پی ٹی آئی میں اختلاف کا سبب بننے والا سینیٹر بلوچستان سے کامیاب 

عبدالقادر جنہیں پہلے پاکستان تحریک انصاف نے ٹکٹ جاری کیا تھا (پی ٹی ویل/ سکرین گریب)

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات جہاں مرکزی سطح پر بڑی تبدیلیوں کا باعث بنے وہیں بلوچستان سے ایک ایسا سینیٹر بھی کامیاب ہوا ہے جنہیں پاکستان تحریک انصاف نے پہلے ٹکٹ جاری کیا اور پھر واپس لے لیا۔

ان سے پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے شدید احتجاج کے باعث ٹکٹ واپس لیا گیا تھا تاہم وہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ کر سینیٹر بن گئے ہیں۔ 

یہاں عبد القادرکی بات کی جا رہی ہے جن پرالزام ہے کہ وہ ایک پیراشوٹر ہیں اور بلوچستان کے باشندے بھی نہیں۔ تاہم وہ اس سب کی تردید کرتے ہیں۔

انہوں نے کامیابی کے بعد سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سکینڈل کی وجہ نہیں، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ بات کرے، وہ یہاں کے باشندے ہیں۔ 

عبدالقادر جنہیں پہلے پاکستان تحریک انصاف نے ٹکٹ جاری کیا تھا لیکن کارکنوں کے شدید احتجاج اور صوبائی صدر سردار یار محمد رند کی ناراضگی کے باعث یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ 

عبدالقادر نے بعد میں آزاد حیثیت سے جنرل نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جو منظور کر لیے گئے اور ان کی جگہ بلوچستان سے پی ٹی آئی نے اپنے ایک کارکن سید ظہورآغا کو ٹکٹ جاری کیا۔  

انتخابات سے قبل ڈرامائی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب پی ٹی آئی نے بھی اپنے امیدوار کو دستبردار کرا دیا اور پولنگ سے ایک دن قبل وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے وفد کے ہمراہ جاکر پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کو آزاد حیثیت سے کھڑے ان کے بیٹے کو دستبردار کرانے پر راضی کرا لیا۔ 

دوسری جانب تجزیہ کار سینیٹ کے حالیہ انتخابات کو بھی سابقہ ادوار سے مختلف نہیں سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس بار بھی اسی طرح ’پیسہ اپنا کام دکھاتا رہا جیسے ماضی میں ہوتا رہا ہے۔‘ 

سینیئرتجزیہ کار اور سیاسی امور کے ماہر شہزادہ ذوالفقار کے بقول سینیٹ کے انتخاب میں عبدالقادر کا بڑا کمال رہا ہے۔ وزیراعظم نے ٹکٹ دیا واپس لے لیا لیکن وہ ثابت قدم رہے، آزاد کھڑے رہے۔ انہیں کامیاب کرنے میں ٹکٹ لینے اور نہ دینے والے دونوں سرگرم رہے۔ آخر کار وہ سینیٹر بن گئے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہزادہ ذوالفقار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس بار ایک تاریخ رقم ہوئی کہ ایک امیدوار اپنے بل بوتے پر کھڑا ہوا۔ ماضی میں لوگ جماعتوں کے پاس جاتے شمولیت کرتے لیکن اس بار سیاسی جماعتیں امیدوار کے پاس گئیں۔ کیوں کہ انہیں پتہ تھا کہ انہیں سب کچھ وہاں سے ملے گا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ’شاید عبدالقادر سے بڑا کام لینا چاہتے ہیں، شاید اس لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی گئیں اور بلوچستان کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کو اپنے ہی بیٹے کو بٹھانے پر قائل کیا گیا۔ اگر وہ ڈٹے رہتے تھے تو شاید یہاں کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔‘ 

محمد عبدالقادر کو نو ووٹ ملنے کا امکان تھا لیکن وہ 11 ووٹ لے گئے۔

شہزادہ ذوالفقار کے مطابق اگر سات ووٹ پی ٹی آئی اور سردار یار محمد اور میر اسرار زہری دستبردار نہ ہوتے تو اے این پی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدواروں کے لیے کامیابی ممکن نہ رہتی۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبدالقادر نے 11 ووٹ حاصل کرنے کے لیے پیسے کا استعمال نہیں کیا بلکہ اس نے پہلے ہی سب بندوبست کر رکھا تھا۔ 

واضح رہے کہ بلوچستان میں باہر سے سینیٹ کے نشست کے لیے باہر سے آنے والوں کی تاریخ  رہی ہے۔ اس سے قبل کراچی کے اکرم ولی محمد، صنعت کار 2013 میں آئے  اور منتخب ہوئے۔ یوسف بلوچ ، صدرالدین ہاشوانی، زرات خان بھی شامل رہے ہیں۔ 

مبصرین نے اس بار سینیٹ کے انتخابات میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے کردار کا کم محسوس کیا۔

شہزادہ  ذوالفقار کے بقول اس بار وزیراعلیٰ جام کمال نے معاملات کو باہر رکھا اور انہوں نے صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ 

ثمینہ ممتاز بھی اس بار بھی منتخب ہوئی ہیں۔ جن کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ کراچی میں وکیل رہ چکی ہیں۔ امریکہ سے تعلق حاصل کی ہے۔ 

شہزادہ سمجھتے ہیں کہ پڑھی لکھی خواتین کے آنے سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ خواتین کے حوالے سے کوئی کام کریں گی۔ 

محمد عبدالقادر کون ہیں؟ 

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے محمد عبدالقادر کے والد کی سپیئر پارٹس کی دکان تھی اور وہ کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

عبدالقادر نے ابتدا میں کوئٹہ سے کاروبار کا آغاز کیا۔ ٹھیکیداری کی، پھر کچھ عرصے کے بعد ایاز مندوخیل جو سینیٹر ہیں کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ جو خود بھی کاروباری شخصیت ہیں۔

اسلام آباد میں عبدالقادر نے پیسہ کمایا اور بلڈر بنے، زمینوں کا کاروبار کرتے ہیں، سٹیٹ ایجنٹس رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ہاؤسنگ سکمیں وغیرہ بنائیں۔

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ عبدالقادر کی طرح موجودہ چیئرمین سینیٹ بھی متوسط  طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے یہ بھی پیسے والے لوگ نہیں رہے۔

ملکی سیاست پر بلوچستان کا اثر ہمیشہ سے رہا ہے۔ شہزادہ ذوالفقار کا ماننا ہے کہ اس بار صادق سنجرانی کی نامزدگی تو ہو گئی ہے لیکن ان کے سامنے مضبوط کھلاڑی موجود ہیں۔ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو میرے خیال میں کوئی بڑا کام کر جائیں گے۔ 

پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہوگا؟

سیاسی جماعتیں جو فیصلہ کرتی ہیں انہی کہ بنا پر ان کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے۔ شہزادہ ذوالفقاربھی سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا بھی کچھ بہتر مستقبل نظر نہیں آتا کیوں کہ یہ پارٹی بھی وہ کچھ نہ کرسکی جس کی دعویدار رہی ہے۔ 

’اگر ہم دوسری جماعتوں کو بھی دیکھیں تو پاکستان پیپلز پارٹٰی میں کتنے نظریاتی لوگ رہ گئے ہیں۔ چند لوگ رہ گئے جیسے صادق عمرانی، جمال جوگیزئی، سیف اللہ پراچہ، وغیرہ ہیں۔‘ 

وہ کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت چلی جاتی ہے تو سرداریار محمد رند ان کے ساتھ رہیں گے۔ دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ سینیٹ کے انتخابات میں ان کی شکست کی وجہ بھی ’ناقص‘ کارکردگی رہی ہے۔ 

تنقید اور الزامات کے باوجود نومنتخب سینیٹر محمد عبدالقادر کہتے ہیں کہ وہ بلوچستان کی ترقی اور یہاں کے عوام کے لیے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست