، جبکہ بہترین اداکار ڈارما کا ایوارڈ چیڈوک بوزمین کو ’ما رینیز بلیک بوٹم‘ کے لیے دیا گیا، جو ان کی بیوہ نے قبول کیا۔

میوزیکل یا کامیٹی میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ روزامنڈ پائک کو فلم ’آئی کیئر اے لوٹ‘ کے لیے ملا جبکہ اسی کیٹیگری میں اداکار ساشا بیرن کوہن کو ’بورات سبسیکوئنٹ مووی فلم‘ کے لیےملا۔  

بہترین ٹی وی سیریز ڈراما کا ایوارڈ  ’دا کراون‘ کو ملا، اور بہترین ٹی وی سیزیز کامیڈی یا میوزیکل ’شٹس کریک‘ کو گیا۔

ٹی وی سیریز ڈراما میں بہترین ادارکار کا ایوارڈ ’دا کروان‘ کی ایما کورن کو ملا، جنہوں نے لیڈی ڈیانا کا کردار نبھایا ہے۔ اسی کیٹیگری میں ان کے ساتھ شہزادہ چارلس کا کردار کرنے والے جاش او کونر کو بہترن اداکار کا ایوارڈ ملا۔

ٹی وی سیریز کامیڈی یا میوزیکل میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ’شٹس کریک‘ کی کیتھرین او ہارا کا ہوا اور بہترین اداکار کا ایوارڈ ’ٹیڈ لیسو‘ کے لیے جیسن سوڈیکس کو ملا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن